کم عمر ڈرائیورز۔۔۔جیل نہیں ایک اور حل۔۔۔

      کم عمر ڈرائیورز۔۔۔جیل نہیں ایک اور حل۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پنجاب حکومت کی جانب سے نو عمر ڈرائیوروں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا اس پر عملدرآمد کرانے کے لئے پنجاب پولیس کے آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کے احکامات کی روشنی میں پنجاب پولیس نے نو عمر ڈرائیوروں کو جو اسکول و کالج کے وہ طالب علم ہیں جو موٹر سائیکل پر اسکول آتے جاتے ہیں،گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے اور ایک اطلاع کے مطابق اب تک 1600 سے زائد بچوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ نو عمر ڈرائیونگ کرنے والے بچے کئی حادثات کر کے کئی قیمتی جانوں سے کھیل چکے ہیں اور ان نو عمر بچوں اور انکے خاندانوں کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گاڑیاں یا موٹر سائیکل چلانے کے لئے نہ دیں۔ ہم پنجاب حکومت کے علاؤہ دیگر صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنے اپنے صوبوں میں نو عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد کر کے انکے خلاف قانونی کارروائی کریں لیکن کیا یہ سب اس مسئلے کا حل ہے کیونکہ جو بچہ ابھی دسویں جماعت کا طالب علم ہے وہ سولہ سال سے زیادہ عمر کا نہیں ہوگا اور جس کا لائیسنس بننے کی عمر بھی نہیں ہے کیونکہ لائیسنس کے لئے عمر اٹھارہ سال مقرر ہے تاہم اسکو سکول لے جانے اور واپس آنے کے لئے کوئی انتظام بھی نہیں ہے یا اس بچے کو سکول سے لانے والا کوئی بڑا بھائی یا والد نہیں ہے تو پھر ایسے میں یہ بچے اپنے معاملات کیسے چلائیں گے۔

اگر پولیس اس کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالتی ہے تو کیا ہم اس بچے کو جیل میں ایسے لوگوں کے درمیان بھیج کر کوئی غلطی تو نہیں کر رہے جس سے اس بچے کی آنے والی زندگی پر گہرا اثر پڑے گا۔جیل میں ڈالنے سے جہاں ان بچوں کا تعلیمی نقصان ہو گا وہاں جب وہ بچے جیل سے باہر آئیں گے تو منفی سرگرمیوں کی وجہ سے کسی کا آلہ کار تو نہیں بنیں گے؟یہ وہ سب باتیں ہیں جنہیں ہماری حکومت اور عدلیہ کو بھی سوچنا ہو گا کیونکہ ایک غلط کام کو روکتے ہوئے ہم کسی ایسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں کہ ہماری نوجوان نسل منفی سرگرمیوں کی طرف چل پڑے تو پھر ہم کس کس کو اس کا ذمہ دار کہیں گے۔ہمارے گھروں کی صورتحال ایسی ہے کہ والد نوکری پر گیا ہو اور اس نے شام کو واپس آنا ہو تو پھر ان بچوں کو سکول سے کون لائے گا کیونکہ عام طور پر والدین پیسے جمع کر کے یا کمیٹیاں ڈال کر بڑے بچے کو موٹر سائیکل لے دیتے ہیں جو سکول جاتے وقت ایک دو بہن بھائیوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے اور اسی کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ واپسی پر بھی ان بہن بھائیوں کو سکول سے گھر لے کر آنا ہے اور اس کے بعد والدہ نے کہیں جانا ہے تو اس وقت بھی وہی بڑا بچہ ہی موٹر سائیکل پر لے کر جاتا ہے۔

کم عمر ڈرائیور بچوں کی گرفتاریاں آنے والی نسل کو مجرم بننے کی تحریک دینے کے ساتھ ساتھ "مکمل غلام ذہن" بنانے کا موجب و محرک ہے۔سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچے گاؤں سے دو دو تین تین موٹر سائیکل پر بیٹھ کر شہر آتے ہیں گاؤں سے شہر پڑھنے کے لئے آنے والے بچے کا پانچ سے چھ ہزار کرایہ بنتا ہے ایک غریب بندہ جس کے دو تین بچے ہیں وہ اتنا کرایہ افورڈ نہیں کر سکتا۔ موٹر سائیکل ایک سستی سواری ہے جس پہ دو تین بچے آسانی سے آ جا سکتے ہیں اس طرح غریب بندے کے لیے اپنے بچوں کو پڑھانا بہت مشکل ہو جائے گا لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ بہتر تو یہ تھا کہ حکومت سب سے پہلے ان بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرتی یا طالب علموں کو سکول کی سطح پر کوئی ریلیف دیا جاتا۔

 ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں تو معاشرے کی بناوٹ اور ورکنگ کے لحاظ سے یہ بہت مشکل بات ہے کہ وہ بچہ جس کی عمر سولہ سال نہیں ہے اور سکول جانے کے ساتھ ساتھ باقی ذمہ داریاں بھی پوری کر رہا ہے تو پھر اگر اس کو صرف اس پاداش میں جیل بھیج دیا جائے کہ وہ بغیر لائیسنس کے موٹر سائیکل کیوں چلا رہا ہے تو میرا خیال ہے ہم سب اس معاشرے کا حصہ ہیں اور ہمیں اس حوالے سے مثبت پیغام اپنی حکومت اور اعلی عدلیہ تک پہنچانا چاہئیے کہ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور اگر یہ بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں یا منفی سرگرمیوں کا نشانہ بنتے ہیں تو ہمیں اس حوالے سے سوچنا ہو گا۔یہ بات حقیقت ہے کہ نو عمر بچوں کی تیز رفتاری اور غلط ڈرائیونگ کی وجہ سے ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے اور کئی گھروں کے چراغ گل ہو گئے لیکن اگر انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر سکولوں میں ان بچوں کی تربیت کر دی جائے اور تیز رفتاری کے نقصانات سے ان بچوں کو آگاہ کیا جائے تو شائد مثبت حکمت عملی سے کچھ حاصل کیا جا سکے اور معاشرے کے معاملات بھی یونہی چلتے رہیں۔ یہاں میں ایک بات کہوں گا کہ چونکہ ڈرائیونگ لائیسنس کے لئے عمر کی حد اٹھارہ سال مقرر ہے اس لئے کم عمر ڈرائیورز کو ایک عارضی لائیسنس جاری کر دیا جائے تو اس سے بھی معاملات میں آسانیاں ہو سکتی ہیں۔البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اگر ٹریفک پولیس کا کوئی اہلکار کسی بچے کو تیز رفتاری یا غلط ڈرائیونگ کرتے دیکھے تو اس کو پکڑا جائے اور اس کو جو عارضی لائیسنس جاری کیا گیا ہے اس پر ایک مہر لگا دی جائے جس پر غلطی، علاقہ، سٹرک کا نام وغیرہ درج کیا جائے اور اس دوران اس کے والدین سے رابطہ کر کے انہیں بتایا جائے کہ آپکے بچے نے فلاں چوک یا سڑک پر غلطی کی تھی اور اگر یہ غلطیاں پانچ سے زیادہ ہو جائیں تو پھر اس بچے کا عارضی لائیسنس کینسل کر دیا جائے اور پھر اسکے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے تا کہ اس دوران اس کے گھر والے بھی بچے کی غلط ڈرائیونگ سے آگاہ ہو جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -