پشاور سمیت صوبہ بھر کے لینڈریکا رڈ کو ڈ یجیٹلائز کرنیگے، کامران بنگش

پشاور سمیت صوبہ بھر کے لینڈریکا رڈ کو ڈ یجیٹلائز کرنیگے، کامران بنگش

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش نے کہا ہے کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کو پہلے دن سے بطور چیلنج قبول کیا ہے اور اس پر بہت تیزی سے کام جاری ہے جون2020 تک پشاور کے تمام موضع جات کا اراضی ریکارڈ ڈیجیٹیلائزڈ ہوگا اور اس بارے کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ پٹواری مافیہ کی وجہ سے عوام کے مسئلے کئی کئی سالوں تک اٹکے ہوئے ہیں لیکن ڈیجیٹلائزیشن سے ان سب پر قابو پالیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہارصوبائی معاون خصوصی نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کامران بنگش نے مردان، پشاور، ایبٹ آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات کی کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پر کام مزید تیز کیا جائے اور جہاں کہیں تکنیکی مسائل ہوں ان کے حل کے لئے بھی فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ پشاور کی موضع جات کی لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کامران بنگش نے کہا کہ جون 2020 تک پشاور کے تمام موضع جات کا ریکارڈ ڈیجیٹیلائز ہونا چاہیے۔ اس کو روڈ میپ بناکر دیگر اضلاع کا ڈیٹا بھی ڈیجیٹلائز کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کی طرح وزیرآعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمود خان کے ویژن کے مطابق ہم پورے خیبرپختونخوا کو پٹواری مافیا سے نجات دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پراجیکٹ کے ڈائریکٹر خائستہ رحمان نے کہا کہ پشاور کے تقریبا 80 سے زیادہ موضع جات کا اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے جبکہ اس سال جون تک تمام ڈیٹا ڈیجیٹیلائز ہو جائے گا جس کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر