”زندگی موت کا منہ چوم رہی ہے“

 ”زندگی موت کا منہ چوم رہی ہے“
 ”زندگی موت کا منہ چوم رہی ہے“

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:49

ڑاں کیلاس کے بیٹے سے یہ کہانی سن پر اور اس کی سچائی پر یقین کرکے اب جو والیٹرکھڑا ہوا تو وہ ایک اور ہی والیٹرتھا۔ گویا68 سال کی عمر میں فرنے میں ایک نئے والیٹر نے جنم لیا۔ اس نے اپنا اثرورسوخ، قلم کی طاقت، زبان کی ضرب اور روپیہ پیسہ خرچ کیا، ایک دفاعی کمیٹی بنائی، قابل ترین وکلاءکی خدمات حاصل کیں اور ڑاں کیلاس کی بیوی کی طرف سے طولوس کی عدالت کے 7 ججوں کے خلاف صف آراءہو گیا اور اس وقت تک نہیں بیٹھا، جب تک فرانس کی اعلیٰ عدالت نے آنجہانی ڑاں کیلاس کو بے گناہ قرار نہیں دے دیا۔۔۔یہ عظیم فتح تھی۔

اِسی طرح اس نے اس خاندان کو سزائے موت سے بچایا، جس پر اپنی مخبوط الحواس بیٹی ایلزبتھ سرون کے عقیدہ بدلنے کی وجہ سے قتل کا الزام تھا۔ان واقعات کے حوالے سے اس نے بے شمار پمفلٹ بھی لکھے۔ ”رواداری پر مقالہ“ انہی دنوں کی یادگار ہے، جس میں اس نے لکھا کہ ہر شخص کو اپنا عقیدہ رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ امن عامہ میںخلل انداز نہ ہو۔

انسانی تاریخ میں کم ہی ایسے لوگ گزرے ہوں گے، جنہوں نے 80سال کی عمر تک سرگرمی سے تصنیف و تالیف اور سماجی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہو۔ مگر اس نے ایسا ہی کیا۔ 1772ءتک، جب اس کی عمر 78سال تھی، اس کی کتاب ”فلسفیانہ لغت“ کے نئے ایڈیشنز کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔۔۔زندگی کے آخری سال اس کی زندگی کے بہترین سال تھے۔ اب وہ یورپ کا ممتاز ترین شہری بن چکا تھا۔

دراصل اب وہ محض ایک فرد نہیں تھا، بلکہ آزادی، انصاف اور روشن خیالی کی علامت تھا۔ وہ لوگوں کی اپنے اثرورسوخ سے مدد کرتا، انہیں مشورے دیتا، کوئی معافی کا طلبگار ہوتا تو فوراً معاف کر دیتا۔ایک بار ایک میاںبیوی کا جوڑا اس کے ہاں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے پاؤں پر گر پڑا۔ اس نے انہیں نہایت شفقت سے اٹھایا اور معاف کرتے ہوئے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ، جھکنا صرف خدا کے سامنے زیبا ہے۔ ہاں مگر ابتدائے زندگی کا بانکاپن اب بھی قائم تھا۔ اس نے ایک بار کہا” مجھ پر کوئی حملہ آور ہو تو میں شیطان کی طرح ڈٹ جاتا ہوں، ہار نہیں مانتا، مگر سچی بات یہ ہے کہ میں دل کا برا نہیں۔ کوئی ہار مان لے تو ہنس کر ٹال دیتا ہوں“ طنز و مزاح والی عادت بھی ابھی تک برقرار تھی۔ جب اس کے دوستوں نے 1770ءمیں پیرس میں اس کا مجسمہ بنانا چاہا تو دوسرے لوگوں کے علاوہ روس، جرمنی، پولینڈ اور ڈنمارک کے بادشاہوں نے چندے میں حصہ لیا۔مگر وہ خود بمشکل راضی ہوا۔ اس نے کہا ”اب میرا چہرہ سرے سے ہے ہی کہاں، جو مجسمے کی شکل میں ڈھالا جائے۔ آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ میرا چہرہ کیسا بنایا جائے۔ میری آنکھیں اندر دھنس چکی ہیں۔ گال چمڑے کی صورت اختیار کر گئے ہیں اور جو اِکا دکا دانت باقی تھا وہ بھی اب نہیں رہا“۔ 

ایک دفعہ ایک نوجوان عقیدت مند نے اس کا منہ چوما تو اس نے کہا: ”زندگی موت کا منہ چوم رہی ہے“۔

اب اس کی عمر83 سال ہو چکی تھی اور اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ مرنے سے قبل پیرس کو دیکھ لے، بلکہ یہیں جا کر مرے۔ یہ اس زمانے میں ایک مشکل کام تھا۔ فرنے سے پیرس تک چار پانچ دنوں کا سفر تھا، مگر وہ جانے کی ٹھان چکا تھا۔ یہ 1778ءمیں فروری کا مہینہ تھا، جب اس نے پیرس کے لیے رختِ سفر باندھا اور جب وہ پیرس پہنچا تو پورا شہر اس کے استقبال کے لئے امڈ آیا۔ وہ اپنے جوانی کے ایک دوست کے گھر پہنچا اور کہآ:”تم سے ملنے کے لیے روح سینے میں اٹکی ہوئی تھی“۔ دوسرے دن تقریباً 300 ملاقاتیوں سے اس نے ملاقات کی۔ ان لوگوں میں پیرس میں امریکہ کا سفیر اور موجد بنجمن فرنیکلن بھی شامل تھا،جوکہن سالہ فلسفی کی آشیرباد حاصل کرنے کے لیے اپنے 8 سالہ پوتے کو بھی ساتھ لایا تھا۔ والیٹرنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہآ:” بیٹا، خدا اور آزادی کی راہ میں خود کو وقف کر دے“۔ اس سے ملنے کے لیے برطانیہ کا وہ سفیر بھی آیا، جو اس کا ذاتی اور سیاسی مخالف تھا، مگر وہ اس سے خندہ پیشانی سے ملا۔ یہیں پر اس کی ملاقات جان ایڈمنر سے ہوئی، جس نے چند سا ل بعد امریکہ کا صدر بننا تھا۔

پیرس میں آمد کے بعد بوڑھے فلسفی کی صحت کچھ مزید خراب ہو گئی تھی، مگر وہ فرنے کی طرح اپنے معمولات جاری رکھنے پر مصر تھا۔ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود وہ ان دنوں تھیٹر میں جاری اپنے ڈرامے ”ارینے“ (Irene)کو دیکھنے کے لیے بھی گیا۔

20فروری 1778ءکو اسے ایک پادری کی طرف سے خط موصول ہوا، جس نے اسے اس کی آخری رسومات کے لیے اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ کلیسا سے ساری عمر کی لڑائیوں کے بعد شاید اب وہ تھک گیا تھا، اس لیے اس نے پادری کی پیش کش قبول کر لی۔ تاہم اسے بتایا گیا کہ ساری عمر کی مذہب دشمنی کی وجہ سے ضروری ہے کہ وہ تجدیدِ ایمان کرے۔ اس نے یہ بھی قبول کر لیا اور ایک بیان لکھوایا:

”میں خدا کی تعظیم کرتے ہوئے، اپنے دوستوں سے محبت اور دشمنوں سے نفرت کرتے ہوئے اور توہم پرستی کی مذمت کرتے ہوئے اس دنیا کو خیر باد کہہ رہا ہوں“

مگر پادریوں کی اس بات سے بھی تشفی نہ ہوئی اور 30مئی 1778ءکو جب اس نے دارفانی کو الوداع کہا تو پادریوں نے مسیحی رسوم کے مطابق پیرس میں اس کی تکفین و تدفین کی اجازت نہ دی اور اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے ”سیل آئرس“ (Scelliers) کے مقام پر ایک قدرے نرم دل پادری کی مدد سے والیٹرکو خاموشی سے مذہبی رسوم کے مطابق دفن کر دیا۔

11جولائی 1791ءمیں انقلابِ فرانس کے بعد فرانس کی نیشنل اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ اس کی لاش کو واپس لا کر پیرس میں مشاہیر کے ساتھ دفن کیا جائے۔ جب اس شعلۂ صفت فلسفی کا جسم خاکی پیرس لایا گیا تو جنازے کے ساتھ لاکھوں آدمیوں کا ہجوم تھا اور پیرس کی سڑکوں پر 6 لاکھ آدمی دو رویہ قطار میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور اس کے تابوت پر جو الفاظ لکھے تھے، وہ آسانی سے پڑھے جا سکتے تھے۔

”والیٹر نے ہمیں آزادی حاصل کرنے کے قابل بنایا“(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -