تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے!

تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے!
تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے!

  



اب تو سپریم کورٹ نے بھی ثابت کردیا کہ حکومت نااہلوں کا ٹبر ہے جس نے ایک مرتبہ پھراسے نظریہ ضرورت کے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اوپر سے پی ٹی آئی کے ووٹروں سپورٹروں کو دیکھئے جو بددل ہوئے پھر رہے ہیں اور چیف جسٹس کو کوس رہے ہیں کہ انہوں نے اچھا نہیں کیا، نواز شریف کو تو ملک سے باہر جانے دیا اور عمران خان کے اختیارات میں روڑے اٹکانے لگے ہیں۔ ان کے وزیر اعظم تنہا ہوگئے ہیں!

وارث مان نہ کریں وارثاں دا

رب بے وارث کر ماردا اے

حکومت ڈس کریڈٹ ہوئی ہے، اداروں کا حال پتلا ہوا ہے اورا پوزیشن اٹھلا اٹھلا چل رہی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے حکومتی نااہلی پر مہر تصدیق ثبت ہونے سے حکومت کی حمائت میں کمی آئے گی، لوگ اس کو سیریس لینا چھوڑ دیں گے، اس کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیں گے،سنی ان سنی کریں گے اور حکومت کے متبادل کی طرف دیکھنا شروع کردیں گے۔حکومت کی عزت افزائی نہیں ہوئی ہے، اس کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو ڈھنگ سے نہیں نپٹایا گیاہے، وزیر اعظم کے اقدام کو چیلنج کی گیا، صدر کے نوٹیفیکیشن کو چیلنج کیا گیا، حکومتی وزراء سکرینوں سے غائب نظر آئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن بھی سکرینوں سے غائب نظر آئی۔ یہ تو کمال کا موقع تھا، پھر کیا ہوا؟

یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے سامنے مقدمہ تو یہ تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہئے اور وہ بیٹھی حکومتی نوٹیفیکیشن کے سقم دور کرتی رہی۔ اس پر مستزاد یہ کہ حکومتی وکلاء کی ٹیم نے بھی اپنے نوٹیفیکیشنوں پر اصرار نہیں کیا اور بار بار درستگی کرکے میٹرک کے نالائق بچوں کی طرح سلیٹیں دکھاتے رہے۔

دیکھا جائے تو یہ سب کچھ خاموشی سے بھی کیا جا سکتا تھا، سپریم کورٹ اگر نوٹیفیکیشن میں موجود غلطیوں کو نظر انداز بھی کردیتی تو کیا فرق پڑتا، کون سا درخواست گزار نے اپنی درخواست میں اس پہلو کو اٹھایا تھا۔اس کے باوجود جس انداز سے توسیع کے نوٹیفیکیشن میں درستگیاں سکروائی گئیں اس سے یہی لگتا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے گرد ایک حفاظتی حصار(Protective shield)قائم کیاگیا ہے تاکہ توسیع کے بعد کوئی ان قانونی نقاط کو اٹھا کرتوسیع کو متنازع نہ کردے!

اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ نوٹیفیکیشن کی مینا کاری کے دوران پی ٹی آئی کے کارکن اس بات پر جز بز ہوتے رہے کہ ان کے لیڈر کی سبکی کیوں کی جا رہی ہے اور جب سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آگیا تو اپوزیشن حلقوں کے ووٹر سپورٹر پھوں پھوں کرتے پھر رہے ہیں کہ آخر میں سپریم کورٹ کو نظریہ ضرورت اپنا نے کی کیا ضرورت تھی۔

حکومت کے ڈس کریڈٹ ہوئی ہے، اب حکومت کی ڈس اپروول ہوگی کیونکہ اگر اس کواداروں کی سپورٹ حاصل رہتی ہے تو اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف مہم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا،عوام میں پھیلی بددلی بڑھتی چلی جائے گی اور حکومت کی چولیں آواز یں دینا شروع کردیں گی۔تب بھی اگر حکومت تبدیل نہ ہوئی تو اپوزیشن سڑکوں پر آجائے گی اور دھینگا مشتی کے مناظر عام ہوں گے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ عوام کا خواب چکنا چور ہوگیاہے۔ ملک میں کرپشن ختم ہوئی ہے نہ غربت، مہنگائی پر قابو پایا جا سکا نہ روزگار کے مواقع پیدا کیا جا سکے، افسر شاہی کو لگام ڈالی جا سکی نہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکا، کشمیر آزاد ہوا نہ اقوام عالم نے ہماری خبر لی، وزیر اعظم کی تنہائی پاکستان کی تنہائی میں بدل رہی ہے، نیا پاکستان بن سکا نہ نئی کرکٹ ٹیم بن سکی جو 1992کی عظمت رفتہ واپس لا سکے، وہاں تو ہم نے کپتان بھی تبدیل کردیکھا، کیوں نہ یہاں بھی کسی نئے کو چانس دیا جا ئے، خاص طور پر جب اپوزیشن بھی اس کا تقاضا کر رہی ہے۔ وگرنہ چھے ماہ بعد مقتدر ادارے گلی گلی وزارت عظمیٰ لئے پھریں گے تو بھی کوئی اس کا ٹکا مول نہ دے گا!

ایسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لادوا

ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

مزید : رائے /کالم