مثبت ترین نظریہ ضرورت: بحران ٹل گیا

مثبت ترین نظریہ ضرورت: بحران ٹل گیا
مثبت ترین نظریہ ضرورت: بحران ٹل گیا

  



نظریہ ضرورت کے حوالے سے آج تک جسٹس منیر والے فیصلے ہی کی بات کی جاتی ہے، جس کے اثرات گزشتہ روز تک بھی محسوس کئے جاتے تھے،لیکن چیف جسٹس مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے جو فیصلہ دیا۔اگرچہ معنوی اعتبار سے یہ بھی نظریہئ ضرورت ہی کہا جا سکتا ہے، تاہم عملی طور پر فاضل فل بنچ نے اس پرانے نظریہئ ضرورت کو دفن کر دیا ہے،اور یہ ایک ایسا مثبت فیصلہ ہے،جس نے ایک بڑے بحران کو ٹال دیا ہے۔مَیں اسے اس نظر سے دیکھتا ہوں اور یہ ایک حقیقت بھی ہے، جو حقائق عدالت کے روبرو آئے ان کی رو سے یہ حقیقی بحران تھا کہ سماعت اس آخری روز تک تھی، جب چیف آف آرمی سٹاف کی اس مدتِ ملازمت کا آخری روز تھا، جو ان کو تین سال پہلے تقرری کی صورت میں دی گئی تھی،اگر فیصلہ انہی سمریوں اور حکومتی ٹیم کی کار گذاری کی رو سے ہوتا تو پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہ دی جاتی اور وہ آج ریٹائر ہو چکے ہوتے،چونکہ ان کی نہ تو کوئی دوسری تقرری کی سفارش کی گئی تھی اور نہ ہی 1988ء کی طرح کوئی ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف تھے کہ کمانڈ کنٹرول از خود منتقل ہو جاتا، اگر مزید غور کیا جائے تو نئی تقرری بھی مشکل ترین مرحلہ بن جاتا کہ انہی مسائل، رکاوٹوں اور آئینی و قانونی خامیوں کی بناء پر ہی توسیع یا تقرری والی سمری مسترد ہوتی اور یہ سب نئی تقرریوں میں حائل ہوتی، فاضل بنچ نے ایک مثبت ترین نظریہ ضرورت کے تحت اس بحران کو ٹلا دیا اور بال منتخب اراکین کی کورٹ میں پھینک دی ہے، اب یہ پوری قومی اسمبلی اور سینیٹ کا امتحان ہو گا کہ وہ سب پورے خلوص کے ساتھ باہمی تعاون سے غور کر کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں قانون سازی کر لیں، جو ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کر دے جو اب پیش آئیں۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ نیت کا معاملہ ہے اگر ارادہ ہو اور واقعی ملک کا اندرونی استحکام مقصود ہے تو پھر اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں کہ حکومت کی وزارتِ قانون و پارلیمانی امور اپنی سمجھ بوجھ اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں جلد مسودہ قانون مرتب کر کے قومی اسمبلی میں پیش کرے جسے مجلس قائمہ کے سپرد کیا جائے۔ یقینا یہ مسئلہ پاک فوج سے متعلق ہے تو مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ مسودہ قانون کے مختلف پہلوؤں پر رائے میں اختلاف ہو سکتا ہے اسے بھی قومی جذبے کے تحت ہی حل کرنا ہو گا۔میری تو یہی گذارش ہو گی کہ مجلس قائمہ کے پاس جب یہ بل آئے تو وہ غیر رکن ماہرین آئین و قانون سے بھی مشورہ کرے اور ایک مربوط قانون منظور کیا جائے،جس کے قواعد پر بھی ساتھ ہی ساتھ غور کر لیا جائے، چھ ماہ تو بہت مدت ہے یہ سب باہمی اتفاق ہو تو ایک ماہ میں ہو سکتا ہے اور یوں مزید کسی بحران یا رکاوٹ کی گنجائش نہیں رہتی۔

قومی اتفاق رائے کے حوالے سے میری سوچ ہمیشہ مثبت رہی اور مسلسل درخواست بھی کی کہ جو متفقہ نکات ہیں ان کو تو طے کر لیا جائے اور پھر پارلیمینٹ کے فورم کو مضبوط کیا جائے، بدقسمتی سے اب تک ایسا نہیں ہو پایا اب عدالت عظمیٰ نے براہِ راست معاملہ پارلیمینٹ کے حوالے کیا ہے تو پارلیمینٹ کو بھی فعال کرنا ہو گا۔ یہ فعالیت کسی ایک فریق سے ممکن نہیں اس کے لئے ان تمام جماعتوں اور آزاد اراکین کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،جو پارلیمینٹ میں نمائدگی کے حامل ہیں،اس سلسلے میں حزبِ اقتدار کا کردار اولیت رکھتا ہے، بلکہ اس کی طرف سے پہلی اینٹ رکھنے کا مسئلہ ہے، پارلیمانی طرزِ جمہوریت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ سب معاملات پارلیمینٹ میں طے ہوتے ہیں اور اس نمائندہ فورم کے اجلاسوں کے لئے دن نہیں گننا چاہئیں،بلکہ تواتر سے اجلاس منعقد کر کے مسائل حل ہوں، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان جو قائد حزبِ اقتدار ہیں،کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا کہ وہ نہ صرف پارلیمینٹ کو اہمیت دیں،بلکہ ازخود اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھائیں تاکہ منتخب ایوانوں میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو،جس میں ملکی مفاد اور عوامی بہبود کے فیصلے متفقہ طور پر ہو سکیں، جہاں تک عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے غالباً ارادتاً ایک اور سہولت بھی دی گئی ہے کہ آرٹیکل243 میں ترمیم کی ہدایت نہیں کی گئی،بلکہ اس آرٹیکل کے تحت نئی قانون سازی کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ بھی بہت بڑی حمایت(فیور) ہے کہ آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور اب جو بھی ہونا ہے وہ243 کی روشنی میں قانون سازی ہے جو سادہ اکثریت سے ممکن ہو گی۔مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی اور خامیاں دور ہو جائیں گی اور مستقبل میں بھی تقرر، تعیناتی اور مراعات کے حوالے سے بھی کوئی اختلاف نہیں ہو گا،اب یہ معاملہ مستقل طور پر حل ہو جائے گا۔

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ حالات حاضرہ میں ہمیں سیاسی محاذ آرائی کی نہیں، بھائی چارے کی ضرورت ہے،اس کے لئے خود وزیراعظم عمران خان کو بدلنا ہو گا، ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ جمہوریت اور وہ بھی پارلیمانی جمہوریت میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں اور دو پہیوں ہی سے گاڑی چلتی ہے، لہٰذا یہ جو گالی گلوچ اور بہتان بازی کا کلچر ہے، اسے تبدیل کرنا ہو گا،اختلاف کو مخالفت یا دشمنی نہیں اختلاف تک ہی رہنے دینا ہو گا، تبھی مسائل حل ہوں گے۔

یہ بحران تو عدالت عظمیٰ نے حل کر دیا،اسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اگرچہ بے شمار حضرات وہ ہیں جو چاہتے تھے کہ فاضل فل بنچ حکومت کو نااہل قرار دے کر فارغ کر دے ایسا نہیں کیا گیا اور اسی وجہ سے یہ مشکل مرحلہ طے بھی ہو گیا، اب سیاست اور سیاست دانوں کا امتحان ہے،جن کو اس میں پورا اترتا ہے۔ افسوس ہوا کہ فیصلے کے بعد اس کی روح کو نہیں دیکھا گیا اور پھر الزام تراشی ہوئی، اور ان معاملات کو اُچھالا گیا جو عدالتوں میں ہیں۔ یہ مناسب نہیں کہ بڑی عدالت پر اعتماد کہ آپ کا فائدہ ہوا، اور دوسری کے بارے میں مرضی کی رائے، غیر مناسب عمل ترک کریں۔

مزید : رائے /کالم