گیند پارلیمینٹ کی ”کورٹ“ میں

گیند پارلیمینٹ کی ”کورٹ“ میں

  



وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد کہا ہے کہ آج کا دن ان عناصر کے لیے مایوسی کا باعث بنا ہو گا جو اداروں کے درمیان تصادم کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے تھے۔ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹس کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اداروں میں تصادم نہ ہو سکا، اور یہ ہمارے بیرونی دشمنوں اور اندرونی مافیاز کے لیے یقینا مایوسی کا باعث ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ یہ وہ مافیاز ہیں،جنہوں نے اپنا لوٹا ہوا مال بیرون ملک چھپایا ہوا ہے،اور اس لوٹے ہوئے مال کو بچانے کے لیے وہ ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پاکستان کی تاریخ کے بہترین قانونی ماہرین میں سے ایک ہیں،اور وہ اُن کی دِل سے عزت کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے تھے، مختصر فیصلہ سناتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف کو مشروط توسیع دینے کا اعلان کیا، عدالت کا کہنا تھا کہ اس توسیع کا اطلاق جمعرات28نومبر2019ء سے ہو گا، گویا ان کے منصب کا تسلسل برقرار رہے گا۔ یاد رہے انہیں 29نومبر کو ریٹائر ہونا تھا،لیکن وزیراعظم عمران خان نے تین ماہ قبل ہی انہیں تین سال کے لیے توسیع دینے کا اعلان کر دیا تھا،جس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست گذار کا کہنا تھا کہ دستور کی دفعہ243 کے تحت عہدے کی میعاد میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ دستور کی 243ء آرمی ایکٹ 1952ء اور آرمی ریگولیشنز رولز 1996ء میں کہیں بھی چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کی یہ یقین دہانی قبول کر لی کہ اس معاملے میں چھ ماہ کے اندر قانونی سازی کر لی جائے گی، اس وقت تک جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے۔مقدمے کی سماعت کے دوران ایک مرحلے پر اٹارنی جنرل نے یہ موقف اختیار کیا کہ جنرل ریٹائر نہیں ہوتے۔جب سوال کیا گیا تو پھر سابق جرنیلوں کو پنشن کیونکر ملتی ہے؟ تو اس کا جواب موجود نہیں تھا۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ وزیراعظم کسی ریٹائرڈ جنرل کو بھی آرمی چیف تعینات کر سکتے ہیں،خواہ انہیں ریٹائر ہوئے10 سے20سال کیوں نہ ہو گئے ہوں۔

عدالتی فیصلے کے بعد اب حکومت کو قانون سازی کرنا ہے،اس کے لیے اسے اپوزیشن کی معاونت درکار ہوگی۔دستور کی دفعہ243 میں ترمیم کرنا ہو گی یا آرمی ایکٹ ہی میں تبدیلی سے مسئلہ حل ہو جائے گا،اس بارے میں آئینی ماہرین کی رائے منقسم ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ صرف آرمی ایکٹ کی تبدیلی کافی ہوگی،اس کے لیے دونوں ایوانوں کی سادہ اکثریت سے کام چل جائے گا۔اس کے مقابل رائے یہ ہے کہ دفعہ243 کی توضیح کے لیے اس میں ترمیم کرنا پڑے گی، اس کے لیے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) میں دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ ہر دو صورتوں میں اپوزیشن کا تعاون درکار ہو گا۔اگر عام قانون سازی سے کام چلانے کا فیصلہ ہوا تو بھی سینیٹ میں تحریک انصاف کو اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے،اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر یہ مرحلہ سر نہیں ہو سکے گا۔ اگر دستور میں ترمیم کرنا پڑی تو پھر دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی تائید کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکے گا۔اس وقت تک حکومتی موقف یہی بیان کیا جا رہا ہے کہ دستور نہیں قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بہرحال ایک اہم اور حساس مسئلے پر لازم ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے مل بیٹھیں اور معاملے کو خوش اسلوبی سے نبٹانے کی کوشش کریں۔

وزیراعظم عمران خان کے جن ٹویٹس کا ابتدا میں ذکر کیاگیا ہے ان کے بڑے حصے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ یقینا ایک عالی دماغ قانون دان ہیں، یہ بھی درست ہے کہ اداروں کے تصادم کی فضا پیدا ہونے سے دشمنوں کو خوشی ہوتی،سپریم کورٹ نے جس طرح معاملے کو نبٹایا اس پر عام طور پر اظہارِ اطمینان و مسرت ہی کیا گیا ہے۔لیکن ٹویٹس میں ایسے کئی الفاظ موجود ہیں،جن کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم اپوزیشن سے مفاہمت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔اس موقع پر بھی انہوں نے اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔اس کے ساتھ ہی بعض وفاقی وزرا (خصوصاً شیخ رشید صاحب) نے اس طرح کی باتیں کی ہیں کہ جیسے ”کوئی اور“ اپوزیشن کو رام کر لے گا۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپوزیشن اس کام کے لیے دوڑی دوڑی آئے گی۔ اس پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت اس معاملے پر بھی سیاست کرنا چاہتی ہے۔

عدالت نے پارلیمینٹ کی ”کورٹ“ میں گیند پھینک کر عوام کے منتخب نمائندوں کو جو موقع دیا ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اسے بے احتیاطی اور منفی ہتھکنڈوں کی نذر نہیں کیا جائے گا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی شخصیت سے قطع نظر اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کیا جانا ہے۔ حکومت کو زیادہ سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہئے۔اہل ِ پاکستان کے لیے یہ بات حیرت کا باعث بنی ہے کہ کسی واضح ضابطے اور قاعدے کے بغیر ہی معاملات جا رہے تھے۔ عدالتی کارروائی نے اس بات کی اہمیت اُجاگر کی ہے کہ عشروں سے رائج قوانین کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ان میں تبدیلیاں کی جائیں۔ہمارے قانون ساز ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں،وقتی سیاسی ”جگتوں“ اور جھگڑوں میں مصروف رہنا وقت کا کوئی بہتر استعمال نہیں ہے۔

مزید : رائے /اداریہ