غیر روادار مذہبی جنون کی ہولناکی

غیر روادار مذہبی جنون کی ہولناکی
غیر روادار مذہبی جنون کی ہولناکی

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:48

جہاں تک اس کی الٰہیات کا تعلق ہے، میرا خیال ہے وہ درون خانہ خدا پر یقین رکھتاتھا۔ بلکہ وہ ایک قدم آگے جانے کو تیار تھا، جب وہ یہ کہتا تھا کہ اگر خدا کا وجود نہ ہو تو تب بھی انسانوںکرراہِ راست پر رکھنے، زندگی کو بامعنی بنانے اور امید کو قائم رکھنے کے لیے خدا کو وجودمیں لانا پڑے گا۔ اپنے ایک اہم مقالے”مابعد الطبیعیات پر ایک مقالہ“ میں وہ لکھتا ہے : ”اس رائے کو قبول کرنے میں کئی مشکلات پیش آتی ہیں کہ خدا وجود رکھتا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ اس کی رد(خدا کے عدم وجود) پر یقین رکھنے سے کئی نامعقول اور واہیات نتائج پیدا ہوتے ہیں“۔ فریڈرک کو ایک خط میں اس نے لکھا”خدا کا وجود ممکن ہے، مگر اس کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم اس کا ہونا اس کے نہ ہونے سے بہتر ہے“۔ یہ 1737ءکے آس پاس کی باتیں ہیں۔ مگر کافی عرصہ بعد 1770ءتک بھی اس کا نظریہ اسی قسم کا ہے۔ اس نے لکھا:”خدا کے وجود کے عقیدے کوبرقرار رکھنا چاہیے، انسانی معاشرے کو اس کی ضرورت ہے اور اگر خدا موجود نہیںتو پھر اس کوبنانا پڑے گا“۔

خیر، سچی بات یہ ہے کہ اگر وہ خدا کو مانتا بھی ہے، تب بھی یہ الحاد سے بس ایک قدم پیچھے رہنے والی بات ہی ہے۔ دراصل اس کی وفات کے لگ بھگ ڈیڑھ سو سال بعد وجود میں آنے والی امریکی فلسفیانہ اصطلاح کے مطابق وہ نتائجیت پسند (Pragmatic)تھا اور خدا کو اس لیے مانتا تھا کہ اس سے مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک اور زاوئیے سے دیکھیں تو وہ خدا اور مذہب کی عقل پرستانہ توجیہہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ایک ایسا نقطۂ نظر جو غالباً ہندوستان کے کچھ مسلم دانشوروں مثلاً سر سید اور مولوی چراغ علی نے یورپ کی مذہبی عقل پرستانہ تحریک کے زیر اثر قبول کیا۔ یہ عقل پرستانہ توحیدی (Diest) نظریات تھے، جس کے مطابق ذاتِ باری تعالیٰ اپنا ظہور ماورائی انداز کی بجائے فطری اور عقلی طور پر کرتی ہے اور فطرت کے طبعی قانون (Physical Law Of Nature)کے مطابق اپنا نظام چلاتی ہے۔ سو، انسانی زندگی میں بھی اسی حوالے سے دخیل ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا نقطہ نظر ہے جو مافوق الفطرت معاملات، معجزوں اور دعاو¿ں کے نظام کا قطعی منکر ہے۔

اب یہ ایک ایسی صورت حال تھی، جس کے تحت اس نے عمر بھر مسیحیت، مسیحی مذہبی رسوم و اسطور اور مذہبی طبقات کا مذاق اڑایا جو مطلق العنان خدا کے نام پر جبروتشدد اور استحصال کا نظام قائم کئے ہوئے تھے۔ وہ یہودیوں کے ان مضحکہ خیز خیالات کو بھی قبول نہیںکرتا تھا، جس کے تحت پوری کائنات کے رب نے خانہ بدوشوں کے ایک چھوٹے سے قبیلے یعنی یہودیوں کو اپنی منتخب قوم قرار دیا تھا اور سچی بات تو یہ ہے کہ اسلام اور قرآن کے بارے میں اس کے خیالات ہمیشہ منفی ہی رہے۔ اس کے برعکس ہندومت اسے ایک معصوم اور امن پسند مذہب دکھائی دیتا تھا۔

یہ جس والیٹرکی تصویر ہمارے آپ کے سامنے ہے، وہ اس والیٹرکی ہے ، جس کی عمر60 سال سے زیادہ ہے اور وہ فرنے میںرہتا ہے۔ یہ بات خود میرے لیے اس لئے باعث اطمینان ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کام بلکہ اصلی اور حقیقی کام کیا جا سکتا ہے اور زیادہ اچھے طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا، میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ فرنے کے قیام کے دوران والیٹر کی شخصیت کا وہ پہلو کھل کر سامنے آیا، جو ہر لحاظ سے قابل قدر اور قابل تعریف ہے۔۔۔وہ اب ”یورپ کے ضمیر“ کے طور پر سامنے آیا، مگر یہ بات سمجھانے کے لیے مجھے آپ کو ایک کہانی سنانا پڑے گی۔ 

یہ کہانی فرانس کے ایک قصبے طولوس میں رہنے والے کیلاس خاندان کی ہے، جس کا تعلق پروٹسٹنٹ فرقے سے تھا۔ ہوا یوں کہ 13 اکتوبر 1761ءکی ایک شام جب گھر میں مہمان بھی کھانے پر مدعو تھے، ڑاں کیلاس کے بیٹے مارک انطونی نے اپنے کمرے میںرسی سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ ان دنوںفرانس میں کیتھولک فرقے کے پادریوں کی بالادستی قائم تھی۔ آبادی کا زیادہ تر حصہ بھی کیتھولک تھا۔ سو، پہلے ہلکی سی سرگوشی ہوئی۔ پھر قیاس آرائی اور پھر مارک انطونی کو ”سچے مذہب کے شہید“ کا درجہ دے کر یہ الزام لگایا گیا کہ مارک انطونی کو اس کے اپنے خاندان نے اس بنا ءپر قتل کیا ہے کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ کر کیتھولک ہو گیا تھا۔ اسے کیتھولک رسوم کے مطابق ہی دفن کیا گیا اور پھر پورے خاندان پر مقدمہ چلا کر باپ کو تو سزائے موت کی سزا سنائی گئی اور باقی گھر والوں کو جلا وطن کر دیا گیا۔ پھر مارچ 1762ءمیں ڑاں کیلاس کی سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایک لوہے کی سلاخ سے اس کی تمام پسلیاںتوڑی گئیں اور شدید اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔ ڑاں کیلاس آخری لمحے تک اپنی بے گناہی کے بیان پر قائم رہا۔۔۔یہ تھی غیر روادار مذہبی جنون کی ہولناکی!

خیر، اِسی ڑاں کیلاس کا ایک بیٹا کسی طرح والیٹرتک پہنچا اور ساری درد ناک داستان سنائی۔ معلوم یہ ہوا کہ مارک انطونی وکیل بننے کے جنون میں مبتلا تھا اور اس زمانے میں وکالت کے پیسے سے وابستہ ہونے کے لیے کیتھولک ہونا ضروری تھا۔ ایک دن اس نے اپنے گھر والوںکو دوران گفتگو سرسری طور پر بتایا کہ کیتھولک فرقے سے وابستہ ہونے سے کس قدر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اب میں اندازہ لگاتا ہوں کہ شاید باپ نے یہی کہا ہو گا کہ بیٹا، معمولی دنیاوی فائدوں کے لیے اپنا مذہب کیوں بدلتے ہو، وغیرہ وغیرہ اور بات اس وقت تو ختم ہو گئی ہو گی مگر مارک انطونی کے دل میں یہ بات اٹکی رہی اور مایوسی کے کسی کمزور لمحے میںدل برداشتہ ہو کر اس نے خودکشی کر لی۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -