جاسوسی کرنے والے پاک فوج کے دو افسروں کو موت کی سزا، لیکن یہ کس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے پکڑے گئے؟ جان کر آپ بھی ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو داد دیں گے

جاسوسی کرنے والے پاک فوج کے دو افسروں کو موت کی سزا، لیکن یہ کس چھوٹی سی غلطی ...
جاسوسی کرنے والے پاک فوج کے دو افسروں کو موت کی سزا، لیکن یہ کس چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے پکڑے گئے؟ جان کر آپ بھی ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کو داد دیں گے

  



راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والے پاک فوج کے دو افسروں کو فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں سے بریگیڈیئر راجا رضوان کو گزشتہ ہفتے پھانسی دے دی گئی جبکہ وسیم اکرم نامی انجینئر سزا پر عملدرآمد کا منتظر ہے۔ یہ دونوں افراد ایک ایسی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے پکڑے گئے کہ سن کر آپ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو داد دیں گے۔ دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق وسیم اکرم نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن (این ای ایس سی او ایم)میں تعینات تھا۔ یہ ادارہ میزائلوں کی تیاری کا ذمہ دار ہے۔ وسیم اکرم اپنی پیشہ وارانہ مہارت کے باعث شاہین 2اور شاہین 3کی تیاری میں ٹیم کا اہم حصہ تھا۔ شاہین 2کی تیاری میں اس کی مہارت دیکھتے ہوئے شاہین 3کے لیے اسے انجن اور موٹر ڈویلپمنٹ ٹیم کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ وہ ایک سینئر عہدے پر تھا جس کی وجہ سے اس پر شک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایک بار اسے سرکاری سطح پر امریکہ میں ایک تربیتی پروگرام میں شرکت کے لیے بھیجا گیا۔ اس کے بعد وہ اکثر امریکہ جانے لگا۔ وہ امریکی ریاست نیو میکسیکو جاتا جہاں امریکہ کی دو مرکزی نیوکلیئر لیبارٹریاں سینڈیا اور لاس الیموس واقع ہیں۔ اس کے وہاں جانے پر اس لیے شک نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہاں یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے البوکوئرک کیمپس میں ایک نیوکلیئر ری ایکٹر ہے جہاں طالب علموں کو تجربات کروائے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہی سمجھا جاتا رہا کہ وسیم اکرم اس یونیورسٹی میں جاتا ہے۔

انہی امریکی دوروں کے دوران وسیم اکرم نے وہاں جواءکھیلنا شروع کر دیا اور ایک روز اسے امریکی سکیورٹی اداروں نے پکڑ لیا۔ یہی وہ وقت تھا جب وہ امریکی جاسوس بن گیا۔ وہ واپس پاکستان آیا اور یہاں سے امریکہ کو خفیہ اطلاعات پہنچانے لگا اور اسی دوران بریگیڈیئر رضوان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔ وہ دونوں کبھی نہ پکڑے جاتے لیکن پھر یوں ہوا کہ امریکہ نے انہی کی فراہم کردہ اطلاعات پر پاکستانی میزائل پروگرام کو سبوتاژ کرنے اور اس میں سست روی لانے کی کوشش کی جس سے پاکستانی خفیہ ایجنسیاں چوکنا ہو گئیں۔ پھر جنوری 2016ءمیں شاہین تھری کا ایک معمول کا تجربہ کیا گیا جو کہ ناکام ہو گیا حالانکہ اس سے قبل 2015ءمیں اس میزائل کے دو کامیاب تجربات کیے جا چکے تھے۔ یہ تجربہ ناکام ہونے پر ایک انکوائری شروع کی گئی جس میں ان کی جاسوسی کا راز تو نہ کھلا لیکن یہ پتا چل گیا کہ وسیم اکرم نے امریکہ میں ساڑھے 4لاکھ ڈالر مالیت کا ایک گھر خرید رکھا ہے۔ یہاں وسیم اکرم نے یہ غلطی کی کہ امریکہ میں یہ گھر براہ راست اپنے ہی نام پر خرید لیا تھا۔اس پر حکام کو شبہ ہوا کہ اس نے کوئی کرپشن کی ہو گی۔ اسی انکوائری کے دوران وسیم اکرم کے بریگیڈیئر راجا رضوان کے ساتھ مسلسل رابطوں کا بھی انکشاف ہوا اور یہ وہ وقت تھا جب حکام کو ان کے جاسوس ہونے کا شبہ ہوا۔ اس کے تین میں سے دو بچے’ایک بیٹا اور ایک بیٹی‘ امریکہ میں زیرتعلیم تھے اور گرین کارڈ ہولڈر بن چکے تھے۔ یہ علم ہونے پر وسیم اکرم کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے دوران تفتیش اپنے اور راجا رضوان کے امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کا راز اگل دیا۔ اس اعتراف پر راجا رضوان کو بھی پکڑ لیا گیا جس نے اعتراف کیا کہ وہ 2012ءمیں برلن میں ڈیوٹی کے وقت سے امریکہ کے لے جاسوسی کر رہا تھا۔ یوں ایک میزائل تجربہ ناکام ہونے سے شروع ہونے والی انکوائری نے ان امریکی جاسوسوں کو بے نقاب کر دیا اور بالآخر وہ اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی