توہین قرآن کرنے والے پر وار کرنا ایمان کی اعلیٰ مثال ہے،علماء

توہین قرآن کرنے والے پر وار کرنا ایمان کی اعلیٰ مثال ہے،علماء

  



لاہور (نمائندہ خصوصی)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی، لاہور کے مبلغ مولانا عبدالنعیم، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ،خطیب مرکز ختم نبوت    مولانا محبوب الحسن طاہر، قای جمیل الرحمن اختر، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا حافظ عبدالشکور، مولانا ظہیراحمدقمر، قاری محمداقبال،مولانا مسعوداحمدودیگر کئی علماء نے خطبات جمعہ میں ناروے میں قرآن پاک کی توہین کے واقعہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب میں توہین قرآ ن اور توہین رسالت کے واقعات یہودیوں بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ناروے میں میں قرآن کے جلانے کے واقعہ پر نوجوان کی طرف سے توہین قرآن کرنے والے پر وار کرنا ایمان کی اعلی ترین مثال ہے۔

مسلمان اپنے بچوں کو قرآن پاک حفظ کروا کر اور پنے گھروں میں قرآن پاک کی تعلیم کو رواج دے کرمغرب کو مثبت جواب دیں۔ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ؐ کا تحفظ ایمان کی اساس ہے۔پاکستان میں قادیانیت کو کھلی چھٹی آئین اور قانون کی صراحتا خلاف ورزی ہے۔ کرتار پور کوریڈور اور بابا گرو نانک پر حکومت کی طرف سے قوم کے ٹیکس کے حاصل شدہ 14ارب روپے خرچ کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی کھلی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ کشمیر کے شہدا کے خون سے غداری کی گئی ہے۔پاکستان کے عوام مہنگائی کی چکی تلے پس رہے ہیں اور حکومت نے قادیانیوں،یہودیوں،ہندں اورسکھوں کی خوشنودی میں مصروف ہے۔ 

مزید : میٹروپولیٹن 1