آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آئین میں ترمیم لازمی،شیری رحمن

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آئین میں ترمیم لازمی،شیری رحمن

  



اسلام آباد (این این آئی)پیپلز پارٹی نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے آئین میں ترمیم کو لازم قرار دے دیا۔ ایک بیان میں شیری رحمن نے کہاکہ عدالت نے حکومت کو پارلیمان میں جانے کی ہدایت کی ہے، وزیراعظم کا ٹوئیٹ غیرمناسب ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے رویے سے لگتا ہے ان کی سیاست ایک بار پھر مفلوج ہو جائی گی، پارلیمان کے بغیر جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس منسوخ کر دیا ہے،سینیٹ کو تو تالا لگا ہوا ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ حکومت کوئی قانون سازی نہیں کر رہی، ہر تعمیری کام میں اپوزیشن حکومت سے آگے ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سمجھتے ہیں جو ان کو لایا ہے وہی حکومت چلائیگا،ان کو خود حکومت چلانی ہے اور پارلیمان کے ذریعے چلانی ہے، حکومت سمجھتی ہے یہ آرڈیننس کے ذریعے ملک چلائیں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو نہ ندامت ہے نہ کوئی فکر،بگڑے ہوئے سیاسی امور ہیں حکومت کو ٹھیک تو کرنا ہونگے۔قبل ازیں نے کہا ہے کہ گرو نانک کی زمین پر ڈی ایچ اے 7 بن گیا ہے،وزارت مذہبی امور کی زمین پر مالز بن گئے ہیں، معاملے پر ڈی جی ایف آئی نے کو بھی پی اے سی میں دعوت دی ہے، وزارت مذہبی امور میں واضح وائیٹ کالر کرائم ہو رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزارت مذہبی امور کی آڈٹ پر سارے محکمے ششدر تھے، وزارت مذہبی امور کے پاس 1 لاکھ 8 ہزار ایکڑ زمین ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزارت آدھے سے زیادہ زمین بغیر معاوضے کے دوسروں کو دے چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ مذہبی امور کے چیف سیکرٹری نے کہا وہ اس عمل کا دفاع ہی نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہاکہ وزارت میں اربوں کھربوں کی خردبرد ہو چکی ہے، وزارت کے سارے آڈٹ اعتراضات پھر سے کھلے گیں۔

شیر رحمن

مزید : صفحہ اول