مولانا فضل الرحمان ’اسلام‘ بچانے کیلئے اسلام آباد آئے تھے ، سابق آرمی چیف اسلم بیگ نے بڑا دعویٰ کردیا

مولانا فضل الرحمان ’اسلام‘ بچانے کیلئے اسلام آباد آئے تھے ، سابق آرمی چیف ...
مولانا فضل الرحمان ’اسلام‘ بچانے کیلئے اسلام آباد آئے تھے ، سابق آرمی چیف اسلم بیگ نے بڑا دعویٰ کردیا

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک فوج کےسابق سربراہ جنرل(ر)مرزا اسلم بیگ نےکہاہےکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی روایت درست تھی، حکومت کو اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئےتھا،اِس روایت کو ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو ذمہ داری دے دی گئی ہے، آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون بن جائے تو یہ بھی اچھا ہوگا،مولانا فضل الرحمان اسلام آبادمیں’’اِسلام‘‘ بچانے آئے تھے لیکن اُن کا طریقہ سیاسی تھا،جے یو آئی ہمیشہ ملکی معاملات سے الگ رہی ہے، اب مولانا فضل الرحمان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ جن نوجوانوں تک امریکی سازش نہیں پہنچی  ان کو ردِعمل کیلئے تیار کیا جائے ۔

نجی  ٹی وی جیونیوز کےپروگرام ”جرگہ“میں گفتگو کرتے ہوئےجنرل(ر)مرزا اسلم بیگ نےکہاکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ وہ ریاستِ مدینہ بنانا چاہتے ہیں لیکن اُنہوں نے ابھی تک کیا کیا ہے؟اِن کی جو کارکردگی ہے اس سے لگتا بھی نہیں کہ وہ کچھ کر سکیں گےتاہم عمران خان کی حکومت گرنے والی نہیں ہے کیونکہ اِس سے پہلے سول ملٹری تعلقات ایسے نہ تھے جیسے اِس حکومت میں ہیں،پچھلے چند ماہ سے عمران خان سے دانستہ یا نادانستہ کچھ غلطیاں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے حکومت اورفوج میں دوری آتی جارہی ہے،جو تعاون فوج نے عمران کو دیا وہ کسی اور جماعت کو نہیں دیا گیا،اِس کا مقصد صرف ایک تھا کہ کبھی سول ملٹری تعلقات اچھے نہیں رہے،یہ رنجشیں اس لئے آتی ہیں کہ حکمران کے گرد کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی باتیں پھیلاتے ہیں کہ سول ملٹری تعلقات مضبوط نہ ہو سکیں، آج بھی کچھ ایسی ہی بات ہے کچھ لوگ جنہوں نے ایسی باتیں کی ہیں مجھے نہیں لگتاکہ اب تعلقات ویسے ہیں جیسے پہلے تھے،رنجشیں نظر آرہی ہیں،جس طرح اِس حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے معاملے کو چلایا ہے،اس میں بہت کچھ جان بوجھ کر کیا گیا ہے،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے والے لوگ پڑھے لکھے ہوتے ہیں لیکن ایک کے بعد دوسری اورپھر تیسری غلطی ہوئی،لگتا ہےکچھ غلط چل رہا ہے،اس حکومت کو اپنے موقف پر قائم رہنا چاہیے تھا، آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کے معاملے پر اپنے موقف سے کیوں پیچھے ہٹی? یہ معاملہ پارلیمنٹ میں ہے,اگر پارلیمنٹ کہتی ہے یہ ٹھیک ہے اگر غلط ہے تو یہ غلط ہے,موجودہ حکومت میں بھی سوائے چندلوگوں کےدوسری جماعتوں کے چھٹےہوئے لوگ ہیں،اُن کے اپنے مفادات ہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت کے معاملے کو جان بوجھ کر الجھایا گیا ہے، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ حکمران کو پتا نہ ہو، حکومت نے روایت قائم نہیں کی اس کو ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو ذمہ داری دے دی گئی ہے تاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون بن جائے، اگر ایسا ہو جائے تو اچھا ہے، روایت میں بھی کوئی برائی نہیں تھی انگلینڈ کا آئین بھی توروایت پر قائم ہے ۔

جنرل(ر)مرزااسلم بیگ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کا دھرنا استحکام جمہوریت، استحکام پاکستان اور دین کی سر بلندی ہے،جب اُن کا ایک ہی مقصد تھا،ہمارے دوست ا ورحکمران نے ہمیشہ یہ چاہا ہے کہ دین کو سیاست سے الگ کر دیا جائے، آج کی صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ادارے اور لوگ دین سے بڑے دور جا چکے ہیں نعوذ باللہ کہتے ہیں کہ دنیا میں حاکمیت کا اختیار انسانوں کا ہونا چاہیے، 2008 میں اوبامہ کے دور حکومت میں جان کیری نے اعلان کیا کہ پاکستان کے لئے امریکا 2.5 بلین ڈالر پاکستانی ذہن بدلنے کےلئےمختص کئےہیں اور یہ بھی کہاگیا یہ رقم ڈائریکٹ لوگوں اور  بعض اداروں کو دی جائے گی، امریکہ نے پاکستان میں ماڈرن ازم پھیلانے کیلئے ڈھائی ہزار ارب روپے خرچ کئے تھے اوراُس وقت کی حکومت نے یہ منصوبہ منظور بھی  کیا تھا ، کافی حد تک امریکہ کی یہ سازش کامیاب ہوچکی ہےاور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں،اب مولانا فضل الرحمان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ جن نوجوانوں تک امریکی سازش نہیں پہنچی اُن کو ردِعمل کیلئے تیار کیاجائے،مولانا فضل الرحمان ’’اسلام‘‘ بچانے آئے تھے لیکن ان کا طریقہ سیاسی تھا،اُنہوں نے جوراستہ اختیار کیا, اُن کے بزرگوں نےاُس وقت بھی نہیں کیا جب پاکستان بن رہا تھا، جے یو آئی اس طرح پہلے باہر نہیں آئی جس طرح اب آئی ہے، اگر انتخابات ہوتے ہیں تو اس حکومت سے تنگ لوگ بھی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ چلیں گے، اگر ہم اس جمہوری نظام کو قرآن اور سنت کے مطابق کردیں تو کیا ریاست مدینہ نہیں بن جائے گی؟ عمران خان نے کہا کہ وہ ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں لیکن اُنہوں نے ابھی تک کیا کیا ہے؟ کیا مقاصد حاصل کیے ہیں؟اِن کی جو کارکردگی ہے اُس سے لگتا بھی نہیں کہ وہ کچھ کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جو سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں دیکھا جائے تو سات ایم کیو ایم کے ووٹ ہیں، چار ق لیگ کے اگر یہ الگ ہوتے ہیں تو کیا عمران خان کی حکومت رہے گی یہ چند ووٹ ہیں کیا یہ مولانا کے لئے حاصل کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں اتنا بڑا دھرنا دیا جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا ان کے ساتھ عوام ہے ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہیں جو اس حکومت سے نالاں ہیں۔

جنرل (ر)مرزااسلم بیگ کا کہنا تھا کہ میں نے صدام کیخلاف اس وقت کی حکومت کے فیصلے سے اختلاف کیااور امریکہ کی مخالفت کی جس کی وجہ سے حکومت اور امریکہ میرے خلاف ہوگئے ، ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے پر جھوٹے مقدمات بنادیئے گئے۔

مزید : قومی /اہم خبریں