ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے، ایمل ولی خان

ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزررہا ہے، ایمل ولی خان

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین اور صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے موجودہ نااہل حکمرانوں کی غلط اور ناقص پالیسیوں اور نااہلی کی وجہ سے ملک کی ریاستی ادارے کی ساکھ بری طرح متاثر کرکے رکھ دیا ہے سپیریم کورٹ نے تو قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا عرصہ دے دیا ہے لیکن موجودہ نااہل حکومت تین ماہ کی مہمان ہے ہم اداروں کا احترام کرنا جانتے ہیں لیکن اداروں سے بھی عوام کا احترام کروانا جانتے ہیں اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے موجودہ سلیکٹیڈ حکومت کو فوج لیکر آئی ہے اور یہ بات حکومتی ترجمانوں کے میڈیا بیانات سے ثابت ہو چکی ہے کہ چھ ماہ میں قانون سازی وہ لوگ کروادئیں گے موجودہ حالت کے پیش نظر جنرل باجوہ کو اخلاقی طور پر یہ عہدہ ہی چھوڑدینا چاہیے تھا سی پیک پر امریکہ کا ڈیکٹیشن کسی صورت قبول نہیں سی پیک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا منصوبہ ہے بھارت کشمیری عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈال رہی ہے لیکن ہمارے حکمران کرتاراپور بارڈر پر سکھوں کیلئے بغیر کسی ویزے کے کھول دیا گیا ہے پاکستان کا پنجابی ھندوستان کے سکھ کا بھائی بن سکتا ہے تو پاکستان کا پختون افغانستان کے پختون کا بھائی کیوں نہیں بن سکتا ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں الجمیل ہاوس میں عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ایک بڑے جلسے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر قوم کاکا خیل کے فرزند میاں یحییٰ شاہ کاکا خیل، میاں رحیم شاہ کاکا خیل، میاں بابر رحیم شاہ کاکا خیل نے اپنے خاندان ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا جبکہ اس موقع پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ کے درجنوں کارکنوں نے بھی اے این پی میں شمولیت کا اعلان کی اجلسے سے میاں یحییٰ شاہ کاکا خیل، میاں بابر رحیم کاکا خیل،صوبائی نائب صدر خلیل عباس خٹک، ضلعی صدر جمال خان خٹک، جنرل سیکرٹری انجینئر حامد علی خان نے بھی خطاب کیا اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ کے مشیرسید معصوم شاہ ،سابق ایم پی اے شیر شاہ، ایم پی اے وقار خان، مسعود عباس خٹک، صوبائی سیکرٹری اطلاعات صدر الدین خان، تحصیل صدر زاہد خان، زر علی اور دیگر صوبائی و مقامی رہنما و کارکن بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے بعد حکومتی ایوانوں میں زلزلہ آچکا ہے جس کا نتیجہ عوام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی شکل میں دیکھ لیا ہماری جدو جہد سے تمام ادارے آیئنی طور پر کام کرنے لگے تاریخ میں اتنی ناہل اور جاہل حکومت کبھی نہیں دیکھی عمران خان اپوزیشن کے دھرنے کے بعد ذہنی طور پر مفلوج ہو کر کنٹینر دور کی زبان استعمال کرکے پاکستان کی سیاسی لیڈر شپ کے لئے گندی زبان استعمال کرکے خود ہی ثابت کر رہا ہے کہ حکمران بوکھلاہٹ کے شکار ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نوشہرہ ماضی میں اے این پی کا گڑھ رہا ہے اور رہے گا لیکن نادیدہ قوتوں کیبدولت آج پرویز خٹک کا پورا خاندان اہم عہدوں پر قابض ہیں اور انشااللہ آنے والے غیر جانبدار انتخابات میں ان کا سٖایا کر دیا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت بے اختیار ہے اگر ریاست پاکستان کی سالمیت چاہتی ہے تو وہ رہبر کمیٹی کے چار نکات مان لیں جن میں وزیر اعظم کا مستعفی ہونا، دوبارہ انتخابات، آئین و پارلیمان کی بالادستی شامل ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر