دوکوٹہ، دوکمسن بچیاں اغوا کے بعد قتل، لاشیں کھیت سے برآمد، ملزم گرفتار

دوکوٹہ، دوکمسن بچیاں اغوا کے بعد قتل، لاشیں کھیت سے برآمد، ملزم گرفتار

  



وہاڑی‘ میلسی‘ دوکوٹہ(بیورو رپورٹ‘ نا مہ نگار،نمائندہ پاکستان) دوکوٹہ درندہ صفت شخص نے اپنی ہوس پوری کرنے کیلئے اپنی دو کمسن کزنوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر دئیے ملزم اظہر نے سات سالہ ثانیہ سے زیادتی سے پہلے پانچ سالہ فوزیہ کو شور کرنے پر گلا دبا کر قتل کیا بعد میں ثانیہ کو بداخلاقی کا نشانہ بنا کر اسے بھی منہ میں کپڑا ڈال کر قتل کر دیا ڈی پی او وہاڑی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ 8گھنٹوں میں ہی ملزم کو تلاش کر کے گرفتار کر لیا تفصیل کے مطابق نواحی اڈا (بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

جہانواہ بستی چمن آباد کی رہائشی دو کمسن بچیاں 7سالہ ثانیہ ولد عبد الغفار اور 5سالہ فوزیہ ولد غلام عباس گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک لا پتہ ہو گئیں تھیں ورثاء کی درخواست پر ان کو مبینہ طور پر اغواء کرنے کا مقدمہ پولیس نے درج کر کے تین افراد محمد ارسلان،محمد حنیف اور محمد فیاض کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ ایف آئی آر کے باقی ملزمان کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس تحصیل کہروڑ پکا میں ریڈ کر رہی تھی کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ دونوں کمسن بچیوں کی لاشیں مکئی کی فصل میں پڑی ہیں جس کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او وہاڑی اختر فاروق موقع پر بھاری نفری کے ہمراہ پہنچ گئے جنہوں نے ورثاء کو تسلی دیتے ہوئے اصل ملزم کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی اس کے بعد انہوں نے اپنی نگرانی میں ٹیمیں تشکیل دیں جنہوں نے 8گھنٹوں کی انتھک محنت سے ملزم محمد اظہر ولد محمد ریاض قوم بھٹی سکنہ چمن آبادجو کہ بچیوں کا کزن ہے کو گرفتار کر لیا جس نے دونوں بچیوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا اس نے بتایا کہ میں دونوں بچیوں کو ورغلا کر قریبی مکئی کے کھیت میں لے گیا جہان پر میں نے سات سالہ ثانیہ سے بداخلاقی کی کوشش کی تو پانچ سالہ فوزیہ نے شور شروع کر دیا جس پر میں نے گلا دبا کر اسے قتل کر دیا جبکہ سات سالہ ثانیہ کو بداخلاقی کے بعد منہ میں کپڑا دے کر قتل کر دیا اور بعد میں ورثاء کے ساتھ مل کر بچیوں کی تلاش بھی جاری رکھی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتشیں جاری رکھی ہوئی ہے ڈی پی او وہاڑی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے انسان نہیں درندے ہیں ملزم اور اس کے ساتھیوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا اور ورثاء کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے گا۔

قتل

مزید : ملتان صفحہ آخر