’انہوں نے ہم سے زبردستی کی، وہ چاہتے تھے ہم اُنہیں دکھائیں کہ ہم جنس خواتین تعلق کیسے قائم کرتی ہیں‘

’انہوں نے ہم سے زبردستی کی، وہ چاہتے تھے ہم اُنہیں دکھائیں کہ ہم جنس خواتین ...
’انہوں نے ہم سے زبردستی کی، وہ چاہتے تھے ہم اُنہیں دکھائیں کہ ہم جنس خواتین تعلق کیسے قائم کرتی ہیں‘

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں دو ہم جنس پرست لڑکیاں بس میں سوار تھیں کہ تین نوجوان آ گئے اور ان سے ایک انتہائی شرمناک مطالبہ کر دیا اور پورا نہ کرنے پر دونوں لڑکیوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ میل آن لائن کے مطابق 29سالہ ایئرہوسٹس کرسٹین ہینیگن اور اس کی 28سالہ گرل فرینڈ ڈاکٹر میلانیا ریمریز لندن کے علاقے کیمڈن میں بس میں سفر کر رہی تھی کہ اس دوران تین نوجوان ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور ان سے کہا کہ وہ انہیں بس میں ہی آپس میں جنسی تعلق قائم کرکے دکھائیں۔

ان نوجوانوں کی عمریں بالترتیب 15،16اور 17سال تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم جنس پرست خواتین جنسی تعلق کیسے قائم کرتی ہیں۔ جب کرسٹین اور میلانیا نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو ان تینوں اوباشوں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور مار مار کر لہولہان کر دیا۔ کرسٹین کا کہنا تھا کہ ”میں اور میلانیا بس میں ایک دوسری سے بغل گیر تھیں اور بوسہ دے رہی تھیں جس سے ان تینوں کو پتا چل گیا کہ ہم ہم جنس پرست ہیں اور انہوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ہمارے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ لندن میں ہم جنس پرست خواتین کو آئے روز ایسے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“ رپورٹ کے مطابق پولیس نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور انہوں نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس