بہتر فرسٹ کلاس اوسط،فواد عالم نے رکی پونٹنگ،کوہلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

بہتر فرسٹ کلاس اوسط،فواد عالم نے رکی پونٹنگ،کوہلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

  



لاہور(آن لائن)ایک عشرے کے دوران ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانیوالے باصلاحیت بیٹسمین فواد عالم اب بھی قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر مصباح الحق کے نظر کرم  کے منتظر ہیں۔ بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کو2009کے بعد ٹیسٹ،2015کے بعد ون ڈے جبکہ2010کے بعد کوئی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا ہے۔34 سالہ فواد عالم مئی 2017میں یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائر منٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت کے مضبوط ترین امیدوار تھے تاہم اس وقت کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ان کی جگہ اپنے بھتیجے امام الحق کو قومی ٹیم میں سلیکٹ کرلیا۔فواد عالم نے ابھی تک اس رویے کے باوجود ہار نہیں مانی ہے اورقائد اعظم ٹرافی میں سندھ کی نمائندگی کرتے ہوئے سدرن پنجاب کیخلاف شاندار ڈبل سنچری سکور کرڈالی،وہ211رنز بناکر آٹ ہوئے، اس سے قبل وہ نادرن کی ٹیم کیخلاف 107رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کیساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی ٹیم کیخلاف بھی100رنز ناٹ آٹ بنا چکے ہیں،وہ قائد اعظم ٹرافی کے رواں سیزن میں 9میچز میں 66.50کی اوسط سے 665رنز بنا چکے ہیں جن میں 3سنچریاں اور2 نصف سنچریاں شامل ہیں۔فواد عالم ابتک164فرسٹ کلاس میچز میں 56.57کی اوسط سے12106رنز سکور کرچکے ہیں جن میں 33سنچریاں اور60نصف سنچریاں شامل ہیں اور اسوقت بھی کرکٹ کھیلنے والے پلیئرزکی فہرست میں بہترین اوسط کے لحاظ سے 5ویں نمبر پر موجود ہیں،سری لنکن بلے باز پاتھم نسانکا 64.02 کی اوسط کیساتھ پہلے نمبر پر ہیں،دورہ انگلینڈ کے دوران اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنیوالے بھارتی بلے باز ہنومن وہاری59.82کی اوسط کیساتھ دوسرے،سابق آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ 58.45کی اوسط کیساتھ تیسرے اور بنگلہ دیشی بلے باز مصدق حسین57.35کی اوسط کیساتھ چوتھے نمبر پر ہیں،بھارت کے روہت شرما 56.04کی اوسط کیساتھ چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔فوادعالم کی فرسٹ کلاس اوسط لیجنڈری آسٹریلوی بلے باز رکی پونٹنگ (55.90)،سابق بھارتی کپتان راہول ڈریوڈ (55.70) اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی (54.94) سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے 2009 میں سر ی لنکا کیخلاف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اپنی دوسری ہی اننگز میں 168رنز کی شاندار باری کھیل ڈالی۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کیخلاف نومبر 2009میں ڈیونیڈن ٹیسٹ میں آخری مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی تاہم اسکے بعد انہیں ابھی تک قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔#/s#

مزید : کھیل اور کھلاڑی