پنجاب اسمبلی منتخب نمائندوں پر پولیس تشدد کیخلاف مسلم لیگ (ن) کا واک آؤٹ

پنجاب اسمبلی منتخب نمائندوں پر پولیس تشدد کیخلاف مسلم لیگ (ن) کا واک آؤٹ

  



لاہور(این این آئی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں نیب عدالت میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی پیشی کے موقع پرپولیس کی طرف سے اپوزیشن کے اراکین پربہیمانہ تشدد پر حکومتی عدم تعاون پر(ن) لیگ نے احتجاجا ایوان سے واک آؤ ٹ،حکومت نے اپوزیشن ارکان پر پولیس تشدد کو مکافات عمل قراردیدیا، کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 6منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر ہی (ن) لیگ کے رکن خواجہ سلمان رفیق نے نقطہ اعتراز پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران لیگی اراکین پر ایک مرتبہ پھر پولیس کی طرف سے تشدد کیا گیا۔خواجہ سلمان رفیق کے بیان پر ڈپٹی سپیکر نے وزیر قانون کو سخت ایکشن لینے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ پولیس کا ارکان اسمبلی سے یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔سابق سپیکر رانا اقبال نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے ن لیگ کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وزیر قانون سے گزارش کرتا ہوں اس کا نوٹس لے۔ خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ وزیر قانون تحریک استحقاق پیش کرکے معاملہ حل کریں۔یاسین سوہل نے کہا کہ اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے، پولیس نے (ن) لیگ ی ارکان اسمبلی کو مار مار کر دنبہ بنا دیا، ایک دو ہوتے تو دیکھ لیتے 40 پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔وزیر قانون راجہ بشارت نے لیگی ارکان پر عدالت کے باہر تشدد پر ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب پہلے پولیس کی جانب سے تشدد ہوا تھا تو ہم نے ڈی آئی جی آپریشنز کے ساتھ میٹنگ کی تھی،اس میں یہ طے ہوا تھا کہ ایم پی ایز اپنا کارڈ دکھا کر عدالت میں جا سکتے ہیں مگر ہوتا یہ ہے کہ ان کے ساتھ کارکن بھی اندر چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معزز رکن پر تشدد ہونا قابل افسوس ہے۔پولیس کے اعلی افسران کو بلا کر اس مسئلے کا حل کرتے ہیں۔ڈپٹی سپیکر نے پولیس افسران کو اسی روزطلب کرلیا۔صوبائی وزیر چوہدری ظہیر الدین  نے کہا کہ عدالت میں 30افراد کے جانے کی اجازت دی ہے، 30 افراد کی جگہ پر 100 افراد کو لے جانے کی کوشش کرے گا تو انتظامیہ حرکت کرے گئی،یہ مکافات عمل ہے، پی ٹی آئی جب مارچ لے جا رہی تھی تو یہی توفیق بٹ نے کارکنوں پر تشدد کیا تھا۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پولیس ہمیشہ معاملہ خراب کرتی ہے،مسئلہ سب کا مشترکہ ہے جس کا سد باب ہونا چاہیے،ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا کہ اس دوران نیب عدالت میں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی پیشی کے موقع پرپولیس کی طرف سے اپوزیشن کے اراکین پربہیمانہ تشدد پر حکومتی عدم تعاون پر (ن) لیگ نے احتجاجا ایوان سے واک آٹ کر دیا اور جاتے جاتے (ن) لیگ کے رکن یاسین سوہل نے کورم کی نشاندہی بھی کر دی۔صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال کا (ن) لیگ کے کورم کی نشان دہی پر غصے کا اظہار،وقفہ سوالات کے دوران کورم کی نشاندہی نہیں ہوتی۔جس پر میاں اسلم اقبال نے چیئر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کورم پورا نہیں اجلاس ملتوی کردیں۔کورم کی نشاندہی پر ڈپٹی سپیکر نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی،کورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ نیب عدالت کی فوٹیج منگوا کر دیکھی ہے کہیں بھی چالیس آدمی (ن) لیگ کے اراکین اسمبلی یار کارکنوں کو نہیں ماررہے بلکہ چالیس آدمیوں سے زیادہ ن لیگ کے کارکنان پولیس کے ساتھ دھکم پیل کررہے ہیں جب ایک شخص کے ساتھ چالیس، چالیس آدمی پیشی پر جائیں گے تو ان کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اس لئے ان کا اعتراض درست نہیں تھا۔صوبائی وزیر قانون نے غیر آئینی قانون سازی کرنے کا اپوزیشن کا الزام مسترد کر تے ہوئے کہاہے کہ قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی آتے ہیں لیکن اپنے مہمانوں سے ملتے ہیں،پریس کانفرنس کرتے ہیں اورکاروبار کے معاملات دیکھ کر چلے جاتے ہیں،اسمبلی کا ریکارڈ چیک کر لیں موجودہ سیشن میں قائد حزب اختلاف کا کیا کردار رہا،حکومت آرٹیکل 154/6 پر عملدرآمد کر رہی ہے،اپوزیشن نے کہا تھا کہ وہ اس حوالے عدالت میں جائے گی۔

پنجاب اسمبلی

مزید : علاقائی