مولانا ظفر علی خان کی بے مثال زندگی تاریخ کے ماتھے کا جھومرہے:پروفیسر رفیق احمد

مولانا ظفر علی خان کی بے مثال زندگی تاریخ کے ماتھے کا جھومرہے:پروفیسر رفیق ...

  



   لاہور (سٹی رپورٹر) مولانا ظفر علی خان ہمہ جہت شخصیت تھے‘ قائداعظم محمد علی جناحؒ آپ کی خداداد قابلیت اور صلاحیتوں کے بڑے معترف تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنی پوری زندگی اسلامیان ہند کی فلاح وبہبود کیلئے وقف کر رکھی تھی۔آپ بہت بڑے عاشق رسولؐ تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔  وہ ایک بے باک صحافی تھے اور ہمیشہ کلمہ حق بلند کیا، انہوں نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان‘شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں تحریک پاکستان کے رہنما‘ بابائے صحافت‘ قادرالکلام شاعر اورآل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن مولانا ظفر علی خان کی63ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست کے دوران کیا۔ نشست کا اہتمام نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ تلاوت کی سعادت حافظ ذیشان علی نے حاصل کی جبکہ محمد بلال ساحل نے بارگاہئ رسالت مابؐ میں ہدیہئ عقیدت اور محمد نبیل اشرف نے کلام ظفر علی خان پیش کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اداکئے۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے بھرپور زندگی گزاری اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دین اسلام کی ترویج واشاعت میں گزارا۔آپ دوقومی نظریہ کے بہت بڑے داعی تھے۔میاں فاروق الطاف نے کہا کہ تحریکِ پاکستان میں مولانا ظفر علی خان کا بے مثال کردار ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار ہیں۔ مولانا ظفر علی خان ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی محنت، علم اور ذہانت کے بل بوتے پر زندگی میں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے نئی نسل کو بھی جہد مسلسل اور تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ وہ زبردست اخبار نویس، مقرر، مترجم، شاعر تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنی تحریر و تقریر سے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ وہ ایک بے باک صحافی تھے اور ان کی گونج پورے عالم اسلام میں سنائی دیتی تھی۔ ان کی جرأت و بہادری اپنی مثال آپ تھی۔ انہوں نے کہا مولانا ظفر علی خان بہت بڑے عاشق رسولؐ تھے۔ حریت فکر، محنت اور علم سے مولانا ظفر علی خان ظفر الملت اور بابائے صحافت کہلائے۔ خالد محمود نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے تحریک خلافت سمیت ہر تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔سلمان غنی نے کہا کہ کسی عظیم شخصیت کی یاد منانے کا مقصد اس کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کرنا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مشاہیر کی یاد مناتے ہوئے ہم اپنی سوچ، نظریات اور کردار میں بھی تبدیلی لائیں۔ مولانا ظفر علی خان محض ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ جرأت کا استعارہ تھے۔ وہ ایک جرأت مند صحافی، شاعر، ادیب اور مقرر تھے۔ انہوں نے اپنے اخبار ”زمیندار“ میں جاندار اداریے تحریر کئے۔اپنی تحریر وتقریر سے نوجوانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔۔محمد آصف بھلی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کی حیات و خدمات کا مطالعہ ہمارے اندر ایک جوش اور ولولہ پیدا کر دیتا ہے شاہد رشید نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کا شمار  آزادی دلانے والوں میں ہوتا ہے۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ مشاہیر تحریک آزادی کی یاد میں پروگرام منعقد کرکے نئی نسلوں کو ان کے عظیم کارناموں سے آگہی فراہم کررہا ہے۔ 

مولانا ظفر علی خان

مزید : میٹروپولیٹن 1