مقبوضہ کشمیر،بھارتی محاصرے کو 117روز مکمل،نظام زندگی بدستور مفلوج

    مقبوضہ کشمیر،بھارتی محاصرے کو 117روز مکمل،نظام زندگی بدستور مفلوج

  



سرینگر،اسلام آباد،کوالالمپور(نیوزایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں جمعتہ المبارک کے روز مسلسل117ویں روز بھی بھارت کے سخت فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ کی معطلی کے باعث وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں نظام زندگی بری طرح مفلوج  رہا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی اور دفعہ 144کے تحت پابندیوں کے نفاذ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔ انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کی وجہ سے تاجروں، طلباء اور صحافیوں کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے اور اس سے معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے دکانیں صرف صبح اور شام کے وقت کچھ گھنٹوں کیلئے ہی کھولی جاتی ہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ بڑی حد تک سڑکوں پر معطل ہے۔قابض انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو نماز جمعہ کے بعد بھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کیلئے آج سرینگر اور دیگر علاقوں میں سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کیے جانے کاخدشہ ہے۔ پانچ اگست سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ علاقے کی دیگر بڑی مساجد میں کشمیری مسلمانوں کو نماز  جمعہ ادا نہیں کرنے دی گئی ہے۔ ادھرمقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی محاصرے،ریاستی دہشت گردی اور محمد یاسین ملک ودیگر آزادی پسند رہنماؤں کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کے خلاف جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ دوسری طرف  ملائیشین مشاورتی کونسل برائے اسلامی تنظیم کے صدرعظمی عبدالحامد نے کوالامپور میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ کشمیرمیں اسرائیلی طرز پر ہندوبستیاں آباد کرنے کے بھارتی حکومت کے عزائم کے بارے میں نیویارک میں بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکراورتی کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال اور بھارتی سفارتکار کے اشتعال انگیز مؤقف کا جائزہ لے جس کے علاقائی استحکام پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

کشمیر 

جدہ (این این آئی)اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کے بارے میں مستقل آزادکمیشن نے مقبوضہ کشمیرمیں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کمیشن نے جدہ میں حال ہی میں ختم ہونے والے 16ویں اجلاس کے دوران مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کے قتل عام سمیت وہاں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کے الزامات کی عالمی سطح پر تحقیقات کرانے پر زوردیا۔ٍ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونیوالے ایک پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی منصفانہ تحریک کوکچلنے کے لئے مقبوضہ وادی میں سیاسی و اقتصادی سرگرمیوں اور مواصلاتی روابط پرگزشتہ115روز سے سخت پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کومنسوخ کرناغیرقانونی اوربلاجوازاقدام ہے کیونکہ اس کامقصدجموں اورکشمیرکی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرناہے۔

اوآئی سی 

مزید : علاقائی