”باڈی لائین“ سیاست

”باڈی لائین“ سیاست
”باڈی لائین“ سیاست

  

”باڈی لائین“ کرکٹ کی اصطلاح ہے۔ فاسٹ باؤلر غصہ میں آئیں تو باؤنسر زیادہ مارتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں کچھ ہی لوگ بچے ہوں گے جنہیں کرکٹ کی باڈی لائین سیریز یاد ہوگی۔ 1932 ء میں انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا گئی تو کپتان ڈگلس جارڈائن کے پاس ڈان بریڈمین کو آؤٹ کرنے کا کوئی نسخہ نہیں تھا اس لئے اس نے اپنے فاسٹ باؤلر ہیرلڈلاروڈ سے پوری سیریز میں باؤنسر کروائے اور جان بوجھ کر بیٹسمینوں کے جسموں کو نشانہ بنایا گیا، تاکہ ڈان بریڈمین سمیت زیادہ سے زیادہ آسٹریلین بیٹسمین آؤٹ ہوں یا نہ ہوں لیکن زخمی ہو کر ہسپتال ضرور پہنچیں۔دوسری طرف‘سیاست تو ٹھنڈے دماغ کا کھیل ہے اس لئے فاسٹ باؤلر کی باؤنسر پر باؤنسر مارنے کی حکمت عملی یہاں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ممکنات کے اس کھیل میں شطرنج کا کھلاڑی بہتر طریقہ سے سیاسی مخالفین کو شہ مات دے سکتا ہے۔ تقریباً نصف صدی کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر ”باڈی لائین“ سیاست کے مناظردیکھنے میں آ رہے ہیں۔  مشرقی پاکستان میں یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔ لگتا ہے آج کے کپتان نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے وہی کام لینے کا فیصلہ کیا ہے جو 88 سال پہلے ڈگلس جارڈائن نے ہیرلڈ لاروڈ سے لیا تھا کہ سیاسی باؤنسر مارنے میں بہر حال وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں کہ ملتان سٹیڈیم کے تالے توڑنے والوں کے ہاتھ توڑ دیں گے۔ڈاکٹر صاحبہ طویل عرصہ سے سیاست میں ہیں اور عام طور پر حکومتی پارٹی کا حصہ ہوتی ہیں۔  ان کومعلوم ہو گا کہ نصف صدی قبل جب قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں بلایا گیا تھا تو ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دیں گے(جیسے ڈھاکہ پاکستان میں نہیں بلکہ ہندوستان میں ہو)۔ نہ وہ اجلاس ہوا اور نہ کسی کی ٹانگیں ٹوٹیں، لیکن پاکستان ضرور ٹوٹ گیا۔ اللہ نہ کرے جو آدھا پاکستان رہ گیا ہے  ‘ یہاں کسی کی ٹانگیں یا ہاتھ توڑے جائیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے حکومت کی رٹ اور ہاتھ توڑنے کی بات ایک ہی جملہ میں کہی ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ عمران خان حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے سیاسی مخالفین کے ہاتھ توڑنے پر یقین رکھتی ہے۔ دیکھا جائے توسیاسی طور پر دسمبر 2020ء  پاکستان کے لئے اتنا ہی اہم ہے جیسا دسمبر 1970ء تھا۔ آدھی صدی گذر گئی، نہ ہماری سیاست بدلی اور نہ ہمارے حکمرانوں کے سوچنے کا انداز بدلا۔ سیاست اس وقت بھی ”باڈی لائین“ تھی اور آج بھی ہے۔

پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ 22 نومبر کو پشاور کے جلسہ سے شروع ہو چکا ہے۔ دوسرا  ملتان میں 30 نومبر اور اس کے بعد لاہور میں 13 دسمبر کو جلسے رکھے گئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ایک ماہ کا وقفہ دو اہم انتخابات (امریکہ اور گلگت بلتستان) کا نتیجہ دیکھنے اور پس پردہ رابطوں اور مذاکرات کے لئے رکھا گیا تھا ورنہ کون احتجاجی تحریک کا ٹمپو توڑتا ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے الیکشن جیتنے سے پاکستان کے جمہوریت پسندوں میں امید کی ہلکی سی لہر جاگی ہے (خوامخواہ)۔ نہ جانے ہمارے دوست کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں آخری دونوں مارشل لااس وقت لگے تھے جب امریکہ میں ڈیموکریٹ حکومت تھی۔ جولائی 1977ء میں ڈیموکریٹ صدر جمی کارٹر اور اکتوبر 1999ء  میں ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن۔ اور تو اور ڈیموکریٹ صدر لنڈن بی جانسن اور فیلڈ مارشل ایوب خان کی دوستی تو لازوال مانی جاتی تھی اور ہم اپنے اونٹوں پر تھینک یو امریکہ کی تختیاں لٹکاتے تھے۔ گلگت بلتستان الیکشن سب لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ انتہائی حساس علاقے کے انتہائی حساس لوگوں کو بھی ”مشرف بہ سیاسی پاکستان“ کر دیا گیا ہے اور اب وہاں بھی ویسی ہی ”باڈی لائین“سیاست ہوا کرے گی جو باقی پاکستان میں ہوتی ہے۔ ادھر دوسری طرف پنجاب پولیس روائتی ہتھکنڈوں کے ساتھ حرکت میں آ چکی ہے اور ملتان میں بڑے پیمانوں پر پکڑ دھکڑ کئی دنوں سے دیکھی جا رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں سمیت سینکڑوں کارکن گرفتار کئے گئے۔ موسی گیلانی پر سائیکل کا تالہ اور تالہ باندھنے کی زنجیر کی چوری کا مقدمہ بنا، جن کی مالیت بالترتیب 50 اور 150 روپے درج کی گئی۔اس سے ذوالفقار علی بھٹو دور میں چوہدری ظہور الہی کے خلاف بھینس چوری کے مقدمہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ تقریباً نصف صدی گذرنے کے بعد بھی جب اس مقدمہ کا ذکر آتا ہے تو بھٹو مرحوم اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام میں ہر حد سے گذر جانے والی علامت کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں۔ بھٹو مرحوم کی تمام دوسری باتیں ایک طرف،لیکن چوہدری ظہور الہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ رہتی دنیا تک ان کا منہہ چڑاتا رہے گا۔ کچھ ایسا ہی بندوبست یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادوں کے لئے بھی کیا گیا ہے۔ ایک دوست کہنے لگے کہ کوئی تو ہے جو نظام”بستی“ چلا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کورونا کا شکار ہو کر قرنطینہ ہو گئے تو بے نظیر بھٹو کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو بھی لانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملتان جلسہ سے پہلے قاسم گیلانی بھی گرفتار اور سینکڑوں کارکنوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے، حکومت نے جلسہ گاہ کو تالے لگائے تو مظاہرین نے تالے توڑ دئیے۔

سوشل میڈیا پر کاٹی گئی ایف آئی آرز کا سیلاب ہے لیکن عثمان بزدار(بقول عمران خان کے پنجاب کی تاریخ کے بہترین وزیر اعلی) کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے ملک کی سیاست میں ایف آئی آر وہ سرٹیفیکیٹ ہے جسے حاصل کرنے کے لئے سیاسی کارکن سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ میاں نواز شریف شدید ”زخمی“ہونے کے باوجود سیاسی کریز چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور باؤنسروں کو ہک کرکے چوکے چھکے مار رہے ہیں۔ صورت حال تصادم کی طرف جا رہی ہے جس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور اگر لاہور کے جلسہ میں بھی ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو معاملات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔پاکستان ایک بار پھر ”باڈی لائین“ سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کپتان اگر صرف باؤنسر پر باؤنسر مارنے کی حکمت عملی پر چل رہا ہو تو بورڈ کی سینئیر مینجمنٹ صورت حال کی اصلاح کرتی ہے۔ انگلش کرکٹ بورڈ نے بھی ہیرلڈ لاروڈ کو باڈی لائین سیریز ہارنے کے فورا بعد اور کپتان ڈگلس جارڈائن کو اگلے سال ریٹائر کرکے گھر بھیج دیا تھا۔ 

مزید :

رائے -کالم -