ماڈل کورٹس فوری انصاف فراہمی کا بہترین ذریعہ‘ اعجاز الحسن اعوان

  ماڈل کورٹس فوری انصاف فراہمی کا بہترین ذریعہ‘ اعجاز الحسن اعوان

  



لیہ‘چوک اعظم(نمائندہ پاکستان‘ نامہ نگار) ماڈل کورٹس کا قیام فوری انصاف کی فراہمی کا بہترذریعہ ثابت ہورہی ہیں جس کے لیے متعلقہ ججز اور ادارے باہمی رابطے تعاون اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں ٹیم ورک کے تحت کام کرنے پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔یہ بات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن (بقیہ نمبر17صفحہ12پر)

جج اعجاز الحسن اعوان نے ماڈل کورٹس کے تحت 12سو زائد مقدمات کا فیصلہ دیے گئے اہداف کے مطابق کرنے پر متعلقہ ججز اور عدالتی اہلکاروں و مختلف اداروں کے افسران و اہلکاروں میں تعریفی اسناد تقسیم کرنے کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ انچارج ماڈل کورٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمدعاشق چغتائی نے 317مقدمات،نجف حیدر کاظمی نے 131مقدمات،اختر عباس نے 320مقدمات،تنویر حسین بابر نے 179مقدمات اور قمرالزمان نے 253مقدمات کا فیصلہ کیا جس کے لیے محکمہ پولیس،ریونیو،صحت،پبلک پراسیکیوٹراور وکلاء صاحبان کا ماڈل کورٹس کو بھر پور تعاو ن حاصل رہا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کہا کہ ماڈل کورٹس کے ذریعے فوری اور سستا انصاف کی فراہمی سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک مستحسن اقدام ہے جس سے نہ صرف عوام کو فوری انصاف میسر ہورہا ہے بلکہ عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ بھی کم ہونے میں نمایا ں مدد مل رہی ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے انچارج متعلقہ ماڈل کورٹ ججز کے ہمراہ سینئرسول جج ملک نعیم شوکت، ڈی ایس پی منور بزدار،ڈی ایس پی عظمت اللہ،سپرنٹنڈنٹغلا م قاسم بلوانی،محمدشاکر،ڈاکٹر شکیل احمد،ڈسڑکٹ پبلک پراسیکوٹر نیاز احمد،ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکوٹر رانا بلال،اے ایس آئی غلام قاسم کے علاوہ عدالتی اہلکاروں محمدیعقوب،ستارہ کنول،ماجد رضا،زاہد اقبال،مظہر اللہ ودیگر میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلم ارشد خان ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹر ی عزیر مہدی قریشی بھی موجود تھے۔

اعجاز الحسن اعوان

مزید : ملتان صفحہ آخر