گھبراہٹ سے پاگل پن تک

 گھبراہٹ سے پاگل پن تک
 گھبراہٹ سے پاگل پن تک

  

گھبراہٹ پر قابو پاتے پاتے لوگوں کوپاگل پن کے دورے پڑنا شروع ہو گئے ہیں مگر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔حکومت عملاً کہیں نظر نہیں آ رہی۔ وہ حکمران جن سے عام لوگوں کو بہت امیدیں تھیں، ان امیدوں کے ساتھ ہی مایوسیوں کے بحر بے کراں میں کھو گئے ہیں۔ حکومت عملی طور پر آئی ایم ایف کی ہے۔ہمارے وزیر خزانہ، ہمارے گورنر سٹیٹ بنک اور معاشی ڈھانچے کے بہت سے افسر آئی ایم ایف ہی کے نمائندے ہیں اور اسی کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لئے کوشاں ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جس کی جڑیں عوام میں ہوں، جو زمینی حقائق کو جانتا اور سمجھتا ہو۔ہر پالیسی عوام کے مفاد کی قاتل، عوام کی امنگوں کی دشمن، عام آدمی کے حالات بد سے بد تر، لیکن آئی ایم ایف تو کاروبار کرتا ہے اور کاروباری لوگ کاروبار کے معاملے میں بڑے سفاک ہوتے ہیں۔ یہ سوچ کر اب خوف آتا ہے کہ وہ لوگ جن سے نجات کے لئے لوگوں نے دعائیں مانگی تھیں،حکومت کی نا اہلیوں کے سبب آج نہ صرف پھر رقصاں ہیں بلکہ اقتدار کے خواب بھی دیکھنے لگے ہیں۔بے یقینی کی ایک فضا ہے۔ حکومت کو یقین ہے کہ وہ اپنے دو سال پورے کرے گی۔ اپوزیشن بڑی امید سے ہے کہ کچھ ہو جائے گا مگر کل کس نے دیکھا ہے۔ پریشانی تو عام آدمی کو ہے کہ اس کے حالات کب بدلیں گے۔جمہوریت اور تبدیلی کا ان کا خواب فقط خواب ہی رہ گیا ہے، اس کی عملی صورت کہیں نظر نہیں آتی۔اس صورت حال میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

برکلے کے ایک ریٹائرڈ  پولیٹیکل سائنٹسٹ چارلس ہنری کا کہنا ہے، ہر نسل کو آواز بلند کرنا ہوتی ہے کیونکہ جمہوریت خود بخود نہیں ملتی۔ اس کے لئے جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، جنگ کرنا پڑتی ہے۔ ایک مسلسل جدوجہد اور ایک لگاتار جنگ۔ وہ نوجوان جنہوں نے موجودہ حکومت کی تشکیل میں اپنی توانایاں خرچ کی ہیں اب مایوس ہیں۔ وہ اس ملک میں موروثی سیاسی تسلسل برداشت نہیں کر سکتے مگر کیا کریں کہ حکومت کی نا اہلیوں کے سبب انہیں کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ ان لوگوں کو ایک نئی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا۔آج کی انڈسٹریل جمہوریت سے، بورژوا جمہوریت سے جو صرف ایلیٹ کلاس ہی کے فائدے میں ہے، حقیقی جمہوریت کے لئے، حقیقی انصاف کے لئے۔کسی ملک کی بربادی کو اگر کوئی چیز روک سکتی ہے تو اس کی عدلیہ کا ہر انسان سے ایک جیسا انصاف، مگر ہماری عدلیہ اس معاملے میں ناکام ہے۔ طبقاتی انصاف حقیقی انصاف نہیں ہوتا۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا نظام انصاف مکمل طبقاتی ہے۔ اس کا انصاف فقط مخصوص لوگوں کے لئے ہے۔ ایک ایسا طبقہ بھی اس ملک میں بستا ہے کہ جن کی شنوائی ہنگامی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ عدالتیں ان کا خاص احترام کرتی ہیں۔ ان کی ضمانتیں چھٹیوں میں بھی لے لی جاتی ہیں۔ پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔عام آدمی سال ہا سال انتظار کرتا ہے اور تاریخ کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتا، ایک نسل کے بعد دوسری نسل اسی مقدمے میں عدالتوں میں خوار ہوتی ہے مگر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ضمانت اس کے لئے جان جوکھوں کا کام ہے۔ جج ان کی بات سننے اور ان کو توجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ عام آدمی کوئی جائز بات بھی کہے تو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج کی صورت حال کو ابتری کی انتہائی صورت کہا جا سکتا ہے۔ ایسے حالات میں غیر عدل ادارے اپنے انجام کو پہنچنیں کے قریب ہوتے ہیں اور ان کو اس انجام سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ یہ ایک فطری صورت حال ہے جس کا انجام بھی فطری ہو گا۔ اس کے بارے زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اچھے وقت کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ کا تازہ ترین فیصلہ عدلیہ میں اصلاح کے لئے پہلا قدم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جج کسی بنچ کا حصہ نہیں ہوتے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ججز کا درجہ عام شہری کا ہوتا ہے  اس لئے ان پر تنقید توہین عدالت کا جرم نہیں بنتا۔ججز قانون سے بالاتر نہیں اور وہ جوابدہ ہیں۔بطور شہری ان کے پاس داد رسی کے متبادل فورم موجود ہیں۔آزاد جج پر تنقید اس کے کام پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ توہین عدالت کے اختیار کا استعمال صرف اسی صورت جائز ہے جب وہ عوامی مفاد میں ہو۔ جناب اطہر من اللہ کا یہ فیصلہ میرے نزدیک انتہائی خوبصورت اور اہم ہے۔اس فیصلے کے اثرات بہت گہرے ہوں گے۔ بہت سے وکیل بھی اس میں بے نقاب ہوں گے۔ ہر تیسرا جج کسی نہ کسی وکیل سے جڑا ہے۔ آپ کو مرضی کا فیصلہ لینا ہے، وکیل آپ کا کیس مرضی کے جج کے پاس لے جائے گا، تمام چیزیں کرنے کے بعد آ پ کو مرضی کا فیصلہ مل جائے گا۔ شرط یہی ہے کہ آپ کے پاس کھلے پیسے ہوں، انصاف بھی بعض اوقات بھاری قیمت پر بکتا ہے اور خریدنے والے خریدتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد بہت سے ریٹائرڈ ججوں کی داستانیں زبان زد عام ہو جائیں گی۔ کچھ نامور وکیلوں کی ناموری بھی عیاں ہو گی۔ پتہ نہیں عدالتی نظام یہ سب ہضم بھی کر سکے گا کہ نہیں۔

نسلہ ٹاور کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں بھی لوگوں کو گلہ ہے کہ سپریم کورٹ نے غریبوں کے گھر تو آسانی سے اجاڑ دئیے ہیں مگر ایلیٹ کلاس کے وہ لوگ جنہوں نے منظوری دی، جنہوں نے زمین  بیچی، جنہوں نے مفت میں اربوں بنائے انہیں کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ ایسے لوگ اگر مر بھی گئے ہوں تو ان کی قبریں کھود کر انہیں نشان عبرت بنانابڑا ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کا نامکمل فیصلہ ایک مکمل طبقاتی فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جو سلگتی چنگاریاں نظر آ رہی ہیں وہ کسی وقت بھی شدت کی آگ بھڑکا سکتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہر چیز خاکستر ہو سکتی ہے۔میری چیف جسٹس سپریم کورٹ سے گزارش ہے کہ ان لوگوں کے خلاف بھی بھرپور ایکشن لیں جنہوں نے اس کی تعمیر میں مفت کا نفع کمایا اور لوگوں کو لوٹ کر خود آرام کی نیند سو رہے ہیں۔لوگوں کو احساس ہو کہ یہ فیصلہ ہر اس شخص کے خلاف ہے جو غلط کام کرتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ 

مزید :

رائے -کالم -