کمشنر کی ڈپٹی کمشنروں کو 4دسمبر سے شروع ہونیوالی پولیو مہم کا میاب بنانیکی ہدایت

کمشنر کی ڈپٹی کمشنروں کو 4دسمبر سے شروع ہونیوالی پولیو مہم کا میاب بنانیکی ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)کمشنر پشاور شہاب علی شاہ نے ڈپٹی کمشنر چارسدہ، ڈپٹی کمشنر مہمند اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہے 4دسمبر سے ان ضلاع کے مخصوص یونین کونسلوں میں شروع ہونے والی خصوصی انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے اور اس کے سو فیصد اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ صوبے سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کو صوبائی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ اس پولیو مہم کے دوران ان یونین کونسلوں میں پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے یقینی پلائے جائیں اور اس سلسلے میں انکاری والدین کے بچوں اور سفر کرنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ کوئی بھی پچہ ان قطروں سے محروم نہ رہے۔ وہ جمعہ کے روز اپنے دفتر میں انسداد پولیو سے متعلق ڈویژنل ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں ان علاقوں میں چلائی جانے والی گزشتہ انسداد پولیو گزشتہ مہم کے مختلف پہلوؤں اور آنے والی مہم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈپٹی کمشنرز مہمند کے علاوہ محکمہ صحت، پولیس، سکیورٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے جلاس میں شرکت کی۔ کمشنر پشاور نے آنے والی مہم کے لئے مائکرو پلان کا ازسر نو جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہا کہ اگر ایک بچہ بھی پولیو ویکسین سے رہ جائے تو وہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے اس لئے سو فیصد ویکسین کوریج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ کمشنر پشاور نے ڈپٹی کمشنر ز اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اضلاع اور یونین کونسل کے سطح پر مائکرو پلان تیار کریں۔ تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین سے رہ نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر ایریا میں پولیو کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے جائیں کیونکہ وہاں سے پولیو کے کیسز کے آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ کمشنر پشاور نے کہا کہ پولیو گزشتہ سال سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے ریفیوزل کیسز میں اضافہ ہواہے۔اس لئے ضروری ہے کہ انکاری والدین کو قائل کرکے ریفیوزل کیسز کو ختم کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر پولیو کیس نہیں ہے تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پولیو کیسز ختم ہو گئے ہیں۔ شہاب علی شاہ نے کہا کہ چیف سیکرٹری پولیو کو خصوصی تر جیح دے رہے ہیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر