احتساب عدالت،خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع،پولیس کی ارکان اسمبلی سے تلخ کلامی

احتساب عدالت،خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع،پولیس کی ارکان ...

  



لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج امیر محمد خان نے پیراگون کیس میں ایم این اے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی ایم پی اے خواجہ سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 10 روز کی توسیع کرتے ہوئے دوبارہ 9 دسمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہ قیصر امین بٹ اور جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری کوبھی دوبارہ طلب کر لیاہے۔گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو خواجہ برادران کو جیل سے لاکر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے خواجہ برادران کی حاضری مکمل کرنے کے بعد کیس کی مزید سماعت مذکورہ بالاحکم کے ساتھ آئندہ پیشی تک ملتوی کردی۔خواجہ برداران کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری عدالت کے احاطہ کے اندر اور باہرتعینات کی گئی تھی،احتساب عدالت جانے والے راستوں کوبھی خار دارتاریں اوررکاوٹیں لگاکر بند کردیاگیاتھا،جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔علاوہ ازیں احتساب عدلت میں پیشی کے موقع پر ساتھی ایم پی اے یاسین سوہل سمیت دیگرکو کمرہ عدالت میں جانے سے روکا گیا توخواجہ سعد رفیق سیخ پاہوگئے انہوں نے اپناحصار توڑکرساتھیوں کو اندر داخل کرانے کی کوشش کی توپولیس اہلکاروں اور خواجہ سعد رفیق میں تلخ کلامی بھی ہوئی،گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہونے سے قبل جب خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو پولیس اہلکار اپنے حصار میں لارہے تھے توپولیس اہلکار میگا فون پر اعلان کررہے تھے کہ راستہ چھوڑ دو،عدالت کے احترام کو یقینی بنائیں،لڑائی جھگڑا اور شور مت کریں،اس موقع پرخواجہ برادران کے لیگی ساتھی ایم پی اے یاسین سوہل سمیت دیگر کو پولیس کی جانب سے روکا گیا توخواجہ سعد رفیق سیخ پا ہوگئے،انہوں نے پولیس کا حصار توڑ کر اپنے ساتھیوں کو زبردستی اندر داخل کرواتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ ہم سے لڑائی کرنی ہے؟خبر دار تمیز کرو،خواجہ سعد رفیق اس موقع پر "شیر شیر "کے نعرے بھی لگاتے رہے،سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں نے دھکم پیل کی اورخواجہ سعد رفیق پر دھاوا بولنے کی مبینہ کوشش کی،خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے کہاانہیں بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہوگی،پولیس اہلکاروں کی پیشی پر آئے لیگی کارکنوں سے تلخ کلامی بھی ہوئی،دوسری جانب احتساب عدالت خواجہ برادران کی پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں موجود تمام صحافیوں کو بھی کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیاجس کا حکم انچارج اینٹی رائٹ فورس کی جانب سے پولیس اہلکاروں کودیا گیا،انچار ج اینٹی رائٹ فورس کا اپنے ماتحت عملے سے کہناتھا کہ خواجہ برادران کی کوریج کرنے والے صحافیوں کوعدالت سے باہر نکال دوکیونکہ اگرکمرہ عدالت میں صحافی موجود رہے، کسی ایک نے بھی خواجہ برادران سے بات کر لی تو افسران بالاناراض ہوں گے، افسران نے سختی سے منع کر رکھا ہے کسی صحافی کو کمرہ عدالت میں نہیں جانے دینا، جس پر صحافیوں نے ایس پی ہیڈ کوارٹر قرار شاہ سے شکایت کی اورکہا کہ انہیں کمرہ عدالت میں آپ کے احکامات پر داخل نہیں ہونے دیا گیا سب اہلکار آپ ہی کا نام استعمال کررہے ہیں تاہم مذکورہ ایس پی اس بات کاجواب دینے سے گریزاں نظر آئے۔

خواجہ برادران

مزید : علاقائی