مجیب کے گھر ویرانی ہی ویرانی تھی اسے دیکھ کر دشت یاد آرہا تھا

مجیب کے گھر ویرانی ہی ویرانی تھی اسے دیکھ کر دشت یاد آرہا تھا
مجیب کے گھر ویرانی ہی ویرانی تھی اسے دیکھ کر دشت یاد آرہا تھا

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:66

”فتح محمد ملک “ کی بیان کردہ مثال کے علاوہ بھی کتاب میں کئی ایسے حصے ہیں جہاں تاریخ کے اعداد وشمار کے علاوہ داخلی اور ادبی رنگ محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود کتاب کا مجموعی رنگ ادبی نہیں تاریخ کا ہے کیونکہ سالک نے ارا دتاًایسا اسلوب اختیار کیا تھا تا کہ فن کے پردے میں حقائق مسخ نہ ہوں اور واقعات کا غیر جذباتی تجزیہ کیا جا سکے۔ اس ضمن میں ان کی اپنی رائے بہت وقیع معلوم ہوتی ہے:

”اگر میں تاریخی واقعات پر ادبی خول چڑھانے بیٹھ جاتا ‘ تو خول تو شائد چمک اٹھتا مگر حقائق ماند پڑجاتے .... اگر کہیں کہیں کوئی ادبی جملہ آگیا ہے ‘ تو اس کی حیثیت میری نظر میں اندھیری رات میں تنہا ستارے جیسی ہے ‘ جو چمکتا تو ہے مگر اس سے تاریکی کم نہیں ہوتی۔“

تاریخ کی کتاب ہوتے ہوئے ادبی رنگ یکسر غائب نہیں جہاں سالک نے اس المیے پر غم کا اظہار کیا ہے وہاں پیرائیہ بہت حزنیہ ہے مثلاً ڈھاکہ کی خانہ جنگی کے متعلق لکھتے ہیں:

1:”ٹھنڈی چاندنی میںڈوبا ہوا شہر سو رہا تھا اور موسم بہار کی خنک ہوا میرے گالوں کو چھو کر گزر رہی تھی۔ باہر جتنا سکون تھامیرے اندر اتنا ہی زیادہ طلاطم تھا میں سوچنے لگا یہ خوشگوار رات خون کی ہولی کھیلنے کے لیے قطعاً مناسب نہیں۔“ 

2:”جب صدر مائل بہ پر وازہوئے تو شب کی تاریکی پھیل چکی اس وقت کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اس شب کی سحر کبھی نہیں ہو گی۔“ 

3:”مشرقی سرحد کبڑے شخص کی طرح تھی اوپر اور نیچے سے آگے کو جھکی ہوئی اور درمیان میں پیچھے کو ہٹی ہوئی۔“ 

بنگلہ دیش کی تخلیق کے لیے ایسی تشبیہ استعمال کی ہے جو دکھ کرب اور اذیت کے بیان کے لیے موزوں ہے:

”بنگلہ دیش کی پیدائش ایک ایسے بچے کی ولادت تھی جسے ماں کا پیٹ چاک کر کے نکالا گیا ہو۔“ 

صدیق سالک موقع محل کی مناسبت سے طنز کا استعمال مہارت سے کرتے ہیں۔ جو براہ راست تنقید سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً:

”جنرل حمید نے جنرل نیازی کو جنگ بندی کا جو ”مشورہ“ دیا تھا۔ موصوف نے اسے ”منظوری “ سمجھ لیا۔“

”ڈویژنل ہیڈ کو اٹر مزید پسپا ہو کر فرید پور پہنچ چکا تھا جہاں جنرل انصاری مصلّے پر بیٹھے اپنے جیالوں کی کامیابی کے لیے دعا کر رہے تھے۔“ 

مزاح نگاری کے لیے رعایت لفظی سالک کا مرغوب طریقہ ہے۔ اس کتاب میں رعایت لفظی زیادہ تر طنز کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ مثلاً:

”اس موقع پر جنرل اروڑا نے پاکستانی سپاہیوں کی ایک گارڈ آف آنر کامعائنہ کیا جو اس بات کی علامت تھا کہ اب وہی ”گارڈ“ ہیں اور وہی ”آنر“ کے مستحق! “ 

سالک نے ایک موقع پر 2جرنیلوں کے ناموں کے مطلب کو ذومعنی انداز سے لکھا ہے۔جنرل یحییٰ میجر جنرل فرمان اور میجر جنرل خادم پر زیادہ بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ فوجی ایکشن کے حوالے ان2 حضرات کی رائے لی تو انہوں نے کہا:

”ہم آپ کے فرمان کے خادم ہیں“ 

کتاب کے موضوع کے مطابق سالک نے انداز تحریر زیادہ سادہ ہی رکھا ہے پر کہیں کہیں شاعرانہ ذوق کا اظہار کیا ہے مثلاً فوجی کارروائی کے بعد مجیب کے گھر کے متعلق لکھا ہے:

”مجیب کے گھر ویرانی ہی ویرانی تھی اسے دیکھ کر دشت یاد آرہا تھا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -