سپریم کورٹ فیصلہ سے بیرونی دشمنوں کو مایوسی ہوئی

سپریم کورٹ فیصلہ سے بیرونی دشمنوں کو مایوسی ہوئی
سپریم کورٹ فیصلہ سے بیرونی دشمنوں کو مایوسی ہوئی

  



آخر خدا خدا کر کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے مسئلہ حل ہوا اور سپریم کورٹ نے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں قانونی ترمیم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کے احکامات جاری کر دیئے۔

دیکھنے سننے میں یہ ایک عام مقدمہ تھا بلکہ میں قانون میں ایک ابہام، سقم تھا جس کی طرف سپریم کورٹ نے توجہ دلائی اور حکومت کو اس خلا ء کو پرکرنے کو کہا مگر ہماری بعض غیر ذمہ دار حلقوں نے اس کو ایک ایشو بنا لیا کہ گویا ملک میں ایک بھونچال آگیا۔ سیاست، پاک فوج، معزز عدالت، حکومت، پارلیمنٹ گویا ریاست کے تمام ستون ہر کس و ناکس کا موضوع بحث بن گئے۔ پہلے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کرنے اور اس کے قابل سماعت ہونے کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا گیا۔ پھر پاک فوج اور اس کے سربراہ موضوع سخن بنے اور ساتھ ساتھ حکومت پر بھی تنقید کی گئی۔

بات یہ ہے کہ ان سب سے کس کو فائدہ پہنچا۔ اس سارے منفی عمل سے ہمارے دشمنوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہاں تک بھارتی میڈیا نے دو دن تک اپنی نشریات کا موضوع ہی صرف پاک فوج اور سپریم کورٹ رکھا۔ بھارتیوں کو تو جیسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا تھا اس پر انہوں نے اپنی طرف سے جو تجزیے پیش کیے اور جو من گھڑت خبریں بنائیں وہ کسی طوربھی ہمارے لئے درست نہیں۔ یعنی بھارتی میڈیا پر طوفان بدتمیزی پیدا ہوگیا۔ عام حالات میں بھی بھارتی میڈیا ہم پر تنقید کرنے اور ہمیں نیچا دکھانے سے نہیں رہتا تو ان حالات میں تو آپ خود سوچیں کیا کیا نہ کیا گیا ہوگا۔ اگر ہم ایمانداری سے سوچیں کہ کہیں ہم نے نادانستگی میں غلطی سے تو بھارتی میڈیا کے ہاتھ مضبوط نہ کر دیئے ہوں۔

اسی حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دن ان عناصر کے لیے مایوسی کا باعث بنا ہو گا جو ملک کو اداروں کے درمیان تصادم کے ذریعے غیر مستحکم ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔ اداروں میں تصادم ہو نہ سکا اور یہ ہمارے بیرونی دشمنوں اور اندرونی مافیا کے لیے یقیناً باعث مایوسی ہو ا۔پاکستان میں جمہوریت میچور ہو رہی ہے۔ جمہوری کلچر آ چکا ہے۔ اداروں نے دائرہ کار میں رہنا شروع کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔ بھارت نے سپریم کورٹ کا معاملہ بھی استعمال کیا۔ پاکستان میں ہم آہنگی سے مخالفین کو شکست ہوئی۔ ہم اپنی عدلیہ پر پورا اعتماد اور اس کی پوری حمایت کرتے ہیں۔بھارتی میڈیا پر سپریم کورٹ کا معاملہ بہت اچھالا گیا۔ عدلیہ مضبوط ہے اور دیگرادارے بھی مضبوط ہورہے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کو اس محاذ پر بھی شکست ملی ہے۔ بھارت خوش تھا اس کی سوچ تھی پاکستان میں ادارے آپس میں لڑجائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا اور یہی ہماری کامیابی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر بعض وکلاء نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کو قانون سازی چھ ماہ میں کرنے کیلئے پابند کیا ہے مگر آرمی چیف کی نئی تقرری کو عدالتی حکم کے تابع نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اے کے ڈوگرکا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری توسیع یا از سر نو تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہ بات طے ہو گی کہ فاضل عدالت نے کن قانونی بنیادوں پر معاملے کا نوٹس لیا اور حالیہ فیصلے کے ذریعے کس حد تک سقم کو دور کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کو کسی بھی معاملے پر نوٹس لینے اور قانون کی تشریح کا اختیار ہے مگر معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اس کی سماعت بند کمرے میں ہونی چاہئے تھی۔سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مدبرانہ ہے۔ قانون سازی کے بعد کچھ چیزیں واضح ہو جائیں گی۔

ہماری قابل احترام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بلا شبہ بہت اچھے انسان، بہت قابل اور پیشہ وار جرنیل ہیں۔ انہوں نے نازک وقت میں اپنے کندھوں پر پڑنے والی ذمہ داریوں کا احسن طریقے سے نبھایا ہے۔ جب انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تو ملک ایمرجنسی کی حالت میں تھا۔ دہشت گردی نے وطن عزیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ مشرقی سرحد پر بھارت اور مغربی سرحد پر بھارتی گماشتے افغان دہشت گرد اپنے تمام تر خطرناک ارادوں کے ساتھ موجو د تھے بلکہ افغان سرحد سے ہمارے اندر آکر دہشت گردی کی کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔پاک افغان سرحد کے اس پار بھی ان کے سہولت پیدا ہو چکے تھے جو انہیں اسلحہ اور تحفظ فراہم کرتے تھے۔ ان کی سرکوبی بھی ضروری تھی۔ ان حالات میں جنرل باجوہ کی سرکردگی میں پاک فوج نے نہ صرف سرحدوں پر دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ اندرون ملک بھی مختلف کامیاب آپریشنز کر کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا قلع قمع کیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے جہاں ملک کی سرحدوں کے دفاع کے تقاضے ایک مشاق جرنیل کی حیثیت سے نبھائے وہاں بہتر گورننس کیلئے منتخب حکومت کی بھی معاونت کی جس سے سول اور عسکری قیادتوں کے ایک پیج پر ہونے کا تاثر مستحکم ہوا۔ اسی وجہ سے ہمارے مکار دشمن بھارت کو پاکستان کی سلامتی خدانخواستہ تاراج کرنے کے اپنے خواب چکناچور ہوتے نظر آئے۔ جنرل باجوہ کی قیادت میں ہی پاک فوج نے پاکستان پر جارحیت کی ہر بھارتی سازش ناکام بنائی اور اسے کنٹرول لائن پر اسکی ہر جارحیت کا فوری اور دوٹوک جواب دیا جبکہ 27 فروری کو بھارتی فضائیہ کے دانت کھٹے کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود میں جارحیت کی نیت سے داخل ہونیوالے دو جہاز گرا کر اور اسکے ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کرکے پاکستان کی عسکری دفاعی صلاحیتوں کا دنیا بھر میں لوہا منوایا۔

اب سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولین وقت میں پارلیمنٹ میں اس ترمیم کو پیش کر کے اس پر سیر حاصل بحث کروائے اور حکومت اور اپوزیشن باہمی اتفاق رائے سے ان نکات پر قانون سازی کریں۔ اس کیلئے اپوزیشن کو بھی اپنا سابقہ رویہ ترک کرنا ہوگا اور حکومت کے ساتھ بیٹھ کر اس اہم مسئلہ کو حل کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ حکومت کا یا کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت، عزت و وقار کا مسئلہ ہے۔ آج کل جس قسم کے حالات ہیں سرحدوں پر بھارتی گولہ باری اور دوسری طرف افغانستان کا مسئلہ بھی حل ہونے کو ہے اس سلسلے میں جنرل باجوہ کا کردار بہت اہم رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اسی تناظر میں انہیں مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دینی چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ جیسا کہ قانون میں ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے اس میں توسیع اور اور دوبارہ تقرری اور ٹائم پیریڈ بھی وزیر اعظم کی صوابدید پر ہونا چاہیے تاکہ آئندہ کسی قسم کا ابہام نہ پیدا ہو۔ اس حوالے سے کسی کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور چائے کے کپ میں طوفان اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

مزید : رائے /کالم