اوور سیز پاکستانیوں کو موبائل فون رجسٹریشن میں مشکلات, قومی خزانے کو اربوں کا نقصان: ”پاکستان“ سروے رپورٹ

اوور سیز پاکستانیوں کو موبائل فون رجسٹریشن میں مشکلات, قومی خزانے کو اربوں ...
اوور سیز پاکستانیوں کو موبائل فون رجسٹریشن میں مشکلات, قومی خزانے کو اربوں کا نقصان: ”پاکستان“ سروے رپورٹ

  

لاہور(سٹی رپورٹر) بیرون ملک سے آنیوالے پاکستانیوں کیلئے مشکلات حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئیں۔ پی ٹی اے حکام کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو امپورٹڈ موبائل کا کنٹری کوڈ کھلوانے اور اسے رجسٹرڈ کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ موبائل مارکیٹ میں موجود سافٹ ویئر انجینئرز پی ٹی اے حکام کی ملی بھگت سے زیادہ پیسے وصول کر کے مسئلہ حل کردیتے ہیں جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے سالانہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ ”پاکستان“ کے ایک سروے کے دوران مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے دکانداروں اور صارفین نے الزام لگایا کہ بیرون ملک سے آنیوالوں کو موبائل فون پی ٹی اے سے رجسٹرڈ کرانے میں دشواری کے باعث موبائل مارکیٹ میں ایجنٹ مافیا جن کاپی ٹی اے حکام سے رابطہ ہوتا ہے بھاری فیس کے عوض بغیر بنک میں فیس جمع کرائے کوڈ کھلوا دیتے ہیں۔بیرون ملک سے آنیوالے موبائل فون کو پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی سے رجسٹرڈ کراناضروری ہوتا ہے، جو کسی بھی موبائل فون سے پی ٹی اے کے فراہم کردہ نمبر 8483 پر میسج کے ذریعے مطلوبہ معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں جس کے بعد سائل کو ٹریکنگ آئی ڈی فراہم کیا جاتا ہے اور 3 یوم کے اندر پی ایس ڈی کوڈ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ بنک میں فیس جمع کرانے کے بعد موبائل فون استعمال کرنے کے قابل ہو لیکن بار بار 8483 پر کوشش کرنے کے باوجود تسلی بخش جواب نہیں آتا اگر کامیاب ہو جائیں تو درخواست کا ٹریکنگ نمبر تو مل جاتا ہے لیکن پی ایس ڈی کوڈ فراہم نہیں کیا جاتا جس کے باعث لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب موبائل مارکیٹ کا مافیا پی ٹی اے کی ملی بھگت سے اضافی پیسے لے کر کوڈ کھلوا دیتے ہیں اور بنک رسید بھی نہیں دیتے۔ آئی فون کا کوڈ کھلوانے کی فیس 1 لاکھ سے2 لاکھ کے درمیان ہے جبکہ موبائل مارکیٹ کے لوگ مطلوبہ فیس کے ساتھ 20،تیس ہزار روپے اضافی لے کر لوگوں کے موبائل کوڈ کھلوادیتے ہیں۔ پی ٹی اے ریجنل آفس میں شکایت کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا آپ 8483 پر ہی رابطہ کریں، وہ کچھ نہیں کرتے۔ہیڈآفس اسلام آباد رابطہ کرنے پر کہا گیا کہ آن لائن شکایت درج کرائیں، ایک ہفتے کے اندرشکایت کے متعلق رابطہ کیا جائے گا۔

متاثرین نے اعلیٰ حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مارکیٹوں میں بیٹھے لوگ سافٹ ویئر کے ذریعے اس کے کنٹری کوڈ بھی کھول دیتے ہیں جبکہ اس کو پی ٹی اے کی فہرست میں بھی شامل کر لیتے ہیں جس سے قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں،اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

مزید :

رپورٹر پاکستان -علاقائی -پنجاب -لاہور -