ٹرمپ کا دورہ افغانستان،طالبان سے مذاکرات کی بحالی کا اعلان

  ٹرمپ کا دورہ افغانستان،طالبان سے مذاکرات کی بحالی کا اعلان

  



واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام امریکی روایت کے مطابق اظہار تشکر کا ڈنر ایک خفیہ دورے پر کابل پہنچ کر وہاں مقیم امریکی فوجیوں کے ساتھ کیا۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس کرسمس کی ضیافت عراق میں مقیم فوجیوں کے ساتھ اسی خفیہ انداز میں کھائی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی ہدایت کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بناء پر اس دورے کی معلومات کو چھپا کر رکھا گیا۔ اپنے خصوصی طیارے ”ایئر فورس ون“ کے ذریعے پریس کے چند نمائندوں اور محدود عملے کے ساتھ روانگی سے لے کر کابل کے فوجی اڈے پر لینڈ کرنے تک صدر ٹرمپ کے اس دورے کو انتہائی خفیہ رکھا گیا بلکہ اس کی طرف سے ایسے ٹویٹر پیغام بھی جاری کئے گئے جس سے کسی کو ان کے اصل مشن کی خبر نہ ہو سکے۔ صدر ٹرمپ کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا جہاں امریکہ تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور اب طالبان کے متحارب گروہ کے ساتھ امن مذاکرات کی بھی کوششیں جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لینڈ کرنے کے بعد جو اطلاعات نشر ہوئیں ان کے مطابق وہ جمعرات کی شب ساڑھے آٹھ بجے (مقامی وقت) کابل کے نواح میں بلگرام کے فضائی اڈے پر پہنچے جہاں چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک مائیلی نے ان کا استقبال کیا جو ایک روز قبل الگ طریقے سے وہاں پہنچے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اطلاع کے مطابق گراؤنڈ پر فوجیوں کے ساتھ تقریباً اڑھائی گھنٹے گزارے اور وہاں فوجی کیفیٹیریا میں خود اپنے ہاتھوں سے ٹرکی کے گوشت کی ڈش اور دیگر خوراک انہیں پیش کی۔ انہوں نے فوجیوں کے ساتھ تصویریں بنائیں اور مختصر بات چیت بھی کی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری سٹیفنی گریشم نے ایک خصوصی میڈیا بریفنگ میں مزید بتایا کہ اس خفیہ دورے کا اصل مقصد اظہار تشکر کا دن فوجیوں کے ساتھ منانا اور ان کے حوصلے بڑھانا ہے۔ صدر ٹرمپ نے فوجیوں کے ساتھ ملنے کے بعد افغان صدر اشرف غنی سے بھی مختصر ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد اپنے ساتھ آئے ہوئے امریکی میڈیا کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان ہمارے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاہم ہم ابھی اس معاہدے کے طے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اگر وہ معاہدہ کرتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ اگر وہ نہیں کرتے تب بھی ٹھیک ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ تبصرہ کئی ہفتے قبل ان کی اس مجوزہ دعوت کے منسوخ ہونے کے بعد آیا ہے جب وہ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان اور افغان لیڈروں سے بات چیت کرنے والے تھے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اس تاریخ ساز دعوت کو اس وقت منسوخ کر دیا جب طالبان نے ایک حملے کی ذمہ داری قبول کرلی جس میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہو گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد میڈیا سے جو بات چیت کی اس میں انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ بات چیت کو پھر بحال کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوج افغانستان میں معاہدہ ہونے تک موجود رہے گی یا پھر اس وقت تک جب ہمیں مکمل فتح حاصل نہ ہو جائے اور ایسی صورت میں بھی ہم موجود رہیں گے جب طالبان نے ہمارے ساتھ برا سمجھوتہ طے کرنے کی کوشش کی۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر بتایا کہ وہ اس وقت امریکہ میں موجود بارہ سے تیرہ ہزار فوج کو کم کر کے آٹھ ہزار چھ سو کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ

مزید : علاقائی