کورونا نے فلم انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچایا، شوبز شخصیات

    کورونا نے فلم انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچایا، شوبز شخصیات

  

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ دو سالوں کے دوران پاکستانی فلموں کی کامیابی نے فلمی صنعت کی امیدوں کو بہت بڑھا دیا تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے نقصان ہوچکا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ اگلے برس عید پر ریلیز کی جانے والی فلمیں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گی ا س بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت فلم بنانے کے لئے سرمایہ کاری کرنے والوں کی شدیدکمی ہے جس کے باعث فلموں کی زیادہ تعداد میں پروڈکشن نہیں ہورہی ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ فلم کراچی اور لاہور کی نہیں ہوتی بلکہ یہ پاکستان کی ہوتی ہے ہمیں اب اس بحث سے نکل پر پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے کام کرنا ہوگا۔یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ اس وقت لاہور اور کراچی دونوں شہروں میں تسلسل کے ساتھ کام ہورہا ہے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ تکنیک کاروں کا روزگار چلتا رہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پنجابی فلموں کو زوال آچکا،اب پنجابی فلموں کا سنہری دور کبھی واپس نہیں آسکتا۔مگر اس کے باوجود لاہور میں ایک بار پھر پنجابی فلمیں بننی شروع ہوگئی ہیں اگر یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ایک بار پھر لاہور میں ثقافتی سرگرمیاں عروج پر ہوں گی۔کم تعلیم یافتہ پروڈیوسرز نے پنجابی فلموں میں فحاشی کو پروموٹ کر کے انڈسٹری کو بدنام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شوبز کی سنجیدہ شخصیات کا کہنا ہے کہ  فلموں کے حوالے سے چین دنیا کی دوسری بڑی منڈی ہے ہمیں فلمی صنعت کی ترقی کے لئے اس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔چین میں پاکستانی فلموں کی نمائش خوش آئند ہے چین کے ساتھ مشترکہ فلمسازی سے ہمیں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے۔چین میں دنیا کی سب سے زیادہ فلم سکرینز ہیں۔پاکستان فلم انڈسٹری کو چین کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مشترکہ فلمسازی کرنی چاہیے۔

۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خرم شیراز ریاض،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجوحسین،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شہباز حسین،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،روبی ا نعم،اظہر بٹ،عینی رباب،حمیرا اور نجیبہ بی جی نے کہا کہ چین میں فلم باکس آفس دو ہزار بارہ میں سترہ ارب تھا جو کہ دو ہزار اٹھارہ میں ساٹھ ارب نوے کروڑ یوان تک جا پہنچا۔ نئے عہد میں چین کی فلمی صنعت ترقی کے سنہرے دور میں داخل ہو چکی ہے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ پورے چین میں فلم باکس آفس دو ہزار بارہ میں سترہ ارب تھا جو کہ دو ہزار اٹھارہ میں ساٹھ ارب نوے کروڑ یوان تک جا پہنچا۔ فلمی صنعت میں چین دنیا کی دوسری بڑی منڈی ہے جب کہ ایک بڑا فلم ساز ملک بھی بن چکا ہے۔ دو ہزار بارہ میں چین میں فلم سکرینز کی تعداد دس ہزار تھی جب کہ دو ہزار اٹھارہ میں یہ تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہو گئی ہے اور اس لحاظ سے چین دنیا میں سرفہرست ہے۔اس وقت چین فلمی صنعت کے شعبے میں طاقتور ملک بننے والا ہے اور اعلی معیار کی ترقی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری میں ٹیلنٹ موجود ہے صرف سرمایہ کاری اور اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کلچر -