خلائی مخلوق کا نام آپ نے بھی سن رکھا ہوگا لیکن یہ دراصل کون لوگ ہیں؟ سینئر صحافی نے ساری کہانی بیان کردی

خلائی مخلوق کا نام آپ نے بھی سن رکھا ہوگا لیکن یہ دراصل کون لوگ ہیں؟ سینئر ...
خلائی مخلوق کا نام آپ نے بھی سن رکھا ہوگا لیکن یہ دراصل کون لوگ ہیں؟ سینئر صحافی نے ساری کہانی بیان کردی

  



لاہور ( کالم: ڈاکٹر شفیق جالندھری) سابق ایم این اے محترمہ مہناز رفیع ایک متحرک سیاسی اورسماجی رہنما ہیں، جنہوں نے حقوق نسواں اور عوامی سطح پر لوگوں کے شعور میں اضافے کے لئے طویل عرصے تک جد و جہد کی ہے۔ ایلاف کلب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ دور میں عوام کو درپیش سنگین مسائل کا اعتراف کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایلاف کلب کے اراکین جیسے مدبر اور دانشور لوگوں کو عوامی صفوں میں آکر سماجی کام کرنا چاہئے اور صحت، تعلیم، نظم و نسق اوراخلاقیات کے سلسلے میں عوامی شعور اور احساس ذمہ داری میں اضافہ کرنا چاہئے۔

محترمہ مہناز رفیع نے کہا کہ انہوں نے اپنی سیاست کا زیادہ وقت جناب ائیر مارشل اصغر خان کی جماعت تحریک استقلال میں گزارا، پیپلز پارٹی کی موجودگی میں اور اس کے بعد بھی یہ جماعت سب سے مقبول اور مضبوط جماعت تھی، جس کے اندر باقاعدہ جماعتی ا نتخابات ہوتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے بعد اگر ضیاء اَلحق وعدے کے مطابق نوے دن میں عام انتخابات کرادیتے تو ان میں یقینا تحریک استقلال ہی کامیاب ہوکر سامنے آتی، لیکن یہ انتخابات نہ ہوسکے۔

ائیر مارشل اصغر خان بہت اصول پسند اور متحرک انسان تھے، لیکن وہ اقتدار کے لئے اصولوں کو قربان کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، نہ ہی وہ دوسروں سے یہ توقع کرتے تھے کہ اقتدار انہیں جھوٹ بولنے اور قوم کو دھوکا دینے پر آمادہ کردے گا۔ اس موقع پر ایلاف کلب کے ایک ممبر نے کہا کہ ائیر مارشل اصغر خان کا واسطہ بھی خلائی مخلوق سے پڑ گیا تھا۔

ایک دوسرے رکن نے کہا کہ ہمیں یہ طے کرلینا چاہئے کہ آخر پاکستان کے اقتدار و اختیار کے سلسلے میں خلائی مخلوق کی حیثیت ہے کیا؟ ایک صاحب نے کہا کہ یہ یقینا ایسی طاقت ہے جس کا حکومتوں کی تشکیل اور گرانے میں بڑا ہاتھ ہوتا ہے، جس کا نظر نہ آنے والا وجود اکثر و بیشتر ملک کے اہم ترین فیصلے کرتا یا دوسروں کو ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس کا صاف مطلب ہے کہ یہ غیر مرئی طاقت یا ہاتھ حکومت کے علاوہ ایک متوازی یا بالائی طاقت ہے۔ ایک صاحب نے رائے ظاہر کی کہ ہمیں صاف صاف اعتراف کرنا چاہئے کہ یہ فوج ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ کسی نے ہمارے متعلق خوب کہا ہے کہ ملکوں کے لئے آرمی رکھی جاتی ہے، لیکن یہ ملک آرمی کے لئے ہے۔

ایک دوسرے صاحب نے کہا کہ مجھے ایک موقع پر ایک امریکی دوست نے کہا تھا کہ تمہارا ملک تین ایمز 3Ms کے لئے بنا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا: تین ایم کیا ہیں۔ اس نے کہا: ملا، ملٹری اینڈ مرچینٹس۔ ایک دوسرے صاحب نے کہا جتنے منہ اتنی ہی باتیں، ویسے ہمیں صرف زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرنی چاہئے۔ جاوید نواز نے کہا کہ فوج تو غیر مرئی طاقت نہیں ہے۔

ملک کے معاشی، خارجہ امور ا ور دفاع کی پالیسیوں سے متعلق فوج کی اپنی رائے ہوتی ہے جسے پذیرائی ملتی ہے، لیکن اب تک خلائی مخلوق کی تعریف کے سلسلے میں جو رائے سامنے آئی ہے، اگر اسے مان لیا جائے تو یہ ملک میں موجود ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا تعلق سیاستدانوں، بیورو کریٹس، سول سوسائٹی، عدلیہ، سابق فوجی افسروں، سابق سول انتظامیہ کے اراکین اور سابق ججوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ ان کے لئے حاضر سروس ہونا ضروری نہیں، ان میں ملک کے بڑے کاروباری لوگوں سے بھی کوئی شخص ہوسکتا ہے۔

ایک دوسرے رکن نے کہا: اصل خلائی مخلوق یہی لوگ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر مرحوم پیر پگارو نے دانشوروں کی ایک مجلس میں کہا تھا کہ آپ کی قوم صرف خواہشیں کرتی رہتی ہے، لیکن جن قوموں نے آگے بڑھنا ہوتا ہے وہ سو سال پہلے پلاننگ کرتی ہیں، اس کے لئے سرمایہ کاری کرتی ہیں اور محنت کرتی ہیں، تب جاکر ان کے پروگرام پورے ہوتے ہیں، دوسری طرف آپ لوگ ہیں کہ صرف خواہشیں ہی کرتے ہو۔

انہوں نے کہا تھا کہ آپ کی بیوروکریسی میں چوٹی کے عہدوں پر بیٹھے ہوئے درجنوں لوگ باہر کی طاقتوں کے خرید ے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کا نیٹ ورک ہمیشہ بہت مضبوط ہوتا ہے، وہ ہمارے ملک میں بیرونی اشاروں پر بڑے بڑے کام کرتے رہتے ہیں، اور اکثر وزیر اعظم جیسے لوگوں کو بھی بہت سے فیصلوں کو علم نہیں ہوپاتا کہ یہ فیصلے کس نے کس کے ایما پر کردیئے ہیں۔ ان لوگوں کو بین الاقوامی ایجنسیوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

بحث میں حصہ لینے والے ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں پی آئی اے، ٖپاکستا ن سٹیل ملز اور ریلوے جیسے بڑے اداروں کی تباہی اور آج تک پاکستان میں موجود گیس، تیل و سونے کے ذخائر سے فائدہ نہ اٹھاسکنے اور کالا باغ ڈیم کی مخالفت کے پیچھے بھی انہی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ حاضرین نے اس کی تائید کی۔

ایک صاحب نے کہا کہ ملک بھر میں علاقائی، لسانی، نسلی اور مذہبی تعصب اور نفرت کو اچھالنے اور ملک کی کمزوری بنا دینے کے پیچھے بھی یہی خلائی مخلوق سرگرم ہے۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آئی کہ ہمارے ملک کے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کے مالکان کو اپنا مال و دولت ملک سے باہر لے جانے، ملک سے برین ڈرین کا باعث بننے والے، کرپشن کی سرپرستی فرمانے والے سب اسی خلائی مخلوق کے کرتا دھرتا یا اس کی سرپرستی میں کام کرنے والے لوگ ہیں۔

آخرمیں یہ سوال سامنے آیا کہ ہم اس خلائی مخلوق سے کس طرح نجات حاصل کرسکتے ہیں؟ ایک خیال یہ ظاہر کیا گیا کہ نہ ہی ہم قوم کی حیثیت سے اتنے مضبوط ہیں اور نہ معاشی لحاظ سے کہ ہر سطح پر خلائی مخلوق کا خم ٹھونک کر مقابلہ کرسکیں، اس کے لئے فی الحال ہمیں اچھی تعلیم اور اچھے کردار کے ذریعے صورت حال سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔

ایک صاحب نے کہا کہ دنیا کا ممتاز سائنسدان سٹیفن ہائیکنگ گذشتہ اپریل میں وفات پانے سے قبل انسانیت کے لئے چھوڑی گئی اپنی نصیحت میں یہ کہہ گیا ہے کہ انسان کو خلائی مخلوق سے رابطے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ خلائی مخلوق ذہانت اور ٹیکنالوجی میں ہم سے لاکھوں اور کروڑوں سال آگے ہے، اگر وہ ہماری زمین پر آگئی تو اس صورت میں ہماری حالت وہی ہوگی جو یورپ کی ترقی یافتہ اقوام کے امریکہ میں جانے کے بعد وہاں کے قدیمی باشندوں ریڈ انڈین کی ہوئی تھی، ا سی طرح سٹیفن ہائیکننگ نے انسان کو مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں بھی آگے بڑھنے سے منع کیا ہے اور اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح تیار کئے گئے انسان نما کمپیوٹر بالآخر اپنے خالق انسان پر اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی وجہ سے کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

اس پر آخری خیال یہ سامنے آیا تو پھر ہمیں بابائے خلائی مخلوق جناب ڈونلڈ ٹرمپ ہی سے اچھے تعلقات بنانے چاہئیں، اور اس کی خلائی مخلوق سے نجات پانے کے لئے اسی سے التجا کرنی چاہئے، شاید کسی وقت اس کا دل پسیج جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہمیں اپنی جوہری طاقت کو انتہائی مصنوعی ذہانت سے کسی طرح کم خطرناک نہیں سمجھنا چاہئے اور اس سلسلے میں بے حد محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

۔

 نوٹ:یہ کالم نویس کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور