آرمی چیف کےساتھ اور کن کن عہدیداران کی ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون بدلا جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے اعلان کردیا

آرمی چیف کےساتھ اور کن کن عہدیداران کی ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون بدلا ...
آرمی چیف کےساتھ اور کن کن عہدیداران کی ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون بدلا جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے اعلان کردیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور نے کہا ہے کہ حکومت تمام سروسز چیفس (چیف آف آرمی سٹاف، نیول چیف، ایئر چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی) کے لیے توسیع کی شق شامل کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی لائے گی۔

روزنامہ جنگ  میں انصار عباسی نے لکھا کہ  اٹارنی جنرل نے تصدیق کی کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی توسیع پر توجہ مرکوز رکھی تھی لیکن حکومت تمام سروسز چیفس کے لیے توسیع کی اسی شق میں قانون تبدیل کیا جائے گا۔ یادرہے کہ اس سے قبل سوال اٹھایا گیا تھا کہ  سپریم کورٹ کے آرمی چیف کی توسیع کے فیصلے کا اطلاق ایئر چیف اور نیول چیف پر بھی ہوگا یا نہیں کیونکہ یہ دونوں افسران بھی اپنی اپنی متعلقہ فورسز کی کمان آرمی چیف کی طرح کر رہے ہیں اور ملکی سرحدوں کے دفاع سے وابستہ ذمہ داریوں کے لحاظ سے اسی کیٹگری میں شمار ہوتے ہیں۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ حکومت آئینی ترمیم کرے گی یا مقصد کے حصول کیلئے سادہ قانون سازی کرے گی۔ آئین کے آرٹیکل 243 پر سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی توسیع کے کیس میں گزشتہ چند روز سے تفصیلاً بحث ہوئی ہے، یہ آرٹیکل تینوں عسکری سربراہان (آرمی، نیوی اور فضائیہ) اور ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے متعلق ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپنے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی واضح یقین دہانی کا حوالہ دیا کہ ماضی میں دی جانے والی توسیع (ا?رمی چیفس کی جانب سے خود کو دی جانے والی توسیع یا پھر حکومت کی جانب سے ملنے والی توسیع جو جنرل قمر جاوید باجوہ کیس میں بھی دی جارہی ہے) کی روایتوں کو اب قانونی شکل دی جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے حلف نامہ جمع کرایا تھا کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں ضروری قانون سازی کیلئے اقدامات کرے گی اور مطلوبہ کام 6 ماہ میں کر لیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے آرڈر میں لکھا ہے کہ ”یہ دیکھتے ہوئے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کمان، نظم و ضبط، تربیت، انتظامیہ، تنظیم اور جنگی تیاری کے ذمہ دار ہیں، اور وہ جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف ایگزیکٹو ہیں، ہم نے عدالتی لحاظ سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور یہ معاملہ پارلمنٹ اور وفاقی حکومت پر چھوڑا ہے کہ اب وہ چیف آف آرمی اسٹاف کی ملازمت کی شرائط و قوائد کا تعین ایکٹ ا?ف پارلیمنٹ کے ذریعے کرے تاکہ اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 234 کا دائرہ واضح ہو سکے۔“ جس طرح سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی ذمہ داریوں اور کام کاج کے حوالے سے اپنے آرڈر میں فرمایا ہے، بالکل اسی طرح ایئر فورس اور بحریہ کے سربراہان بھی اپنی اپنی متعلقہ فورسز میں اپنی کمان، نظم و ضبط، تربیت، انتظامیہ، تنظیم اور جنگی تیاری کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور وہ بھی اپنے اپنے متعلقہ ہیڈکوارٹرز میں چیف ایگزیکٹو ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آئین کے جس آرٹیکل 243 پر زیادہ بحث ہوئی ہے وہ تمام مسلح افواج کی کمان کے متعلق ہے۔ یہ آرٹیکل تمام سروسز چیف کے تقرر کا ایک ہی طریقہ بیان کرتا ہے۔

آرٹیکل 243? میں لکھا ہے کہ … وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کی کمان اور کنٹرول ہوگا۔

(2) قبل الذکر حکم کی عمومیت پر اثر انداز ہوئے بغیر، مسلح افواج کی اعلیٰ کمان صدر مملکت کے ہاتھ میں ہوگی۔

(3) صدر مملکت کو قانون کے تابع یہ اختیار ہوگا کہ وہ (الف) پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج اور مذکورہ افواج کے محفوظ دستے قائم کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے؛ اور (ب) مذکورہ افواج میں کمیشن عطا کرے۔

(4) صدر مملکت، وزیراعظم کے ساتھ مشورے پر (الف) چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، (ب) چیف آف آرمی اسٹاف، (ج) چیف آف نیول اسٹاف؛ (د) چیف آف ایئر اسٹاف کا تقرر کرے گا، اور ان کی تنخواہوں اور الاﺅنسز کا تعین بھی کرے گا۔

اخبار کے مطابق اٹارنی جنرل کی سپریم کورٹ کو کرائی جانے والی یقین دہانی کے تناظر میں، توقع ہے کہ حکومت آرمی چیف کو ان کی ملازمت میں توسیع دینے کیلئے قانون میں ترمیم کی خاطر نئی قانون سازی کرے گی۔ آرٹیکل 243? میں ترمیم کی جائے گی یا پھر آرمی ایکٹ یا کسی دوسرے متعلقہ قانون میں نیا اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم، سپریم کورٹ کے فیصلے یا اٹارنی جنرل کی یقین دہانیوں سے بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ توسیع کی شق متعارف کرائی جائے گی یا نہیں، اور کیا اس کا اطلاق صرف آرمی چیف پر ہوگا یا ایئر فورس اور بحریہ کے سربراہان اور ممکنہ طور پر چیئرمین جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔ گزشتہ دو روز کی سماعت کے دوران، اپنے مشاہدات میں سپریم کورٹ نے جرنیلوں کی جانب سے بار بار توسیع لینے کی ماضی کی روایات کا ذکر ایک ایسے اقدام کے طور پر کیا جس کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم، اپنے فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر انحصار کیا تاکہ اس طرح کی روایات کو قانونی شکل دی جائے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد