انقلاب کو صرف بموں اور پستولوں سے ہی عقیدت نہیں ہوتی 

 انقلاب کو صرف بموں اور پستولوں سے ہی عقیدت نہیں ہوتی 
 انقلاب کو صرف بموں اور پستولوں سے ہی عقیدت نہیں ہوتی 

  

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

آخری قسط

مرکز میں 2 ایوان تھے۔ ان میں ایوان بالا کے جسے کونسل آف سٹیٹ کا نام دیا گیا تھا نصف ارکان خود سرکار نامزد کرتی تھی جبکہ نصف تعداد کو ہندوستان بھرکے راجے، مہاراجے اور بڑے جاگیر دار یعنی سارے ملک کے کل 18 ہزار ووٹر منتخب کرتے تھے۔ایوان زیریں کو لیجسلیٹیو اسمبلی کا نام دیا گیا تھا۔ یہاں بھی ارکان کی ایک تعدادکو حکومت نامزد کرتی تھی اور ہر چند کہ اکثریت منتخب ہو کر آتی تھی اس کا انتخابی حلقہ صوبائی حلقوں سے بھی محدود تھا۔ ان ارکان کو منتخب کرنے والے ووٹر کل آبادی کے نصف فیصد سے بھی کم تھے۔جس سے ان کی نمائندہ حیثیت کا اندا زہ لگایا جا سکتا ہے۔ گورنر جنرل کو اختیار تھا کہ وہ حسب منشا ءلیجسلیٹیو اسمبلی کے پاس کردہ قانون یا ضابطے کو مسترد کر دے۔یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ ان اسمبلیوں کو بے اختیار تصور کرتے تھے۔اور ہندوستان میں نافذ کردہ دستوری نظام کو برطانوی حکومت کا ڈھکوسلہ قرار دیتے تھے۔جبکہ دوسرے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان اسمبلیوں کے ذریعے اصلاحات لا کر ہندوستان کو اندرونی خود مختاری اور بالآخر آزادی دلوائی جا سکتی ہے۔

بنگال اور دکن پر قبضے کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی برطانوی حکمران ہندوستان پر طاقت کے بل پر حکمرانی کرنے پر مصر تھے۔ آزادی تو درکنار وہ معمولی اصلاحات کے لیے چلنے والی پر امن تحریکوں کو بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔تقسیم بنگال کی مخالفت کرنے والوں کی آواز کو جب ریاستی تشدد کے ذریعے دبایا گیا تو بنگال میں دہشت گرد گروہ وجود میں آگئے۔اور ان کی خیالات کی بازگشت باقی ہندوستان میں بھی سنائی دینے لگی۔ اس سے آزادی ہند کی تحریک میں حصہ لینے والے نوجوانوں میں یہ تصورجڑ پکڑنے لگا کہ برطانوی راج چونکہ تشدد کے زور پر قائم ہے اس لیے اسے جوابی تشدد کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح نوآبادیاتی حکمران معمولی دستوری مطالبات کی پر امن تحریکوں کو طاقت کے زور پر دبا دیتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے سوائے پرتشدد کاروائیوں کے اور کوئی راستہ رہا۔عدم تعاون کی پر امن تحریک سے جو سلوک کیا گیا اس نے اس تصور کو مزید تقویت پہنچائی۔ 

بھگت سنگھ کی سوچ میں دونوں دھارے موجود تھے۔ سانڈرس کا قتل تشدد کی کار وائی تھا۔ اسمبلی کے اندر بم پھینکنا بظاہر تشدد کی کارروائی تھا لیکن جیسا کہ اوپر بیان ہوا اسے اس طرح سے پھینکنا مطلوب تھا کہ دھماکہ تو ہو مگر کسی کی جان ضائع نہ جائے۔ہرچند کہ جو پمفلٹ تقسیم کیا گیا اس میں مہا تما گاندھی کے نقطہ نظر کے برعکس تشدد کے استعمال کو یکسر مسترد نہیں کیا گیا تھا تاہم ہندوستان بھر میں اس کارروائی کو سیاسی جدو جہد کا اہم حصہ تصور کیا گیا۔ حتیٰ کہ تشدد کے مخالف سیا ستدانوں نے بھی جن میں ملک کے معروف ترین لیڈر شامل ہیں اس کاروائی کو انہی معنوں میں لیا۔ 8۔اپریل 1929ءکو گرفتاری سے لے کر 23مارچ 1931ءکو پھانسی چڑھنے تک اس کی سوچ میں مزید ارتقاءہوا جو ان تحریروں میں نظر آتا ہے جو اس دور میں بھگت سنگھ نے قلمبند کیںمثال کے طور پر 6جون1929 ءکو اس کا جو بیان عدالت کو اس کے وکیل آصف علی نے پڑھ کر سنایا اس میں کہا گیا تھا۔

”ضروری نہیں کہ انقلاب میں زندگی کو ختم کرنے کے جھگڑے ہی شامل ہوں نہ اس میں کسی ایک گروہ کےلئے نفرت کی گنجائش ہے۔انقلاب ہمیشہ بم اور پستول کے ذریعے ہی نہیں آتا۔انقلاب سے ہماری مراد یہ ہے کہ موجودہ صورت حال کو جو بے انصافی پر مبنی ہے لازماً تبدیل کیا جائے۔۔۔کسان جو سب کے لیے اناج پیدا کرتا ہے اپنے خاندان سمیت بھوکا رہتا ہے۔جولاہا جو دنیا بھر کی منڈیوں کے لیے کپڑوں کا انبار تیار کرتا ہے اپنا اور اپنے بچوں کا تن ڈھانپنے کے لیے بقدر ضرورت کپڑا حاصل نہیں کر سکتا۔ راج مستری اور ترکھان جو شاندار عمارتیں بناتے ہیں خود اچھوتوں کی طرح جھگیوں میں رہتے ہیں۔۔۔لیکن اگر کسی طرح ہماری بات ان سنی رہی اور حکومت کا موجودہ نظام ان ابھرتی ہوئی قوتوں کے راستے میں رکاوٹ بنا رہا تو ایک سخت جدو جہد تمام رکاوٹوں کو اکھاڑ پھینکے گی۔“

پھر اسی سال 19اکتوبر کو دوسری آل پنجاب سٹوڈنٹس کانفرنس کے نام بھگت سنگھ اور بی کے دت نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا ”ہم نوجوانوں کو پستول اور بم اٹھانے کا مشورہ نہیں دے سکتے۔طلبہ کے کرنے کےلئے اس سے بڑے کام موجود ہیں۔مستقبل قریب میں لاہور سیشن میں کانگریس ملک کی آزادی کےلئے جدو جہد کا اعلان کر رہی ہے۔پھر طالبعلم ہی تو جنگ آزادی کی اگلی صفوں میں لڑتے ہوئے شہید ہوتے ہیں۔کیا ہندوستانی نوجوان اس سنجیدہ ارادے کا مظاہرہ نہیںکریں گے ؟نوجوانوں کو فیکٹریوں میں کام کرنے والے لا کھوں مزدوروں کی جھگیوں اور دیہات کی جھونپڑیوںمیں انقلاب کا پیغام پہنچانا ہے۔۔۔ چونکہ پنجاب کو عمو ما ًسیا سی طور پر پسما ندہ سمجھا جاتا ہے اس وجہ سے یہاں کے نوجوانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔“

2ماہ بعد ماڈرن ریویو کلکتہ کے ایڈیٹر کے نام خط میں جن خیالات کا اظہار بھگت سنگھ نے کیا وہ بھی سوچ کے اس ارتقا ءکی نشاندہی کرتے ہیں جس کا ذکر اوپرکیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا تھا ”ہم انقلاب کو ہمیشہ اور ہرمو قع پر مسلح انقلاب کے ساتھ نہیں جوڑتے انقلاب کو صرف بموں اور پستولوں سے ہی عقیدت نہیں ہوتی بلکہ بم اور پستول کبھی کبھی انقلاب کے الگ الگ حصوں کی تکمیل کا محض ایک وسیلہ بنتے ہیں۔ یہ مکمل انقلاب نہیں کہلا سکتے۔“ 

پھانسی سے قریباً 2 ماہ قبل نوجوان سیا سی کارکنوں کے نام ایک تفصیلی مضمون میں بھگت سنگھ نے آزادی کی تحریک کے دوران جدو جہد اور سمجھوتہ دونوں کی اہمیت کی تفصیلی نشاندہی کی۔اس نے لکھا”اصل میں سمجھوتا کوئی ایسی قابل نفرت اور قابل مذمت چیز نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔سمجھوتا سیاسی تحریکوں کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ظالم حکومت کے خلاف طویل جدو جہد کے دوران ایسا وقت بھی آتا ہے جب سمجھوتا تحریک کے لیے بہتر ہوتا ہے“اس ضمن میں بھگت سنگھ نے لینن کی مثال دی جس نے 1905ءمیں پارلیمنٹ میں جانے کی حمایت کی تھی۔اسی پیغام کے آخر میں جہاں اس نے کہا کہ تنظیم کا ایک فوجی شعبہ بھی ہونا چاہئے وہاں اس نے سیاسی جدوجہد کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے یہ بھی وضاحت کی ”میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ہم بموں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔یہ بات ہندوستان سوشلسٹ ریپبلیکن آرمی کی تاریخ سے بھی بخوبی معلوم ہو جاتی ہے۔ فوجی شعبہ صرف کسی خاص موقع کےلئے جنگی سامان جمع کرتا رہتا ہے“

24سال کی عمر میں بھگت سنگھ کی یہ تحریریں اس سیا سی پختگی کی نشاندہی کرتی ہیں جس سے دہشت گرد یکسر عاری ہوتے ہیں۔

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -