بےوقوف کون؟

بےوقوف کون؟

  



کرکٹ کھیلتے کھیلتے ریان نے بہت ”عجیب“ بات کر دی تھی۔ سب نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ دی۔

”تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ناں ریان؟ یہ کیا کہہ دیا تم نے؟“ عندلیب نے قریباً مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔

”تمہارے دماغ پر کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں لگی جو ایسی بات کر دی تم نے؟!“ شارق نے بھی قریباً مذاق اڑایا۔

”پہلے تو تم ٹھیک تھے، اب کیا ہوا تمہیں؟“ شاہ ویز ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔

”میں نے تمہیں کوئی لطیفہ نہیں سنا دیا شاہ ویز! جو تم اتنا ہنس رہے ہو!“ ریحان نے شاہ ویز کو غصیلی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

”یار! پھر تمہیں ہو کیا گیا ہے آخر؟“ شاہ ویز نے ہنسی کو روک کر کہا۔

”یار! مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، میرا دماغ ٹھیک ہے اور میرے سر پر کوئی چوٹ نہیں لگی ہے۔ مجھے تم لوگوں پر اور ان بچوں پر ہنسی آتی ہے جو صبح صبح سکول کی جانب جا رہے ہوتے ہیں۔“ ریحان نے کہا ”کیوں؟ ہم نے اور باقی سکول جانے والے بچوں نے جو کروں جیسا میک اپ کر رکھا ہوتا ہے کیا؟“ عندلیب نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

”اور سکول تو تم خود بھیج آتے ہو، تمہیں خود پر تو ہنسی نہیں آتی۔“ راحم منہ بناتے ہوئے بولا۔

ریحان بولا۔

”تم بہت بڑی بے وقوفی کرنے جا رہے ہو ریان!“ راحکم نے اس کو ترس کی نگاہوں سے دیکھا۔

”بے وقوفی؟“ ریحان ہنسا: ”بے وقوفی تو تم لوگ کر رہے ہو، تم لوگ اپنا وقت ضائع کر رہے ہو، سکول جانے کی بجائے کوئی ہنر سیکھ لینا چاہئے، تاکہ مستقبل میں پچھتانا نہ پڑے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی آدھی زندگی تعلیم حاصل کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں، آدھی زندگی نوکری ڈھونڈنے کے لئے دھکے کھاتے کھاتے! ڈگریاں وگریاں کام نہیں آتیں، کام آتا ہے تو ہنر ہی کام آتا ہے۔“

ریحان نے ان کو سمجھایا۔

”ہم تمہاری باتوں میں نہیں آئیں گے، نہ ایسی کوئی بے وقوفی کریں گے۔“ وہ سب کہہ کر چلتے بنے ”بے وقوف!“ وہ بڑبڑایا اور اپنے گھر چلا گیا۔

دوستو! ریحان نے کرکٹ کھیلنے کے دوران یہ انوکھی بات کی تھی: ”دوستو! میں پڑھائی کو خیر باد کہہ رہا ہوں!!!“

ریحان کو اپنے دوستوں کی طرف سے شدید رد عمل دیکھنے کو ملا تھا۔

٭٭٭

”دنیا کے بہت بڑے بے وقوف ہیں یہ طالب علم!“

وہ اپنے ابو کی کریانے کی دکان پر بیٹھا تھا، صبح کا وقت تھا کچھ طالب علم ٹولیوں کی شکل میں سکول جا رہے تھے، کچھ کو ان کے والدین چھوڑنے جا رہے تھے۔ وہ انہیں طنزیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

دنیا کا بہت بڑا بے وقوف تو وہ خود تھا، اتنی بڑی بے وقوفی کر بیٹھا تھا وہ……!!

٭٭٭

”میں دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف انسان ہوں، میں نے پڑھائی ترک کر کے بڑی غلطی کی تھی۔“

ریحان کو اب احساس ہو چکا تھا۔ وہ تنور پر روٹیاں پکا رہا تھا۔ وہ ایک ہوٹل کے تنور پر روزانہ روٹیاں پکایا کرتا تھا، اس کو اس کام کے تین سو روپے روزانہ مل جایا کرتے تھے۔ وہ روٹیاں پکاتے ہوئے ادھر ادھر پڑھے لکھے لوگوں کو ان کی گاڑیوں میں گھومتا دیکھ لیتا تھا، ان پڑھے لکھے گاڑیوں میں گھومنے والوں میں اکثر اس کے ہم جماعت بھی تھے۔ ان پڑھے لکھے لوگوں کے چہروں پر خوشیوں کے پھول جھڑ رہے تھے اور اس کے چہرے سے پسینہ ٹپک رہا تھا! آگ اور حرارت کے سامنے کام کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ”واقعی! پڑھائی چھوڑ دینا سب سے بڑی بے وقوفی اور غلطی ہے۔“ ریحان نے ایک روٹی تنور پر لگاتے ہوئے سوچا۔ اسے سخت اذیت ہو رہی تھی۔

مزید : ایڈیشن 1