قانون سازی بڑی آسانی سے تین ماہ کے اندر ہو گی،دوتہائی اکثریت بھی چاہیے ہو گی تو مسئلہ نہیں ہو گا:سینیٹر فیصل جاوید

قانون سازی بڑی آسانی سے تین ماہ کے اندر ہو گی،دوتہائی اکثریت بھی چاہیے ہو گی ...
قانون سازی بڑی آسانی سے تین ماہ کے اندر ہو گی،دوتہائی اکثریت بھی چاہیے ہو گی تو مسئلہ نہیں ہو گا:سینیٹر فیصل جاوید

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ انتہائی قومی مفاد کے لئے قانون سازی ہونے جا رہی ہے ، ہر رکن پارلیمنٹ اپنی رائے رکھتا ہے، اسے اپنی بات کرنے کی آزادی ہے،پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو کچھ خاندانوں نے یرغمال بناہوا تھا،لیکن اب اراکین نے فیصلہ کر لیا ہے،اب ایسے نہیں چلے گا ،سب دیکھ لینگے کہ یہ قانون سازی بڑی آسانی سے ہو جائے گی، یہ قانون سازی تین ماہ کے اندر اندر ہو گی۔

نجی ٹی وی سےگفتگوکرتےہوئےسینیٹر فیصل جاوید نےکہاکہ اِنتہائی قومی مفاد کے لئے قانون سازی ہونے جارہی ہے،ایکٹ آف پارلیمنٹ کے لئے سادہ اکثریت چاہیے،اگر قانون سازی دو تہائی اکثریت کے طرف جاتی ہے تب بھی بات قومی مفاد کی ہے،کچھ ایسے گند ے انڈے ہیں جن کو نکال کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لوگ ہمارے کمیٹیوں اور قانون سازی کے عمل میں بڑا فعال کردار ادا کرتے ہیں،یہ قانون سازی اس وقت کے لئے نہیں بلکہ آنے والے وقت کے لئے بھی اس کا تعین ہو جائے گا،اِس قانون سازی میں سب کردار ادا کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ لوگ پہلے دن سے شور شرابہ کر رہے ہیں کہ حکومت فیل ہو گئی ہے،یہ لوگ صرف اپنے قائدین کی کرپشن چھپانے اور پروڈکشن آرڈر لینے کے لئے شور شرابہ کرتے ہیں اس کے علاوہ اُنہوں نے اور کچھ نہیں کیا،جھوٹ پرمبنی تقریریں کرتے ہیں لیکن اِن میں کچھ لوگ ہیں جو قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،اگر دوتہائی اکثریت بھی چاہیے ہو گی تو بھی ہمارے لئے مسئلہ نہیں ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ اپنی رائے رکھتا ہے،اُسے اپنی بات کرنے کی آزادی ہے،اگر یہ سمجھتے ہیں کہ قانون سازی ملکی مفاد میں ہو رہی ہے تو یہ ووٹ دے سکتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اورنون لیگ کو کچھ خاندانوں نے یرغمال بنایاہوا تھالیکن اب اراکین نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب ایسے نہیں چلے گا، جہاں اِنہیں لگے گا کہ پارٹی غلط سمت میں جا رہی ہے وہ اپنا حق استعمال کرینگے،سب دیکھ لینگے کہ یہ قانون سازی بڑی آسانی سے ہو جائے گی،یہ قانون سازی تین ماہ کے اندر اندر ہو گی۔

مزید : قومی