پولیس میں اعلیٰ سطحی تبادلے حکومت کیلئے دانشورانہ ثابت نہیں ہونگے

پولیس میں اعلیٰ سطحی تبادلے حکومت کیلئے دانشورانہ ثابت نہیں ہونگے

  



لا ہور (تجزیہ؛۔ یو نس باٹھ)پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کیساتھ سیاسی وانتظامی لحاظ سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پولیس میں کئے گئے اعلی سطحی تبادلے حکومت کیلئے خوش آئند اور دانشورانہ ثابت نہیں ہو نگے۔ ہر سال حکومت کے اخراجات میں سب سے نمایاں اضافہ پولیس کے اخراجات میں ہوتا ہے۔ لیکن بد قسمتی کے ساتھ نیا پاکستان کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد دیگر کسی بات کا تذکرہ نہیں کرتے مگر ایک بات طے ہے کہ پنجاب پولیس کی صورتحال کھائی میں گرتے بڑے اور بیکار پتھر کی سی ہے۔  بیوروکریسی سے کام لینا ایک فن ہے، موجودہ حکمران یہ فن سیکھے بغیر کسی شعبے میں کوئی بہتری نہیں لاسکتے، یہ تاثر کسی حدتک درست ہے بیوروکریسی موجودہ حکمرانوں کو ناکام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مگر اِس کا واحد حل یہ نہیں روزانہ تھوک کے حساب سے تبادلے کردیئے جائیں، اِس سے معاملات مزید خراب ہوں گے، بیوروکریسی میں اِس وقت جو بے چینی پائی جاتی ہے حکمرانوں کو اْس کا شاید اندازہ نہیں ہے، حکمران اگرواقعی عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر آئے ہیں تو بیوروکریسی کو ”نتھ“ ڈالنے کے جذبے کو اْنہیں پرے پھینکنا ہوگا، فی الحال اِس مقابلے میں بیوروکریسی آگے نکلتی دکھائی دیتی ہے، پیچھے رہ گیا ملکی مفاد، اْس کی پرواکون کرتا ہے؟پاکستان کی بدنصیبی یہ رہی کہ اسے نہ تو قانون بنانے والے ادارے ہی ڈھنگ کے میسر آئے، نہ ہی قانون نافذ کرنیوالے، بلکہ اْلٹا ان دونوں نے گٹھ جوڑ کرکے کتے بلی کا جانگلوسی کھیل کھیلنے کا سمجھوتہ کرلیا۔پاکستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ہر جمہوری اور غیر جمہوری حکومت نے اپنے اقتدار کو محفوظ کرنے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے پولیس کا استعمال کیا ہے اور دلچسپ حقیقت تو یہ ہے کہ جو سیاستدان اپوزیشن میں رہتے ہوئے سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں اور ٹھڈے کھاتے ہیں،گرفتاریاں برداشت کرتے ہیں، جب وہ خود اقتدار میں آتے ہیں تو وہی سب کچھ اس وقت کی اپوزیشن کے ساتھ کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ 

تجزیہ یونس باٹھ 

مزید : صفحہ آخر