سندھو کنارے سکندر کے ہاتھوں پورس کی ہی نہیں بلکہ وقت کے ہاتھوں معاشرے کی بھی تقدیر بدلی، تاریخ میں کتنا سچ ہے یہ الگ بات ہے

 سندھو کنارے سکندر کے ہاتھوں پورس کی ہی نہیں بلکہ وقت کے ہاتھوں معاشرے کی ...
 سندھو کنارے سکندر کے ہاتھوں پورس کی ہی نہیں بلکہ وقت کے ہاتھوں معاشرے کی بھی تقدیر بدلی، تاریخ میں کتنا سچ ہے یہ الگ بات ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:203
 سندھو کے کنارے سکندر کے ہاتھوں پورس کی ہی نہیں بلکہ وقت کے ہاتھوں معاشرے کی بھی تقدیر بدلی ہے۔ تاریخ میں جہاں کسی بات کی شہادت نہیں ملتی وہاں سنی سنائی بات توجہ چاہتی ہے۔ تاریخ کے ساتھ عجب معاملہ رہا ہے کہ اس کی 2داستانیں ہوا کرتی ہیں۔ ایک وہ جو تاریخ کی کتابوں میں رہا کرتی ہے اور دوسری جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہے۔ ان داستانوں میں البتہ کتنا سچ ہے الگ بات ہے۔قدیم دور میں سندھو پر لکھی گئی تحریریں جو ہم تک پہنچی ہیں ان میں یونانی، چینی اور رومی مورخین نے جو کچھ لکھا ہے عمدہ ہے مگر اس میں جغرافیائی معلومات بہت کم ہیں۔
یونانی سیاح”میگاس تھینیز“ جو سکندر یونانی کے ہندوستان پر حملہ کے بیس(20) سال بعد بھارت آیا، لکھتا ہے؛
”سندھو نے ایک بڑا جزیرہ ”پراسیاں“ بنا لیا ہے جبکہ ایک چھوٹا جزیرہ اور بھی ہے ”پٹالہ“۔
 اس جزیرے کے محل و وقوع کے حوالے سے ایک اور یونانی مورخ ”کرٹیکس“ بیان کرتا ہے؛
 ”مقامی راجہ کو زیر کرنے کے بعد سکندر نے یہاں اپنی فوج تعینات کی۔ اس نے بھی اس جزیرے کو”پراسیا“ کا نام دیا ہے۔ وہ سندھو کی بہت سی شاخوں کا بھی ذکر کرتا ہے۔“
 مورخ ”آریان“ کے مطابق؛
 ”سندھو کا ڈیلٹا پٹالہ کا شہر تھا اور سندھو کی دونوں شاخیں سندھو ہی کہلاتی تھیں۔اس دور میں ڈیلٹا کی سمندری حدود کیا تھیں زیادہ معلومات نہ ہیں لیکن سندھو کی بائیں شاخ ”گنجو ٹکر“ (موجودہ حیدرآباد) کے مشرق سے بہتی تھی۔ اس علاقے میں مکلی کا پہاڑی سلسلہ بھی تھا۔ سندھو مغربی پٹی سے بہہ کر ہی سمندر میں اترتا تھا۔ مکلی یا پیر مٹھو کی پہاڑیاں اس کا جنوبی سرا ہیں۔“
 اس بیان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ڈیلٹا کی حدود مکلی یا پیر مٹھو سے آگے نہ تھیں۔پیر مٹھو سے جنوب مشرق میں ڈیڑھ میل لمبا اور آدھ میل چوڑے ٹکڑے پر پہاڑیوں کا ایک سلسلہ ہے ان میں سب سے بلند پہاڑی صرف پچھتر(75) فٹ اونچی ”ابن شاہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ کھردرے ریتلے پتھروں پر مشتمل سندھو کے جنوب میں یہ آخری چٹان ہے۔ سینکڑوں سال سے سندھو پیرمٹھو اور اس کی قریبی پہاڑیوں کے درمیان سے بہہ رہا ہے اور اس کا ڈیلٹا بھی اس مقام سے چند میل ڈاؤن سٹریم شروع ہوتا ہے۔ سمندری حدود بھی اسی پہاڑی تک تھیں۔ اس جگہ دریائی مٹی کا میدان سمندر کی سطح سے ذرا بلند ہے۔ عین ممکن ہے مٹی کا یہ میدان کئی ہزار سال کی پیداوار ہو۔”گھارو“ یہاں سے دس(10) میل دور ہے۔ جگہ جگہ مٹی اور ریت کے ٹیلے ہیں جن کی اوسط بلندی سطح سمندر سے زیادہ سے زیادہ بیس (20) فٹ ہے۔“ یونانی ایک قدیم نقشے”اندو سیتھیا“ کا بھی ذکر کرتے ہیں جن میں سندھ کے بہت سے شہروں کا ذکر ہے لیکن بد قسمتی سے اس نقشے میں بیان کردہ مقامات اور جگہوں کی شناخت اب ممکن نہیں ہے۔ ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامے میں کچھ شہروں کا ذکر کیا ہے مگر شاید”ہجے درست“ نہ ہونے کی وجہ سے ان شہروں کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -