بڑھتیں فیسیں‘ ڈیرہ‘ کوٹ ادو میں مختلف طلبا تنظیموں کا احتجاج‘ ریلی‘ انتظامیہ کیخلاف نعرے

        بڑھتیں فیسیں‘ ڈیرہ‘ کوٹ ادو میں مختلف طلبا تنظیموں کا احتجاج‘ ...

  



ڈیرہ‘ کوٹ ادو (سٹی رپورٹر‘ تحصیل رپورٹر) سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور بیروزگار نوجوان تحریک نے پریس کلب سے ٹریفک چوک تک مارچ کیا- مارچ کے شرکاء نے تعلیمی اداروں (بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

میں طلباء تنظمیوں کے انتخابات کے فوری انعقاد کامطالبہ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں فیسوں کی کمی اور طبقاتی نظام تعلیم کے فوری خاتمے کامطالبہ کردیاسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور بیروزگار نوجوان تحریک کے تحت طلباء سے اظہار یکجہتی کیلیے پریس کلب سے ٹریفک چوک تک مارچ کیاگیا-- مارچ کے شرکاء نے طلباء تنظیموں پرعائد پابندی اور تعلیمی فیسوں سمیت طبقاتی نظام تعلیم کیخلاف تحریروں اور مطالبات پر مبنی بینرزاور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے اس موقع پر مارچ میں شریک سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں عبدالرؤف خان لنڈ اور عبدالستار لنڈ سمیت دیگرکا کہناتھاکہ تعلیمی اداروں میں طلباء تنظیموں پر ڈکیٹرکیطرف سے عائد کی گئی غیرقانونی پابندی کیوجہ ملک نوجوان قیادت سے محروم ھے۔انقلابی طلباء محاذ اور اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام طلباء یکجہتی مارچ ٹبہ شہر کوٹ ادو تا پریس کلب کوٹ ادو تک طلبہ یونین پر پابندی اور تعلیمی اداروں میں آئے روز بڑھتی ہوئی فیسوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی،ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اویس بھٹہ کنوینر اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، محمدسلیم ایلیمنٹری کالج کوٹ ادو، رافع علی پنجاب کالج،ساون علی پنجاب کالج،عامر لطیف بیروزگار نوجوان تحریک،کامریڈ علی اکبر طبقاتی جدوجہد،حمید اختر چیئرمین مزدور یونین میونسپل کمیٹی کوٹ ادو،غلام قاسم شہزاد جنرل سکریٹری پیپلز پارٹی تحصیل کوٹ ادو،ذوالفقار علی لنڈ پیپلز پارٹی،فضل گرمانی پیپلز پارٹی،امتیاز طاہر پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ35 سال گزرنے کے باوجود طلباء یونینز پر ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی جانب سے لگائی گئی پابندی آج بھی برقرار ہے،جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے مسائل کا ڈھیر بن چکی ہے اور طلباء کو بے شمار مسائل نے جکڑ رکھا ہے,انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے کاروباری مراکز میں تبدل ہوگئے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ فیسوں میں بے تحاشا اضافے، ہاسٹلوں کے دگرگوں صورتحال، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے فقدان، آوٹ ڈیٹڈ نصاب، لائبریریز میں ناکافی لٹریچر، ٹرانسپورٹ سہولت کی عدم دستیابی، اساتذہ کی تدریسی سرگرمیوں میں عدم دلچسپی، مطالعاتی دوروں اورلازمی ورکشاپس کی عدم انعقاد سے طلباء پریشان حال ہیں لیکن اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ان مسائل سے چھٹکارا پانے کیلئے سٹوڈنٹس یونین کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی پالیسیوں میں طلباء کی نمائندگی یقینی بنائی جائے اور اورپرامن ماحول میں تعلیم کی دستیابی ممکن بنائی جاسکے,اس موقع پر طلبہ ومظاہرین نے پلے کارڈبھی اٹھا رکھے تھے جن پر طلبہ یونین کی بحالی اور تعلیمی اداروں میں فیسوں کی کمی،فیسوں میں اضافے نامنظور، طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ، مفت تعلیم ہمارا حق ہے، رعایت نہیں، طلباء یونین بحال کرو، انقلاب کے3 نشان، طلباء مزدور اور کسان،جب لال لال لہرائے گا، تب ہوش ٹھکانے آئے گاکے نعرے درج تھے،اس موقع پر اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جنرل باڈی کا اجلاس بروز سوموار 2دسمبر2019 ایلیمنٹری کالج کوٹ ادو میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیابعد ازاں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

ریلی

مزید : ملتان صفحہ آخر