داستان سندھی زبان کے ممتاز ادیب اورمحقق ممتاز مرزا کی

داستان سندھی زبان کے ممتاز ادیب اورمحقق ممتاز مرزا کی
 داستان سندھی زبان کے ممتاز ادیب اورمحقق ممتاز مرزا کی

  

تحریر : آغا نیاز احمد مگسی

آج ہم آپ کو داستان فن سنائیں گے سندھی زبان کے ممتاز ادیب ممتاز مرزا کی۔۔۔۔ ممتاز مرزا ماہر سندھی ثقافت، ماہر سندھی لوک موسیقی، محقق اور ماہر لطیفیات تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کر کے شائع کرنا تھا۔

 ممتاز مرزا 29 نومبر 1939ء کو حیدرآباد، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے،اصل نام مرزا توسل حسین تھا۔ ان کا تعلق مرزا قلیچ بیگ، مرزا اجمل بیگ اور مرزا بڈھل بیگ کے ذی علم گھرانے سے تھا، والد مرزا گل حسن احسن کربلائی بھی سندھ کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ممتاز مرزا نے اپنی علمی زندگی کا آغاز سندھی ادبی بورڈ سے کیا جہاں انہیں سندھی۔ اردو ڈکشنری اور اردو۔ سندھی ڈکشنری اور سندھی لوک ادب کی تدوین کی عظیم ذمہ داری سونپی گئی۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ رہے۔ عمر کے آخری حصے میں سندھ کے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے جہاں انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ "گنج "کے نام سے مرتب کیا اور اپنی نگرانی میں شائع کرایا جو اعلیٰ طباعت کا حسین شاہکار ہے۔ ممتاز مرزا سندھی زبان کے اعلیٰ پائے کے نثر نگار تھے۔ ان کی تصانیف میں "سپریان سندے گالھڑی، سدا سوئیتا کاپڑی" اور" وساریان نہ وسرن "شامل ہیں۔

 ممتاز مرزا نے سندھ کے ممتاز لوک گلوکار الن فقیر اور تھر کی کوئل مائی بھاگی سمیت متعدد فنکاروں کو ریڈیو اور ٹیلی وژن پر متعارف کروایا۔ ان کی تصانیف

میں    (1)گنج (کلام حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ)،  (2)سپریاں سندے گالھڑی (یادداشتیں)،(3)سدا سوئیتا کاپڑی (خاکے)،  (4)وساریان نہ وسرن (خاکے / یادداشتیں) شامل ہیں ۔

 حکومت پاکستان نے ممتاز مرزا کی سندھ کی ثقافت، موسیقی و ادب کے فروغ کے اعتراف کے طور پر 14 اگست 1997ء کوان کی وفات کے بعد  صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔ ممتاز مرزا 6 جنوری، 1997ء کو کراچی میں وفات پا گئے۔ وہ حیدرآباد، سندھ میں ٹنڈو آغا کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

مزید :

ادب وثقافت -