ہیجان خیز تین دن: نئی تاریخ رقم ہو گئی

ہیجان خیز تین دن: نئی تاریخ رقم ہو گئی
ہیجان خیز تین دن: نئی تاریخ رقم ہو گئی

  



تین دن کے ہیجانی مد و جذر کے بعد سپریم کورٹ نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوبارہ تقرری کے کیس کو اس خوبصورتی سے نمٹایا کہ ہر طرف اطمینان و سکون کی لہر دوڑ گئی،چھ ماہ کے لئے قانون سازی کا وقت بھی دیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع کر دی۔ وہ تمام خدشات دم دوڑ گئے،جو اس حوالے سے ذہنوں میں گردش کر رہے تھے کہ توسیع کی اجازت نہ ملی تو 29 نومبر کو کیا ہو گا؟حکومت کی قانونی ٹیم کو بلاوجہ رگڑا جا رہا ہے۔ حقیقت تو بعد میں کھلی کہ توسیع یا تقرری کا کوئی قانون ہی سرے سے موجود نہیں،ظاہر ہے سمری اسی طرح بنائی گئی جیسے ماضی میں بنائی جاتی رہیں۔ اُس تسلسل میں توسیع ہو جاتی تو کسی نے پوچھنا بھی نہیں تھا، درمیان میں آ گئی سپریم کورٹ کی پٹیشن اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے 184 کے تحت کارروائی کا فیصلہ۔ جب معاملہ عدالت نے اپنے ہاتھ میں لیا تو عقدہ کھلا کہ جو سمری پیش کی گئی ہے، اس میں تو آئین کی شق کا حوالہ ہی نہیں، حتیٰ کہ آرمی ایکٹ بھی خاموش ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کو توسیع کیسے دی جا سکتی ہے؟ پھر جو تین روز ہیجان خیز قانونی دور چلا اُس نے پوری قوم کے اعصاب شل کر دیئے۔جب دوسرے دن شام کو سپریم کورٹ کے فاضل بنچ نے کہا کہ ہم نے جو تین سوال اٹھائے ہیں،کل اُن کا جواب دیں۔عدالت مطمئن نہ ہوئی تو اس تقرری کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا، تب لگا کہ کوئی سانحہ ہونے جا رہا ہے، کیونکہ ان سوالوں کا جواب تو حکومت کے پاس تھا ہی نہیں جو اٹھائے گئے تھے۔ جب قانون اور آئین ہی ایک معاملے میں خاموش ہوں تو کوئی جواب کیسے دیا جائے؟اچھا ہوا کہ کچھ نرمی عدالت نے دکھائی اور کچھ حامی حکومت نے بھری، جس پر یہ درمیانی راہ نکالی گئی کہ فی الوقت آرمی چیف کو توسیع دے دی جائے اور ایک مقررہ مدت میں حکومت پارلیمینٹ کے ذریعے اس حوالے سے قانون سازی کرے،آرمی ایکٹ میں جو ترامیم درکار ہیں، وہ بھی کی جائیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں آیا، وگرنہ تو یہ سب کچھ بالا بالا ہی ہو جاتا تھا۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ آرمی چیف ملک کے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس بُلا لیتا تھا۔اُس سے مستعفی ہونے کو کہتا تھا، اب قانون کی حکمرانی اس حد تک آ گئی ہے کہ آرمی چیف کی قسمت کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا ہے۔ اس میں کریڈٹ فوج کی قیادت کو بھی جاتا ہے کہ اُس نے اسے اپنی اَنا کا مسئلہ بنانے کی بجائے معاملے کو آئین و قانون کے تحت ملک کی سب سے بڑی عدالت پر چھوڑ دیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں جا کر یہ کہنا کہ ہم عدالت عظمیٰ کا ہر فیصلہ قبول کریں گے اور فوج و عدلیہ میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کے تاثر کو کسی صورت پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ خود حکومت کا عزم بھی یہی تھا کہ عدلیہ جو فیصلہ کرے گی،اُسے من و عن تسلیم کیا جائے گا۔ یوں فضا سازگار رہی اور ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہوئی، جس سے کسی بھی قسم کے تصادم کا تاثر اُبھرے۔ اصولی طور پر تو سپریم کورٹ نے جو سوالات اٹھائے تھے،درست تھے۔سپریم کورٹ کا یہ کہنا بھی درست تھا کہ جب معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں آ جاتا ہے تو اُسے قانون اور آئین کے مطابق دیکھنا اُس کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اگر72برسوں میں یہ معاملہ یونہی بغیر کسی قانون کے چلتا رہا، تو اس کی ذمہ داری سپریم کورٹ پر عائد نہیں ہوتی،لیکن جونہی یہ معاملہ اُس کے سامنے آ گیا، اب وہ اُسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ خرابی اُس وقت ٹینشن میں تبدیل ہوئی،جب حکومت کی قانونی ٹیم نے ماضی کے نوٹیفکیشنوں کو سامنے رکھ کر توسیع یا دوبارہ تقرری کے نوٹیفکیشن تیار کئے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے بار بار توجہ دِلانے کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا کہ توسیع یا تقرری کا سرے سے کوئی قانون یا ضابطہ ہی موجود نہیں۔ جب چیف جسٹس اور دیگر دو فاضل جج صاحبان اٹارنی جنرل سے یہ کہہ رہے تھے کہ وہ قانون دکھائیں، جس کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، تو سمجھ جانا چاہئے تھا کہ قانون تو موجود ہی نہیں۔اتنی بحث کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ فلاں شق یہ کہتی ہے یا دوسری شق کا مطلب یہ ہے۔ بعد از خرابی ئ بسیار یہ بات سمجھ آئی تو کافی گرد اڑ چکی تھی اور پورے ملک میں یہ تاثر پھیل گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس ڈھنگ کے وزیر تو کیا ڈھنگ کے قانون دان بھی موجود نہیں۔

جب اگست میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید اگلے تین سال کے لئے چیف آف آرمی سٹاف کا سادہ سا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ چیلنج بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ نوٹیفکیشن وزیراعظم نے کابینہ اور صدر کی منظوری سے جاری کیا تھا۔ سارے ملک کو پتہ چل چکا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ہی مزید تین سال چیف ہیں گے۔ ماضی کی روایات کو دیکھتے ہوئے کسی نے بھی اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ اس ضمن میں قانون کیا کہتا ہے، آیا کوئی قانون ہے بھی یا نہیں؟ باجوہ صاحب کی ریٹائرمنٹ سے صرف تین دن پہلے جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا گیا اور درخواست گزار نے اپنی پٹیشن واپس لینے کی استدعا کی، تو اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ پٹیشن میں جو نکات اٹھائے گئے تھے، وہ اس قدر وزنی تھے کہ عدالت نے درخواست واپس لینے کی اجازت نہیں دی اور کیس سننے کا فیصلہ کیا۔ بجائے اس کے اٹارنی جنرل کوئی ایسی قانونی دلیل لاتے، جس میں سپریم کورٹ کے اس اختیار کو چیلنج کرتے اور کہ اگر پٹیشنر اپنی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتا تو اُس کی درخواست کو سپریم کورٹ184 کے تحت نہیں سن سکتی تھی، انہوں نے جھٹ سے وہ نوٹیفکیشن پیش کر دیا جو جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری سے متعلق تھا۔ظاہر ہے اس نوٹیفکیشن میں جو قانونی حوالے سے دیئے گئے تھے وہ چیف آف آرمی سٹاف کی توسیع سے متعلق نہیں تھے، اور اس کی وجہ سے رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی،اس لئے سپریم کورٹ نے معاملے کی حساسیت اور قانونی پوزیشن کے پیش نظر وہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔ پھر جو سلسلہ چلا وہ سب کے سامنے ہے۔اعصاب شکن سماعتیں ہوئیں۔ حکومتی ٹیم بغیر قانونی حوالوں کے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو مطمئن کرنے کی کوششیں کرتی رہی۔ ہر کوشش مزید الجھاؤ کو جنم دیتی رہی۔

ایک بار تو بالکل یوں لگ رہا تھا کہ سپریم کورٹ اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دے گی اور نیا چیف آف آرمی سٹاف عجلت میں تعینات کرنا پڑے گا، لیکن یہ نوبت نہیں آئی، دونوں طرف سے تھوڑی بہت لچک کا مظاہرہ کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے حکومت کو مہلت دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ایک خاص مدت میں اس حوالے سے قانون سازی کرے۔ابتدائی طور پر سپریم کورٹ نے تین ماہ کی مدت دینے کا عندیہ دیا، جسے اٹارنی جنرل کی درخواست پر چھ ماہ کر دیا گیا۔ یوں ایک مشروط توسیع کی اجازت مل گئی،جو امید ہے قانون سازی کے بعد تین سال تک جاری رہے گی۔مجھے اس سارے معاملے کا مثبت پہلو یہ نظر آ رہا ہے کہ اب جو آئین و قانون سے ماورا معاملات تھے، وہ بھی قانون کے دائرے میں آ جائیں گے۔ یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہو گا کہ اس واقعہ کے بعد اب ملک سے مارشل لاء کے خطرات بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے ہیں۔جب آرمی ایکٹ میں ترمیم اور قانون سازی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری یا توسیع کے ضوابط بھی بالکل واضح ہو جائیں گے تو ماضی کی تاریخ نہیں دہرائی جا سکے گی۔ایک وقت آئے گا جب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو تاریخ اس حوالے سے یاد کرے گی۔ ابھی تو انہیں اور دو ساتھی ججوں کو تین دِنوں کے دوران بہت کچھ سننا پڑا ہے، جس کا خود انہوں نے شکوہ بھی کیا ہے،لیکن تاریخ کے اوراق میں اُن کا نام سنہری حروف سے ضرور لکھا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم