ٹرمپ کا دورہ افغانستان،اشرف غنی سے ملاقات،طالبان کیساتھ امن مذاکرات بحالی کا اعلان

ٹرمپ کا دورہ افغانستان،اشرف غنی سے ملاقات،طالبان کیساتھ امن مذاکرات بحالی ...

  



کابل(نیوزایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا کی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں گے۔ طالبان معاہدہ کرنا چاہ رہے ہیں اس لیے ہم ان سے ملاقات کررہے ہیں،ہم کہتے ہیں کہ جگ بندی ہونی چاہیے اور وہ سیز فائر نہیں چاہتے تھے لیکن اب وہ بھی جنگ بندی چاہتے ہیں اور میرے خیال سے اب کام ہوجائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچ گئے۔ کرسی صدارت سنبھالنے کے بعد یہ اْن کا افغانستان کا پہلا دورہ ہے۔امریکی صدر کا طیارہ بگرام کے فضائی اڈے پر اترا۔ اس دورے میں ٹرمپ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ اوبرائن اور مشیروں کے ایک چھوٹے گروپ کے علاوہ صدارتی پاسداران کے افسران اور میڈیا کے اداروں کی نمائندگی کرنے والے رپورٹروں کا ایک گروپ بھی افغانستان پہنچا۔ٹرمپ نے بگرام کے اڈے پر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے امریکی فوجیوں کے سامنے خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغان تحریک طالبان امن معاہدے کی خواہش رکھتی ہے۔ ٹرمپ نے خیال ظاہر کیا کہ طالبان فائر بندی چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکا نے طالبان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کر دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں کہ جگ بندی ہونی چاہیے اور وہ سیز فائر نہیں چاہتے تھے لیکن اب وہ بھی جنگ بندی چاہتے ہیں اور میرے خیال سے اب کام ہوجائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی تہوار تھینکس گیوِنگ کے موقع پر اچانک افغانستان پہنچے جہاں انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں گے۔امریکی صدر نے امریکی فوجیوں کوٹرکی (مرغی کی طرح کا ایک پرندہ) کھانے کے لیے پیش کیا جس کے بعد ان کے ساتھ بیٹھ کر تھینکس گیونگ تہوار کا ڈنر کیا۔اس موقع پر انہوں نے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے ساتھ گفتگو کی اور ان کے ساتھ تصاویر بھی لیں۔افغانستان پہنچنے پر امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملے نے ان کا استقبال کیا۔دوسری طرف طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعویٰ کی تصدیق کردی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے افغان مسلح گروہ کے ساتھ غیررسمی بات چیت دوبارہ شروع کردی۔قطری نشریاتی ادارے الجزیزہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان نے بتایا کہ کچھ ابتدائی ملاقاتیں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئیں۔

ٹرمپ 

مزید : صفحہ اول