آزادی مارچ کے دوران نوجوان کی ہلاکت، مولانا فضل الرحمان مشکل میں پھنس گئے

آزادی مارچ کے دوران نوجوان کی ہلاکت، مولانا فضل الرحمان مشکل میں پھنس گئے
آزادی مارچ کے دوران نوجوان کی ہلاکت، مولانا فضل الرحمان مشکل میں پھنس گئے

  



کراچی  (ویب ڈیسک)آزادی مارچ کے دوران کنٹینر سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد نے رہبر کمیٹی، مولانا فضل الرحمٰن، شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو فریق بناتے ہوئے مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔عثمان کے والد نے مولانا فضل الرحمٰن، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی ہے ، وکیل اکرام چوہدری کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ اندراج کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ 6 نومبر کو نائنتھ ایوینیو پر میرا بیٹا رات کو اسٹریٹ لائٹس بند ہونے اور آزادی مارچ کے کنٹینر سے ٹکرانے کی وجہ سے جاں بحق ہوا ہے۔عثمان کے والد نے اپنی درخواست میں کہا کہ میرے بیٹے کی موت کی ذمہ داری آزادی مارچ انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ایس ایچ او تھانہ کراچی کمپنی کو اپوزیشن رہنماﺅں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔واضح رہے کہ درخواست میں اکرم درانی، میر حاصل بزنجو، عثمان کاکڑ اور ڈی سی حمزہ شفقات کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد