سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہو گئے 

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہو گئے 
سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہو گئے 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس میں رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہو گئے ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کیس کی سماعت کی۔ 

عدالت نے سابق چیف جج سے تحریری جواب جمع کرانے سے متعلق پوچھا تو سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے جواب دیا کہ میرے وکیل بتائیں گے کہ جواب کیوں داخل نہیں ہو سکا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار  کیا کہ کیا آپ بیان حلفی کے مندرجات کو تسلیم کرتے ہیں ؟۔ رانا شمیم نے جواب دیا کہ میں پہلے داخل کرایا جانے والا بیان حلفی دیکھوں گا ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جس شخص نے بیان حلفی دیا اسے یاد نہیں کہ بیان میں کیا کہا ہے ؟، اگر انہیں نہیں معلوم تو پھر یہ بیان حلفی کس نے تیار کرایا ؟۔رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ میرا بیان حلفی سیل شدہ اور لاکر میں محفوظ ہے ۔ چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ رانا شمیم  اصلی بیان حلفی کے ساتھ تحریری جواب 7 دسمبر تک داخل کریں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نےریمارکس دیے کہ آپ نے تین سال بعد ایک بیان حلفی دیا ہے ،تمام ججز کے بارے میں بات کی گئی ،  اس عدالت نے کچھ سٹینڈرز سیٹ کئے ہیں ، اس کورٹ نے فردوس عاشق اعوان کیس میں توہین عدالت کے اصول طے کئے تھے ۔

دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پاکستان با رکونسل اور پی ایف یو جے سے کوئی آیا ہے ؟،ہماری اپنی آزادی بھی آزادی صحافت پر منحصر ہے ۔سابق چیف جج رانا شمیم نے عدالت سے کہا کہ   میرے بھائی کا چہلم ہے ، اس کے بعد سماعت رکھ لیں ۔

عدالت نے 7 دسمبر تک تحریری جواب بمعہ اصل حلف نامے کے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

یاد رہے کہ سینئر صحافی انصار عباسی نے خبر شائع کی تھی جس میں کہا تھا کہ” گلگت بلتستان کے سینئر ترین جج نے پاکستان کے سینئر ترین جج کے حوالے سے اپنے حلفیہ بیان میں لکھا ہے کہ ”میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز شریف عام انتخابات کے انعقاد تک جیل میں رہنا چاہئیں۔ جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو وہ (ثاقب نثار) پرسکون ہو گئے اور ایک اور چائے کا کپ طلب کیا۔“ رانا شمیم نے یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ئ کو دیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

مزید :

قومی -