افغان طالبان، امریکہ مذاکرات کا نیا آغاز

افغان طالبان، امریکہ مذاکرات کا نیا آغاز

  



پاکستان کی طرف سے امریکہ، طالبان مذاکرات پھرسے شروع ہونے کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا کہ اب انٹر افغان مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ امریکہ کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مائیک ملے کے مطابق اب افغانستان میں 18سالہ جنگ ختم ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔امریکہ، طالبان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا اعلان بھی اسی طرح ڈرامائی ہے، جیسے پہلے مذاکرات ختم ہونے کا تھا، وہ مذاکرات کامیاب ہو گئے اور امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ بھی مدعو کر لیا تھا کہ معاہدے پر دستخط ہوں کہ خود صدر ٹرمپ نے ہی صرف ایک روز قبل اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور اب پھر سے مذاکرات کا آغاز بھی انہوں نے ہی کیا کہ وہ اچانک افغانستان پہنچ گئے اور بگرام کے ہوائی اڈے پر افغان صدر اشرف غنی کی موجودگی میں امریکی فوجیوں سے خطاب کیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر نئی صورتِ حال پیدا کی کہ انہوں نے مذاکرات پھر سے شروع کرنے کے لئے کہہ دیا ہے اور اب طالبان جنگ بندی پر راضی ہو جائیں گے کہ پہلے امریکہ چاہتا تھا اور اب خود طالبان کی خواہش ہے۔پاکستان نے بجا طور پر مذاکرات پھر سے شروع ہونے کی تائید وحمایت کی کہ افغانستان میں امن سے پاکستان کا ہی نہیں،پورے خطے کا مفاد وابستہ ہے اور پاکستان نے یہ مذاکرات شروع کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا اور اب بھی ایسا کر رہا ہے۔افغانستان میں امن کے مراحل اونچ نیچ کا شکار ہوتے رہے ہیں اور اب پھر سے یہ عمل شروع ہونے جا رہا ہے تو اس میں احتیاط کی ضرورت ہے، بلاشبہ امن کے لئے چین اور روس نے بھی کوشش کی تاہم اس مسئلہ میں امریکہ کے جو مفادات وابستہ ہیں اس کی طرف سے ان کے تحفظات کی بھی آڑ لی جاتی ہے اور صدر ٹرمپ کا رویہ غیر متوازن رہا، تاہم اب ان کے تازہ بیان سے یہ احساس دِلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکہ کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے کے اقدام سے افغانستان کے اندر جنگ بندی کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے اور جنگ بندی کے بعد باقی مراحل آسان ہوں گے۔ امریکہ ایک باوسیلہ ملک ہے اور اس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی مضبوط اور اس کے تھنک ٹینک بھی ہیں۔ان صورتوں میں امریکی صدر کو اطلاعات ہوں گی اور احساس بھی ہو گا کہ افغانستان میں موجود بھارت شرارت کرتا اور ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔اس کے افغان حکومت سے تعلقات افغانی سرحد سے پاکستان کی سرحد کے اندر حملوں کا باعث بنتے ہیں،اِس لئے اگر امریکہ پاکستان کی طرح نیک نیتی سے افغانستان میں عمل چاہتا ہے تو اسے بھارت کی ریشہ دوانیوں کو بھی روکنا ہو گا، پاکستان تو اپنی جگہ سعی کر ہی رہا ہے کہ امن سے صرف اس کا ہی نہیں، افغانستان اور بھارت کا بھی بھلا ہے۔ توقع کرنا چاہئے کہ اب بات نہیں ٹوٹے گی۔ بہرحال پاکستان کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