حکومت اوراپوزیشن کےدرمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کےمعاملےپرتعطل کاخطرہ پیدا ہو گیا

حکومت اوراپوزیشن کےدرمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کےمعاملےپرتعطل کاخطرہ ...
حکومت اوراپوزیشن کےدرمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کےمعاملےپرتعطل کاخطرہ پیدا ہو گیا

  



اسلام آباد(صباح نیوز)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے معاملے پر تعطل کا خطرہ پیدا ہو گیا،وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کی طرف سے اَرسال تینوں نامزدگیوں پرتحفظات  کا اظہار کردیا ہے،اپوزیشن کی نامزد شخصیات کی اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں سے قریبی وابستگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ،وزیراعظم آفس کو   چیف الیکشن کمشنر سے متعلق  اپوزیشن لیڈر کا خط موصول ہوگیا ہے۔

رپورٹ کےمطابق حکومت نےاپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی چیف الیکشن کمشنر کی تقررکےلیےنامزدگیوں پرابتدائی طورپراعتراض کردیاہے،وزیراعظم آفس نےتحریری تحفظات سےاپوزیشن لیڈرکو آگاہ کرنےکافیصلہ کرلیاہے جبکہ اپوزیشن لیڈرکوخط لکھنے کے لئے مشاورت  شروع کردی گئی ہے،وزیراعظم کی منظور ی کےبعدخط اپوزیشن لیڈرکو ارسال کردیاجائےگا۔حکومت کی طرف سےتحفظات ظاہرکیےگئےہیں کہ نامزدگیوں میں ایک سابق وزیراعظم نوازشریف کےپرنسپل سیکرٹری  اور مسلم لیگ ن کےدورمیں پنجاب کے چیف سیکرٹری رہےہیں،شریف خاندان سے قریبی مراسم ہوسکتے ہیں،اس طرح اپوزیشن کی  ایک نامزد شخصیت  سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے رفقاء میں شامل رہے ہیں۔وزیراعظم نے فیصلہ کیاہےکہ غیرمتنازعہ شخصیت کو چیف الیکشن کمشنرمقرر کیا جائے گا، تیسری نامزدگی کے بارے میں اعتراض لگا ہے وہ  بھی اپوزیشن کے دورحکومت میں وفاقی سیکرٹری رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر کے لئے نامزد شخصیات کی اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں سے قریبی وابستگی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے،چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر ڈیڈ لاک کا خطرہ پیداہوگیا ہے،وزیراعظم اپوزیشن لیڈراورپھرپارلیمانی پارٹی میں اس معاملے پرڈیڈلاک کی صورت میں آئین میں  کوئی متبادل راستہ بھی موجود نہیں ہےکیونکہ اِس معاملے میں ایوان صدر کی مداخلت کو عدلیہ سے مستردکیا جاچکا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد