اندھیرے میں" جگنو"...!!!!

اندھیرے میں" جگنو"...!!!!
اندھیرے میں

  

زمانے کا "چلن" بدل گیا..."دنیاداروں"سے کیا شکوہ ہمارے تو "علمائے کرام"اور "پیر فقیر"بھی "کمرشل" ہو گئے ہیں...کسے رہنما کرے کوئی...سماج میں" جھوٹی عزت" کے لیے "بہروپ "خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے اور دوچہروں والی " ڈرٹی پالیٹیکس" نے اخلاقی اقدار کا تقدس پامال کردیا ہے...اپنی ذات کے اسیر مصنوعی لوگ" امیر کارواں" بن کر "علم قیادت" تھامے ہوئے ہیں...دولت ہو یا شہرت،اندر کا بھوکا آدمی صوفی و درویش ہو سکتا نہ رہبر و رہنما ... معدے سے سوچنے والوں کو دل و دماغ کی "روحانی باتیں" کون سمجھائے کہ یہ خاص طور پر "اہل ایثار "کے مرتبے ہیں...مکاری اور شعبدہ بازی آخر کب تک چلتی ہے...؟؟؟؟

مشرقی شہر شکرگڑھ کے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں گریجویشن کا زمانہ یاد آتا ہے...صوفیائے کرام سے بے حد عقیدت رکھنے والے درویش منش استاد مکرم جناب پروفیسر سید جعفر حسین جعفر ایک دن نا جانے کس" ترنگ "میں تھے کہ مجھے بھی "روایتی مولوی "سمجھتے ہوئے پوچھا ملاں اور صوفی میں کیا فرق ہے؟؟؟استاد گرامی کے سوال پر" متذبذب" ہونے کے بجائے میں نے بھی برجستہ کہہ دیا "ملاں مانگتا اور صوفی بانٹتا ہے"...ساتھ ہی عرض کی ہر صوفی عالم دین ہوتا ہے مگر ہرعالم دین صوفی نہیں اور ملاں تو ہرگز صوفی نہیں ہوتا اور عالم دین بھی نہیں..."دوشیزاؤں "کی طرح "نازک مزاج" پروفیسر صاحب "الفاظ سے عشق "کرنے والے آدمی تھے... میرے جملے میں اپنے" دل کی بات "پا کر جھوم اٹھے...

رہبر اور صوفی بخیل ہوتے ہیں نہ حریص...زیادہ کی ہوس کے بجائے قناعت پسند...وہ کسی صورت بھی" اپنا حال "عام لوگوں پر ظاہر نہیں کرتے اور "ہر حال" میں ان کے "دسترخوان" میزبانی کے لیے "سجے" رہتے ہیں کہ مہمان کا اکرام سنت مبارکہ ہے...اکثر سوچتا ہوں کہ ہم بھی عجب مسلمان ہیں...تقسیم کرنے والے سخی پیغمبر ﷺ کے جمع کرنے والے خود غرض امتی...؟؟؟؟پیر کامل سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب" کشف المحجوب" میں  "جودوسخا "کے باب میں تاجدار مدینہ ﷺ کی عطاؤں کے چند" انمول گوشے" بڑے دلنشین پیرائے میں بیان کرکے رہنماؤں کی کیا خوب رہنمائی کی ہے...شیخ ہجویرؒ نے لکھا ہے کہ سخی سخاوت کرتے وقت اپنے پرائے کی تمیز برقرار رکھتا ہے جبکہ جواد اپنے بیگانے کی تفریق نہیں کرتا...یہ چیز دو پیغمبروںؑ کے حال سے نمایاں ہے...حضرت ابراہیم علیہ السلام کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک دسترخوان پر کوئی مہمان نہ ہو...ایک دفعہ تین روز گذر گئے کوئی مہمان وارد نہ ہوا...آخر کار کوئی آتش پرست دروازے پر آیا...آپؑ نے پوچھا کون ہو؟جواب ملا آگ کا پجاری ہوں... فرمایا چلے جاؤ تم میرے مہمان ہونے کے قابل نہیں...اللہ کی طرف سے عتاب ہوا کہ ہم نے اس شخص کی 70 برس تک پرورش کی اور آپؑ سے یہ بھی نہ بن پڑا کہ اسے ایک وقت کی روٹی دے دو...اس کے برعکس جب  پیغمبرﷺ کی خدمت میں حاتم کا بیٹا عدی پیش ہواتو حضورﷺ نے اپنی چادر اس کے لیے بچھادی اور فرمایا کہ جب کسی قوم کا کوئی صاحب کرم شخص آئے تو اس کی تکریم کرو...حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیگانے کی تفریق کو پیش نظر رکھا اور ایک غیر مذہب والے کو ایک نان بھی دینے سے دریغ کیا...حضور ﷺ نے یہ فرق نظر انداز کر دیا اوراپنی چادر کا فرش کر دیا...حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام سخاوت تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جواد ٹھہرے...سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی شخص رسول کریم ﷺ  کے پاس آیا...آپ ﷺ نے اسے دو پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی مع بھیڑ بکریوں کے عطا فرمائی...اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو جا کر کہا:مسلمان ہو جاؤ...پیغمبر ﷺ ایسے سخی ہیں کہ عطا کرتے وقت اپنے فقرو فاقہ سے نہیں ڈرتے... 

