صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اہم نشاندہی کردی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشے کا اظہار ...
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اہم نشاندہی کردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کو سائبر سیکیورٹی ماہرین کی ضرورت ہے، جیسے جیسے پاکستان ڈیجٹیلائز ہوگا ویسے ویسے سائبر حملےبڑھ جائیں گے،نئی نسل دنیامیں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھ رہی ہے،انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی) کے شعبہ میں ترقی سے پاکستان کی آئی ٹی کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، اداروں کو ڈیجٹیلائز کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرنی چاہئے،ہونہار طلبہ کو 50 ہزار شکالر شپس دی جارہی ہیں۔

اسلام آباد میں  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہاکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہمیں سائبر سیکیورٹی ماہرین درکار ہیں، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ سائبر سیکیورٹی کی تعلیم کو ترجیح دیں، پاکستان اس شعبہ میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے،سائبر حملے بڑھنے کے باوجود دنیا کے پاس ٹیکنالوجی کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے،بھارت ہمارے معاشرے میں افراتفری پھیلانا چاہتا ہے، سوشل میڈیا پر فیک نیوز چلائی جاتی ہیں۔

صدر مملکت نےسائبر ہیکاتھان کےانعقاد پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس کے دیگر پارٹنرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ٹیلنٹ کی نشاندہی کا موقع ملا ہے، ملک کو آئی ٹی اورسائبرسیکیورٹی کےماہرین کی ضرورت ہے،نوجوان دنیا کو تیزی سے سمجھتے ہیں،جنریشن گیپ کی وجہ سے فیصلہ ساز پیچھے ہیں۔انہوں نے سائبر سیکیورٹی کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان سائبر حملوں کی زد میں ہے،فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) اور نیشنل بینک پر سائبر حملہ اس کی مثال ہے،نادرا کے ڈیٹا پر بھی حملہ کیا گیا، پاکستان جتنا ڈیجیٹلائز ہوگا اتنے سائبر حملے بڑھیں گے، مالیاتی اداروں، ٹیلی کام اور یوٹیلی اداروں کا ڈیٹا بھی محفوظ نہیں ہے۔

صدر مملکت نے نوجوانوں سے کہاکہ وہ پڑھ لکھ کر ملک کی خدمت کریں، پاکستان کو کوئی ترقی سے نہیں روک سکتا، دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈ اور بینکوں کا ڈیٹا چوری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود 2018ءمیں روزانہ پانچ  ٹریلین ڈالر کی آن لائن ٹرانزیکشنز ہوتی تھی،ہمیں اداروں کو ڈیجٹیلائز کرنے کے ساتھ سائبر سکیورٹی کی جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرنی چاہئے، سیکیورٹی انسان کا پرانا مسئلہ ہے، آج کے دور میں کسی کی پرائیویسی نہیں رہی، پورے معاشرے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔ 

مزید :

قومی -