تاریخ کے روشن ستارے

تاریخ کے روشن ستارے

  



دیوانے کتے کے کاٹے کا

علاج دریافت کرنے والا

لوئی پاسچر

27 دسمبر1822ء کو ڈولے (فرانس)کے مقام پر پیدا ہوا اور 28 ء دسمبر 1895ء کلاوڈکے مقام پر انتقال ہوا۔یہ ایک چمڑا رنگنے والے کا بیٹا تھا۔طبیعات اور کیمسڑی کا استاد رہا۔اس نے بے شمار حیوانی امراض کے علاج دریافت کیے خاص کر باؤلے کتے کے کاٹے کا علاج۔

چھپائی کا موجد

ولیم کیکسٹن

1422ء میں کینٹ (انگستان)کے مقام پر پیدا ہوا اور 1491ء میں انتقال کر گیا۔یوں تو ٹائپ سے چھاپنے کی مشین،گوٹن بزگ نے بہت پہلے ایجاد کرلی تھی،لیکن اس فن کو تجارتی بنیادوں پر ترقی دینے میں ولیم کیکسٹن کا نام بہت زیادہ مشہور ہے۔اس نے اپنا سب سے پہلا چھاپہ خانہ بروچنر میں قائم کیا اور یہیں پہلی کتاب چھائی۔انگلستان میں ویسٹ منسٹر کے مقام پر قائم کیا اور کئی کتابیں چھاپیں۔وہ ایک سمجھ دار تاجر اور فنکار ناشر تھا۔

الپس کے پہاڑوں کو عبور

کر کے رومہ پر حملہ کرنے والا

ہنی بال

247 ق۔م میں پیدا ہوا۔ تبھنیا کے مقام پر 381ق۔م میں محاصرے کی حالت زہر کھا کر مر گیا۔وہ نو سال کی عمر سے کڑی مہمیں سر کرنے لگا تھا۔اس نے رو میوں کے خلاف نفرت کا حلف اٹھایا تھا اور زندگی بھر اس حلف پر قائم رہا۔گھمسان کی لڑائیوں میں ہنی بال کو کبھی شکست نہ ہوتی تھی۔وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت کوہ اپس کو عبور کرکے شمالی اٹلی پہنچنے والا جوان مرد تھا۔اور اپنے اس کار نامے کی وجہ سے بڑی شہرت رکھتا ہے۔

خلافت راشدہ کا ازسر نو

جلوہ دکھانے والے

حضرت عمر بن عبدالعز یز ؓ

آپ مشہور اموی خلیفہ ولید عبدالملک،کے بھتجے اور داماد تھے۔99ھ میں خلیفہ ہوئے۔نیکی،پار سائی اور خدا ترسی کی وجہ سے آپ کو خلافت راشدہ کا پانچواں ستون کہا جاتا ہے۔یہ وہی عمر بن عبد لعزیز تھے جنہوں نے خلیفہ بنتے ہی اپنی اور اپنے سارے خاندان والوں کی جاگیریں ختم کردیں۔یہاں تک کہ اپنے گھر کا قیمتی سامان اور بیوی کا زیور تک بیت المال میں جمع کردیا۔صرف انتالیس برس کی عمر میں دو برس دو مہینے خلافت کرکے اللہ کو پیارے ہوئے۔

پاک وہندکا سب سے بڑا شاعر

غالب

1797ء آگرہ کے مقام پر پیدا ہوئے اور 37 سال کی عمر پاکر 1869ء میں دہلی میں انتقال فرمایا۔مزار حضور نظام الدین اولیاؒ کے پڑوس میں بنا۔اردو زبان کو مرزا غالب پر فخر ہے۔آپ اردو فارسی دونوں زبانوں کے بلند پایہ ادیب اور شاعر تھے۔اردو غزلوں کے دیوان اور فارسی کلیات کے علاوہ مہرنیم روز، اردوئے معلی اور عودہندی آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔ 1857 ء کا انقلاب مرزا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

دنیا کا سب سے بڑا سیاح

ابن بطوطہ

ابو عبداللہ محمد ابن بطوطہ 1304ء میں شر طنجہ میں پیدا ہوا۔اکیس سال کی عمر میں دنیا کی سیاحت کو نکلا اور تقربیا ساری معلوم دنیا کی سیاحت کرنے کے بعد واپس پہنچا۔اس نے اپنے سفر کے دور ان عجیب وغریب لوگ دیکھے اور ان کے عجیب وغریب حالات ایک سفر نامے کی صورت میں قلم بند کیے۔اس نے اٹھائیس برس تک دنیا کی سیاحت کی اور تقربیا پچھتر ہزار میل کا سفر طے کیا۔1378ء میں اس مشہور مسلمان سیاح کا انتقال ہوا۔

ماضی اور مستقبل کا مؤرخ

ایچ۔جی ویلز

21 دسمبر 1886ء کو کینٹ (انگلستان) میں پیدا ہوا۔اس نے نگریری ادبیات میں گونا گوں اضافے کیے۔آؤٹ لاہن آف ہسٹری اس کی بہترین کتاب مانی گئی ہے۔ کہتے ہیں جب اس کی تخلیق ”وار آف دی ورلڈ“کو ریڈیو پر پیش کیا گیا تو شمالی اور جنوبی امریکہ میں بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ سمجھے سچ مچ مریخ والوں نے زمین پر حملہ کر دیاہے۔اس مقبول ادیب نے 13 اگست 1946 ء کو انتقال کیا۔

ہندوؤں کی تہذیب و ثقافت کا مؤرخ

البیرونی

973ء میں خوارزم (ایران)کے پاس،قصبہ ”بیرون“ میں پیدا ہوا۔علم ہبیت اور حساب میں کمال حاصل کیا۔شروع میں وہ خوارزم کے بادشاہ مامون کے دربار میں بھی رہا جہاں بوعلی سینا سے اس کی ملاقات ہوئی۔اس نے ہندوستان آگر ہندووئں کے علوم وفنون سیکھے اور ان کے مفصل حالات سے دنیا کو آگاہ کیا۔”کتاب الہند“اس کی مشور کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ بھی چھپ جکا ہے۔ سلطان مسعود غزنوی کے عہد میں اس کا انتقال ہوا۔

مزید : ایڈیشن 1