پیر کامل نے "دل کے غنی ایک غلام" کا واقعہ یوں لکھا ہے:حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک بار کسی نخلستان کے قریب ایک جماعت سے ملے...دیکھا کہ ایک حبشی غلام بھیڑ بکریاں چرارہا ہے...ایک کتا آکر اس کے قریب بیٹھ گیا...غلام نے ایک روٹی نکال کر کتے کے آگے ڈال دی...پھر اسی طرح دوسری اور تیسری بھی ڈال دی...عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بڑھ کر پوچھا تجھے ہر روز کتنی روٹیاں ملتی ہیں؟؟؟غلام نے جواب دیا جتنی آپ نے دیکھی ہیں...آپ نے کہا کہ ساری روٹیاں تونے کتے کے آگے ڈال دیں...غلام نے کہا جی ہاں...دراصل یہ کتوں کی جگہ نہیں...خبر نہیں وہ کتنی دور سے اس امید پر آیا...میں اس کی تکلیف کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا.۔.عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو اس کی یہ بات بہت پسند آئی اور آپؓ نے غلام کو بھیڑ بکریوں اور نخلستان سمیت خرید لیا...پھر غلام کو راہ خدا میں آزاد کرکے سب کچھ اس کے سپرد کردیا...غلام نے آپؓ کو دعا دی اوربھیڑ بکریاں اللہ کی راہ میں دے کر وہاں سے چلاگیا...

سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ " ایثار کے باب  " میں جنگل کے بادشاہ شیر کی روداد میں لکھتے ہیں:میں نے احمد حماد سرخسی رحمتہ اللہ علیہ سے دریافت کیا:آپؒ کی توبہ کی ابتدا کیسے ہوئی؟؟؟فرمایا:میں سرخس کے جنگل میں اونٹ چراتا تھا...ایک رات جنگل میں رہا...میری ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ خود بھوکا رہوں اور اپنا حصہ دوسروں کی نذر کردوں...خدائے عزوجل کا یہ فرمان ہر وقت میرے سامنے رہتا تھا "وہ اپنی بےسروسامانی کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں"...اہل طریقت سے مجھے اردات تھی...ایک دن ایک بھوکا شیر آیا اور اس نے میرا ایک اونٹ مار ڈالا...اس کے بعد وہ بلندی پر چڑھ گیا اور زور سے دھاڑا...جنگل کے درندے اس کی آواز سن کر جمع ہو گئے...شیر نے نیچے اتر کر اونٹ کو ٹکرے ٹکرے کر دیا...سب درندوں نے پیٹ بھر کر کھایا...جب وہ چلے گئے تو شیر نے خود بھی کچھ کھانے کا ارادہ کیا.. . اسی وقت ایک شکستہ پار لومڑی آتی دکھائی دی...شیر پھر بلندی پر چڑھ گیا...لومڑی نے بے خوف ہو کر کچھ کھایا اور واپس چلی گئی...شیر نے بھی نیچے اتر کر کھایا.. . واپس لوٹتے ہوئے شیر نے فصیح زبان میں کہا اے احمد ! لقمے کا ایثار کتوں کا کام ہے...مردان ہمت جان و زندگانی  ایثار کرتے ہیں...یہ بین دلیل دیکھ کر میں نے سب کچھ تیاگ دیا...یہ میری توبہ کی ابتدا تھی"...

علمائے کرام کی صحبت میں بیٹھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ چند ایک صوفیائے کرام کی زیارت بھی ہو گئی ورنہ ساری زندگی پچھتاوا رہتا...مرشد عبدالحفیظ مکی رحمتہ اللہ علیہ ان میں سے ایک تھے...بڑے دل والے بڑے آدمی...مکہ کے بیت الکبیر سے لاہور کے سبزہ زار کی خانقاہ تک بڑا دسترخوان...دائیں بائیں بیٹھے مریدوں کو خود کھانا ڈال کر دیتے. ..ایک دفعہ لاہور پریس کلب کے مہمان بنے تو کہا جو صحافی بھی مکہ مکرمہ آئے ہم اس کے میزبان ہو نگے...راجہ اورنگزیب صاحب حج پر ان کے مہمان نوازی پر عش عش کر اٹھے...جناب جاوید جمال ڈسکوی نے کئی سال پہلے اپنے سفرنامہ حج "میرے حضور کے دیس میں"کےانتساب میں لکھا:پیر طریقت مولانا عبدالحفیظ مکی کے نام کہ حضرت جی مولانا زکریا رحمتہ اللہ علیہ کے اس خلیفہ اجل کو دیکھ کر میں ہمیشہ حیران ہوتا ہوں کہ پیروں کی بھیڑ میں یہ کتنا مختلف پیر ہے... اس "انفرادیت "بارے فقیر مدینہ ڈاکٹر احمد علی سراج نے بڑا خوب صورت جملہ کہا...جب ایک عرب نے ان سے پوچھا یہ کس بزرگ کا جنازہ ہے تو ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ یہ وہ درویش ہیں جو زندگی بھر مکی کہلوائے مگر موت کے بعد قیامت تک کے لیے مدنی ہو گئے ہیں...

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بستی میں اپنے مرشد مولانا زکریا کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ کے پہلو میں ابدی نیند سوئے مولانا مکی کے سفر آخرت کی کہانی بھی بڑی ایمان افروز ہے . ..انہوں نے ہنستے مسکراتے مکہ مکرمہ سے جنوبی افریقہ کے روحانی دورے کے لیے جدہ ائیرپورٹ سے  فلائی کیا...پردیس میں "سلام قولا من رب رحیم" پڑھتے اللہ کے حضور کے پیش ہوگئے.۔.ادھر سے میت براستہ جدہ مدینہ منورہ پہنچی...مسجد نبوی شریف میں نماز فجر کے بعد جنازہ ہوا اور روضہ رسولﷺے پڑوس میں جنت البقیع کے شہر خاموشاں میں متبرک مٹی کی چادر اوڑھ لی...قابل رشک انجام بخیر...ڈاکٹر سراج بھی اپنے مرشد کے نقش قدم پر ہیں...مدینہ منورہ میں مکی صاحب کی ایک مجلس میں مولانا زکریا کاندھلویؒ کے نواسے مولانا شاہد صاحب نے انہیں بھی انجام بخیر کی خوشخبری دی تھی...اللہ ان پر کرم فرمائے...!!!

زمانہ الٹی چال بھی چل جائے تو رب کی دھرتی پر رب کا نظام ہی چلے گا اور رب کا نظام یہ ہے کہ رب کی کبھی خیر بانٹنے والوں سے خالی نہیں رہتی...خود غرضیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ لوگ" جگنو "کی طرح  جگمگاتے رہتے ہیں...دوسروں کے لیے جینے والے عزت مآب ڈاکٹر امجد ثاقب کو ہی دیکھ لیجیے...چھوٹی سی مسجد سے شروع ہونے والا " اخوت کا سفر "ملک کے کونے کونے خدمت کا "پیغام" دے رہا ہے...وہ اس عہد کے صوفی بھی اور رہبر بھی ہیں...!!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -