دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں شامل ہوں:مولانافضل الرحمان

دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں ...
دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں شامل ہوں:مولانافضل الرحمان

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینی مدارس کا کردار قیامت تک جاری رہیگا،دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کادرس دینے والےپہلےخود اِسلامی دھارے میں شامل ہوں،برصغیر کی تقسیم کیساتھ ہی ہمارے نظام تعلیم کو بھی تقسیم کیا گیا،سرکار اور مدارس کے نظام تعلیم کو الگ الگ تصور کیا جاتا ہے،اِس تقسیم کو ایک سازش تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس پر ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے، خوش آئند بات تو یہ ہے کہ ہمارے مدرسے کا کوئی استاذ اور طالب علم تمہارے دروازے پر نوکریاں مانگنے نہیں آئے بلکہ لاکھوں گریجویٹ سرکار سے نوکریاں مانگنے کیلئے اُن دروازوں پر ہیں مگر حکمران پہلے سے برسر روزگار نوجوانوں کو بیروزگار کرنے پر تلا ہوئے ہیں۔

 کراچی کے مختلف  دینی جامعات کے  دورہ کے موقع  پر گفتگو کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا ہمارے اکابرین میں کوئی شخصیت ایسی نہیں مل رہی جنہوں نے علی گڑھ کے نصاب تعلیم پر اعتراض کیا ہو، ہاں اس میں اصلاحات کیلئے ضرور جدوجہد کی ،ہمارے اکابرین نے ہمیشہ نظام تعلیم کی اس تقسیم کی مخالفت کی ہے، آج حکمرانوں کو مدارس کے طلبا کی فکر کیسے لاحق ہوگئی؟دینی مدارس کا کردار قیامت تک جاری رہیگا،دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا درس دینے والے پہلے اسلامی دھارے میں شامل ہوں، دینی مدارس قومی کے دھارے میں شامل ہی نہیں بلکہ اسکے علمبردار ہیں،دینی مدارس کا نصاب تعلیم ایک ایسا جامع نصاب ہے جسکا متبادل دنیابھر کی یونیورسٹیز نہیں دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے والے بیرونی ایجنڈے کو نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ دینی مدارس کی آزادی اور خود مختاری کا ہر طرح دفاع کریں گے، دینی مدارس کے طلبا میں عصری مضامین میں ٹاپ کرنے والے طلبا کو ترجیح دینا علوم نبوتﷺ کی توہین کرنے کے مترادف ہے, ایسی سوچ قائم کرنے سے دینی علوم کی روح متاثر ہوتی ہے لہذا ارباب مدارس کو ایسی سوچ کی حوصلہ افزائی کےبجائے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، دینی مدارس علوم نبوتﷺ کی چھاؤنیاں ہیں،اِنہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کےبیرونی ایجنڈے کی تکمیل سے دینی مدارس کی اصل حیثیت کو مجروح کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا جائے گا۔ 

مزید : قومی