حکومت کی میڈیا پالیسی اور سٹیک ہولڈرز

حکومت کی میڈیا پالیسی اور سٹیک ہولڈرز
حکومت کی میڈیا پالیسی اور سٹیک ہولڈرز

  

کسی بھی معاشرے کے باخبر اور well informed  لوگوں کی ہمیشہ قدر پیمائی Evaluation بھی ہوتی ہے اور عزت افزائی بھی لیکن اس خصوصیت کی توقع عام افراد معاشرہ کی نسبت پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ کی جاتی ہے۔ ایسے باخبر باعلم لوگوں کے علمی مآخذ اخبارات و جرائد، ٹیلی ویژن چینلز، کتب اور کہہ لیں کہ آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں انٹرنیٹ، فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر، یوٹیوب اور گوگل وغیرہ بھی ہیں لیکن چند سال پہلے تک ذریعہ ئ  ابلاغ علم کے حصول کے ذرائع اخبارات و جرائد، ٹی وی اور کتب ہی تھیں۔ پرنٹ میڈیا کا کردار اس حوالے سے ہمیشہ سرفہرست رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ ذرائع اپنی اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے مستند تصور ہوتے تھے جو راقم کی نظر میں آج بھی مستند ہیں اور ان ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر مہر تصدیق باخبر اور باعلم لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ کسی وفاقی وزیر کے یہ کہہ دینے سے اخبارات وجرائد کی اہمیت کم نہیں ہوتی کہ ہم سارا کام سوشل میڈیا سے لے لیں گے۔ نیز یہ کہ سرکاری ٹینڈر نوٹسز کے اشتہارات بھی اسی ذریعے سے مشتہر کئے جاسکتے ہیں۔ اسے دیوانے کی بڑ ہی کہا جا سکتا ہے۔ انہیں شاید اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کہ سوشل میڈیا کے مقابلے پر چھپے ہوئے لفظ کی حرمت اور تقدس کہیں زیادہ ہے۔اخبار  بین حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ بانی ئ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کا نام آج بھی انگریزی اخبار ڈان کی پیشانی پر نمایاں طور پر چھپتا ہے۔ اسی طرح انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز بھی ہمیشہ قائد کی خصوصی توجہ کامرکز رہا مگر نہ جانے کیوں ہمارے عہد حاضر کے عاقبت نا اندیش قسم کے اکابرین حکومت اخبارات سے گلو خلاصی اور چھٹکارہ حاصل کرنے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہیں۔

انہیں اندازہ نہیں کہ مالکان اخبارات نے یہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز  راتوں رات نہیں بنالئے اس کے لیے  ان کی اور  ورکرز کی عشروں پر محیط محنت شاقہ ہے۔نیوز ڈیسک پر ان کی زندگی کی خوبصورت راتیں بسر ہوئی ہیں۔ ان لوگوں نے موسموں کی حدت اور شدت کی پروا کئے بغیر بر وقت اور بلا تعطل اور کسی انقطاع کے بغیر معلومات کا مآخذ سمجھے جانے والے اخبارات و جرائد کو ان کی دہلیز پر پہنچانے کا ہمیشہ معقول انتظام کیا۔ حکمران شاید اس جوہری اور ابدی حقیقت سے بھی آگاہ نہیں کہ اخبارات و جرائد اب ایک اچھی بھلی صنعت کا  درجہ اختیار کر چکے ہیں جس سے لاکھوں افراد کاروز گار وابستہ ہے لیکن اس کے برعکس انٹرنیٹ اور اسی طرح سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع اپنی بے پناہ افادیت کے باوصف کچھ قباحتیں بھی اپنے دامن میں رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کو پتا ہونا چاہیے کہ آج سب سے بڑا کاروبار ڈیٹا کولیکشن اور انفارمیشن شیئرنگ کا ہے ہر چیز گوگل کی دسترس میں ہے۔ ایک طرف ان ذرائع سے استفادہ کرنے والے لوگ کروڑوں میں ہیں تو اسی تناسب سے اس بارے میں بعض چیزیں اپ لوڈ کرکے گویا وہ خسارے کا سودا بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر بعض چیزیں ہمیں بیٹھے بٹھائے مفت میں میّسر آ رہی ہیں تو ہم جو کچھ اپ لوڈ کرتے ہیں اس سے گوگل اربوں ڈالر کما بھی رہی ہوتی ہے۔

کسی ایک سے دوسرے غیر معلوم مقام تک جانے کے لئے اور راستوں کی جان پہچان کے لئے افراد کی حاجت اور ضرورت نہیں رہی،بلکہ جونہی ہم گاڑی میں بیٹھتے ہیں حتیٰ کہ موٹرسائیکل سکوٹر پر بیٹھتے ہی ہم اپنے میزبان کی لوکیشن منگوا لیتے ہیں اور اپنے موبائل پر GPRS لگا کر اپنے مطلوبہ مقام تک بآسانی پہنچ جاتے ہیں حتیٰ کہ ہماری موبائل سم تک ہماری لوکیشن گوگل کو بتا رہی ہوتی ہے، جس سے ہماری پرائیویسی نہیں رہی۔ ہماری کوئی چیز خفیہ نہیں رہتی آج کے جدید دور میں یہ چیزیں ناگزیر ہو چکی ہیں تو ہمارا سب کچھ اوپن ہو جانے سے بہت سے مسائل نے بھی جنم لیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت کے ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ خدارا!اچھی چیزیں ضرورحاصل کریں لیکن نیٹ پر اپنے بارے میں اپ لوڈ کرتے وقت خاص خیال رکھیں کہ اس سہولت کے موجد درپردہ ہماری ٹوہ میں ہیں۔ ہماری کھوج میں ہیں اس کے لیے انہیں کسی خاص ترّدد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ وہ تو پہلے ہی ہماری رہائش گاہوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن اب سب کچھ یعنی حسنات اور سئیات کے باوجود پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا یعنی ٹی وی چینلز کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی، کیونکہ شائع شدہ لفظ کی حرمت اور تقدس نہ صرف واضح اور مسلمہ ہوتا ہے بلکہ اس کوتادیر محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے

لیکن نیٹ پر کوئی چیز آپ کی نظر سے گزرتی ہے کہ اگلے ہی چند گھنٹوں بعد تلاش بسیار کے باوجود اس کا دوبارہ حصول ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔اخبارات کا یہ کہہ کر گلا دبانا کہ ہم اپنی تشہیر اور پروجیکشن بذریعہ سوشل میڈیا کر سکتے ہیں ایسا آپ کر تو سکتے ہیں لیکن شاید مقصد کا حصول ممکن نہ ہو۔یہ طرز عمل اخباری صنعت سے وابستہ لوگوں کی بددعائیں لینے کے ہم معنی ہے۔ اور پہلے ہی سے مشکلات میں گھری ہوئی حکومت کے بزرجمہروں کو بطور خاص وزیراعظم اور ان کے مشیران بہادر اور وزرائے عظام کی فوج ظفر موج کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ بزور قوت و طاقت آپ سیاہ بھی کر سکتے ہیں اور کسی چیز کوسفید بھی۔ کواکالا بھی کہہ سکتے ہیں اور چٹا سفید بھی لیکن بعض حقائق سے آپ صر ف نظر نہیں کر سکتے اور ان حقائق میں ایک بہت بڑی حقیقت اخبارات وجرائد اور ٹیلی ویژن چینل کا ایک صنعت ہونا بھی ہے۔لہٰذا اپنی میڈیا پالیسی میں سختیاں نہیں نرمیاں پیدا کریں۔ 

مزید :

رائے -کالم -