یہاں بیانیہ تاریخ نہیں رہا ادب بن گیا زمان و مکاں کی سرحدیں ٹوٹ گئیں

یہاں بیانیہ تاریخ نہیں رہا ادب بن گیا زمان و مکاں کی سرحدیں ٹوٹ گئیں
یہاں بیانیہ تاریخ نہیں رہا ادب بن گیا زمان و مکاں کی سرحدیں ٹوٹ گئیں

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:65

زبانی طور پر کئی لوگوں نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن اس کے باوجود سالک نے اس طرح کے واقعات کا ذکر نہیں کیا جس سے کسی کی شخصی عزت مجروح ہوتی ہو۔

کتاب کے آخر میں 4 ضمیمے دیئے گئے ہیں پہلے ضمیمے کا نام ”تاریخی پس منظر“ ہے جس میں 14اگست 1947ءسے لے کر یکم جنوری 1970ءتک کے اہم ملکی واقعات اور تاریخ درج ہے۔

دوسرا ضمیمہ ”6 نکات“ کے نام سے ہے جس میںعوامی لیگ کے منشور کے مطابق 6 نکاتی فارمولے کا متن اور ترامیم درج کی گئیں ہیں۔ تیسرا ضمیمہ ”آپریشن سرچ لائٹ“ ہے جس میں 25مارچ1971ءکو ڈھاکہ میں ہونے والے فوجی آپریشن کے منصوبے کی تفصیل دی گئی ہے- چوتھا ضمیمہ ”دستاویز سقوط“ ہے جس میں16 دسمبر1971ءکو جنرل نیازی اور بھارتی جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے درمیان طے پانے والی شرائط کا متن دیا گیا ہے۔

فنی جائزہ:

صدیق سالک کے اس دعوے کا کہ ”میں نے اس کتاب کو ادب سے دور اور تاریخ سے قریب رکھنے کی کوشش کی ہے“ کا جائزہ لیں تو مصنف کی بات میں صداقت نظرآتی ہے۔ کتاب میں ادبی رنگ موجود تو ہے مگر بقدر اشک بلبل اس کتاب کا غالب اسلوب تاریخ کی کتابوں جیسا ہی ہے لیکن ادیب طنز و مزاح نگار اور شعر فہم سالک ہمیں اپنا جلوہ کہیں کہیں ضرور دکھاتا ہے۔مثلاً طنز کی مثال ملاحظہ ہو:

”بگڑتے حالات کو اگر کوئی شخص سنبھالادے سکتا تھا تو وہ جنرل یحییٰ خان تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں تو فیق اور ان کی مصروفیات نے انہیں مہلت دی تو وہ 12جنوری1971ءکو بہ نفس نفیس ڈھاکہ تشریف لے گئے“ 

عوامی لیگ کی جیت کے متعلق رقم طراز ہیںکہ ایک بنگالی نے انہیں فون پر مبارک باددی :

”میجر! بہت بہت مبارک باد آپ کی پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی۔ بلکہ اس نے گویا جھاڑو ہی پھیر دیا میرے لیے یہ مبارک باد ہضم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ آخر جیتنے والے گھوڑے کو کون نہیں اپناتا! “

سالک کے کچھ مہربان سالک کے اس دعوے کو ان کی کسر نفسی پر محمول کرتے ہوئے کتاب کو خالصتاً ادبی قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً فتح محمد ملک اپنے مضمون ”صدیق سالک کا مرقع عبرت“ میں لکھتے ہیں :

”صدیق سالک نے اپنی کتاب ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ کو ادب سے دور اور تاریخ سے قریب رکھنے کی کوشش کی ہے مگر خوش قسمتی سے وہ سقوط ڈھاکہ کی اس عینی شہادت کو ادب سے دور رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔“ 

اس کی تائید میں انہوں نے چھاپوں کے دوران بنگالی بابا کے تاثرات کی مثال بھی دی ہے جو حکومتی فوجیوں اور بنگالی شرپسندوں کے عتاب کا شکار ہو کر کہتا ہے:

”تھوڑی دیر سے پہلے وہ (شرپسند) یہاں تھے وہ کہتے تھے اگرتم نے ہمارے متعلق کسی کو بتایا تو گولی ماردیں گے اب یہ پاکستانی آئے ہیں کہتے ہیں اگر ان کے متعلق بتایا ‘ تو گولی مار دیں گے ‘میں کیا کروں؟ میں کدھر جاﺅں؟ “ 

فتح محمد ملک اس مثال کے بعد لکھتے ہیں:

”یہاں بیانیہ تاریخ نہیں رہا ادب بن گیا زمان و مکاں کی سرحدیں ٹوٹ گئیںاور بنگالی بابا تاریخ کے ہر موڑ پر عذاب الٰہی میںگرفتار ہر بستی کے ہرویران گھر کا حیران کردار نظر آنے لگا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -