مولانا فضل الرحمان کا مرکزی دھرنا ختم لیکن انہیں کب تک عام انتخابات کی یقین دہانی کروائی گئی ؟ تہلکہ خیز دعویٰ منظرعام پر

مولانا فضل الرحمان کا مرکزی دھرنا ختم لیکن انہیں کب تک عام انتخابات کی یقین ...
مولانا فضل الرحمان کا مرکزی دھرنا ختم لیکن انہیں کب تک عام انتخابات کی یقین دہانی کروائی گئی ؟ تہلکہ خیز دعویٰ منظرعام پر

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کیخلاف کراچی سے شروع ہونیوالا مارچ اور پھر اسلام آباد میں دھرنا مولانا فضل الرحمان حکومتی ٹیموں کیساتھ مذاکرات کے بعد ختم کرچکے ہیں اور اب وہ چھوٹے چھوٹے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں، اس دوران مولانا فضل الرحمان اور مذاکرات کرنیوالے چوہدری پرویز الٰہی کے بھی مختلف بیانات سامنے آچکے ہیں تاہم کسی نے بھی ان کے متن یا تفصیل کے بارے میں آگاہ نہیں کیا، اب پہلی مرتبہ صحافی ارشد وحید چوہدری نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپریل مٰیں انتخابات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ۔ 

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ ’’ مولانا فضل الرحمٰن جب سے پلان بی، سی کے نام سے دھرنا سمیٹ کر رخصت ہوئے ہیں وزیراعظم کے استعفے کے بجائے ملک میں نئے انتخابات کے مطالبے کو دہرائے جا رہے ہیں اور تو اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

مولانا جس یقین دہانی کی بنیاد پہ اسلام آباد سے واپس گئے، اس کی تفصیلات سے انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا کو باضابطہ آگاہ بھی کر دیا ہے جس کے مطابق انہیں اپریل تک ملک میں نئے الیکشن کرانے کی ضمانت دی گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے منعقد کی گئی حالیہ اے پی سی میں ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کو ترک کر کے اب صرف ملک میں فوری طور پہ نئے اور شفاف الیکشن منعقد کرانے کے مطالبے پہ سختی سے کاربند رہنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’بلاول بھٹو سمیت اے پی سی میں شریک اپوزیشن رہنما بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک میں الیکشن کمیشن نامکمل ہے جس کے سندھ اور بلوچستان سے دو ارکان کی مہینوں گزر جانے کے باوجود تقرری ممکن نہیں ہو سکی، اس ناکامی کی وجہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ہے، معاملہ عدالت سے ہو کر واپس انہی سیاستدانوں کے پاس پہنچ چکا ہے جبکہ اب چیف الیکشن کمشنر بھی چند دنوں میں ریٹائرڈ ہونے والے ہیں تو جو قانون ساز نو ماہ میں الیکشن کمیشن کے دو ارکان کا تقرر نہیں کرسکے وہ اس کے سربراہ کی تعیناتی پہ کیسے جلد متفق ہوسکتے ہیں۔ 

دوسری طرف انتخابی اصلاحات پہ رتی برابر بھی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، اس ضمن میں جو انتخابی کمیٹی قائم کی گئی تھی وہ بھی دس ماہ سے ٹی او آرز پہ اتفاق نہ ہونے کے باعث غیر فعال ہے‘‘۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد